جموں // ڈوگرہ فرنٹ اور شیو سینا کے ورکروں نے زیر قیادت اشوک گپتا بدھ کے روز یہاں بجلی کٹوتی کے خلاف ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ہاتھ سے چلانے والے پنکھے (portable fans ) اُٹھا کرلے رکھے تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اشوک گپتا نے کہا کہ جمون و شکمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست کے گوررنر ستیہ پال ملک نے جموں میں موسم گرما کے دوران میٹر والے علاقوں میںکوئی بھی بجلی کٹوتی نہ کرنے کیلئے ایک حکم جاری کیا تھا ،جس کے بعد انہوںنے ایک اجلاس بھی منعقد کیا تھا ،جس میںبجلی کمشنر ہردیش کمار کے علاوہ تمام چیف انجینئر وں نے شرکت کی ،جس میں کہا گیا کہ موسم گرما میں جموں کے میٹر والے علاقوں میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی لیکن اس حکم پر کوئی عمل نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا جموں کو 1400میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے جبکہ محکمہ فقط 800-900 میگاواٹ بجلی سپلائی کرتاہے جسکی وجہ سے جموں کو 600میگا واٹ بجلی کم مہیا کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے کش گنگا پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا ،تو انہوں نے کہا تھا کہ اس پروجیکٹ سے نہ صرف ریاست بجلی میں خود کفیل ہوگی بلکہ پورے ملک کو سپلائی کرے گی۔انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ امس کی گرمی میں جموں میں بجلی کٹوتی سے لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔مظاہرین میں پرم ،راکیش، نکو، بنٹو، سنیل، نریش ،ابھیشیک،اور متعد د کارکناں بھی شامل تھے۔