جموں//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالججموں میں عالمی یومِ کینسر کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کینسر کے مریضوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔یہ پروگرام جی ایم سی جموں کی جانب سے ’’J&K Fights Cancer‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ایک دن دنیا واقعی عالمی یومِ کینسر اس خوشی کے ساتھ منائے گی کہ کینسر کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت تک ہمیں اس مرض کا بہترین ممکنہ انداز میں مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’یہ بیماری مریض کو بھی خوفزدہ کرتی ہے اور اس کے خاندان کو بھی، نہ صرف علاج اور انجام کے سبب بلکہ اس سے جڑے بھاری مالی بوجھ کی وجہ سے بھی۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کینسر کے خلاف جدوجہد میں حکومت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے تین بنیادی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ انہوں نے تحقیق و ترقی کی سرپرستی، معیاری طبی تعلیم کے فروغ اور ڈاکٹروں و آنکولوجسٹوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے مضبوط اسکریننگ نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اکثر کینسر تاخیر سے تشخیص کے باعث جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ’’ابتدائی اسکریننگ انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مہلک بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پکڑا جا سکے،‘‘ انہوں نے کہا۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر میں علاج کی مضبوط سہولیات قائم کی جا رہی ہیں تاکہ کم سے کم مریضوں کو علاج کے لیے ریاست سے باہر جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور کینسر مریضوں کے لیے مضبوط مالی تحفظ بھی حکومت کی ترجیح ہے۔بعد ازاں انہوںنے شری مہاراجہ گلاب سنگھ (ایس ایم جی ایس) ہسپتال جموں میں نئے میٹرنٹی بلاک کا افتتاح کیا۔یہ میٹرنٹی بلاک 31.59کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، جس کی عمل آوری محکمہ تعمیرات عامہ نے کی۔ کثیر منزلہ عمارت میں جدید زچہ و بچہ نگہداشت سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔بلاک کے گراؤنڈ فلور پر 50بستروں کے ساتھ کریٹیکل کیئر اور ڈیلیوری سہولیات، پہلی منزل پر 24بستروں پر مشتمل آپریشن تھیٹر کمپلیکس، جبکہ دوسری اور تیسری منزل پر بالترتیب 84، 84 بستروں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔نئے بلاک میں جدید لیبر رومز، پانچ آپریشن تھیٹرز، ایک ایمرجنسی او ٹی، این آئی سی یو وارڈز، ریکوری ایریاز اور دیگر معاون سہولیات شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور عملے سے بات چیت کر کے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔