رئیس یاسین
ہماری زندگی کبھی بھی پرفیکٹ نہیں ہو سکتی، چاہے ہم کتنا بھی ہاتھ پیر ماریں۔اُدھار کی یہ زندگی ہمارے لئے کچھ دنوں کی عارضی رہ گزر ہے،اس لئے اسی چند روزہ عارضی زندگی کوآخرت کی کھیتی سمجھ کر توشہ ٔ آخرت کی فکر بھی کرنی چاہیے ۔ غور کیجئے،اگر ہم زندگی میں محض دنیاوی معاملات کو ہی ترتیب پر چلنے پر زور دیں گے تو آخرت کے لیے ہمارے لئے کیاکچھ بچ پائے گا؟ اس دنیا میں ہمارے سارے مطالبات ہمارے منصوبے کے حساب سے نہیں چلیں گے۔اس لئے ہمیں کئی چیزوں کے نہ ملنے یا ان چیزوں کے حاصل نہ ہونے پر غم زدہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ربّ کی منشا پر راضی رہنا چاہئےاور آخرت کی زندگی کو ہر وقت نظر میں رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے، اس اُمید کے ساتھ کہ جو چیزیں ہمیں اس دنیا میں نہیں ملیں، وہ آخرت میں ضرور ملیں گی۔ یہ دنیا قلیل ہے، یہاں ہر کسی کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی ۔ دنیاوی اعتبار سے جتنا کچھ ملے ،اُس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گذار رہنا چاہئے۔ تجربات و مشاہدات اس بات کےگواہ ہیں کہ جن لوگوں کو دنیا میں مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُنہیں اِس دنیا میں آرام وسکون بھی ملا ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء کرامؑ کے واقعات بالکل واضح ہیں کہ اُن پر کس طرح سے مصائب آتے رہے، اُنہیں کن کن امتحانات سے گذرنا پڑا ، اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئےآسائش و آرام کے سامان بھی مہیا کردیئے۔
حضرت نوحؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت ایوبؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت ابراہیمؑ کو کیسے کیسےتکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو ان کی قوم سے نجات دلا دی۔ حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے آزادی دلائی۔ حضرت ابراہیم ؑکے لیے آگ گلزار بنادی اور حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے نجات عطا ہوئی۔حضرت نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہمیں علم ہے کہ آپ ؐ کو مکی زندگی میں کتنے مصائب و آلام برداشت کرنے پڑے،یہاں تک کہ آپؐ کو ہجرت کے لئے مجبور ہوجانا پڑا ، پھر مدنی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے راحت کا ساماں پیدا ہوئے اور پھر فتح مکہ کے بعد سارا عرب آپؐ کے قدموں میں سرنگوں ہوا۔ یاد رکھئے کہ دنیا کی اس عارضی زندگی میں انسان کے لئےخوشی اور غم لازم و ملزوم ہیں،دنیا میں ہر انسان کی زندگی میں کبھی خوشی اور کبھی غم آتے رہے ہیں اورآتے رہیں گے۔ یہ دونوں صورتیں انسان کے لئے آزمائش ہوتی ہیں کہ وہ خوشی کے وقت کیا کرتا ہے اور غم کے موقعے کیا کرتا ہے۔ اگر خوشی ہے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے ؟اور اگر غم ہے تو صبر کا دامن تھام لیتا ہے؟ خوشی یا غم میں بھی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی ،اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے رہے،یا اگر گناہ سرزد بھی ہوئے ہوں،اُن سے توبہ کرکے نیکی کی راہ اختیار کی ہو گی، اُن کے لئے ختم نہ ہونے والے انعامات ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا نے کسی سے وفا نہیں کی ہے، یہاں پر کتنے بادشاہ آئے، کتنے نمرود آکر مٹ گئے، فرعون، قارون خوار ہوئے، جنہوں نے اپنی دورِ بادشاہت میں نام نہاد خدائی کا دعویٰ کرکےلوگوں پر ظلم و ستم ڈھائے،دولت کے انبارجمع کئے،پھر بھی خدا کے منکر بنے رہے، تو ان کا انجام کیا ہوا، نہ صرف اس دنیا میں ناکام رہے بلکہ اپنی آخرت کو بُرباد کرتے چلے گئے۔اس کے برعکس اللہ کے پیارے بندے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اور پیغمبروں کی تعلیمات پر عمل کیا اور اُن کے احکامات پر کار بند رہے،وہ ہر معاملےمیں کامیاب رہے ۔جنہوں نےاس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی زندگیاں صرف کیں، وہ بھی دونوں جہانوں میں کامیاب ر ہے ۔ دنیا کے مختلف فتنے ایک نیکی کے راستے پر چلنے والے انسان کو ہر وقت دنیا کی طرف کھینچتے ہیں۔ مختلف اوقات میںانسان کے لئے مختلف ترجیحات ہوتے ہیں۔ یہی ترجیحات انسان کے لئے ایک فتنہ بن جاتا ہے اگر یہ انسان دنیاوی ترجیحات میں گم ہو جائے اور آخرت کو بھول بیٹھے ، تو اس کو دنیاوی اعتبار سے کامیابی حاصل تو ہوگی، کچھ وقت تک سکون بھی محسوس ہو گا۔ لیکن وہ تب تک دائمی سکون سے قاصر رہے گا جب تک وہ اعمال صالح نہ اپنائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیامیں ہم ہر اعتبار سے اچھے دکھائی دیں، اچھا کھانا، اچھا پہننا،اچھاگھر ، اچھی گاڑی ہو، اسلام ان چیزوں سے ہمیں قطعی نہیں روکتا ہے۔لیکن ہم آخرت کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے کہ قبر ہے، موت ہے، جنت اور جہنم ہے،اور اس کے لئے کوئی بھی تیاری نہیں کرتےہیں۔ہاں! ہماری پلانگ میں صرف دنیا ہی دنیا ہے۔ کبھی ہم نے اپنے اعمال کا جائزہ لیا، کبھی ہم نے اپنے گناہوں پر پشیمانی ظاہر کی۔ نہیں،باکل نہیں۔ ہماری سوچ اور فکر تو ہر وقت دنیاوی اسباب ،اور دنیاوی آرائش و آرام کی حصولیابی کے لئے ضائع ہوجاتی ہے اور پوری زندگی بے مقصد گذر جاتی ہے۔ ہمیں توہر وقت دنیاوی کامیابی وناکامیابی کا خیال تو رہتا ہے اور اس کے لئے تو ہم اپنے دین و ایمان تک کو بھول جاتے ہیں ،سچ اور جھوٹ میںفرق نہیں کرتےہیں ،جائز و ناجائز اور حق و ناحق میں تمیز کرنا تک چھوڑ جاتے ہیں ،یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سے بالآخر ہماری آخرت کے کیا حال ہوگا۔ اس کے برعکس جب کبھی دنیا میں ہم پر کوئی مصیبت یا کوئی مشکلات آن پڑتی ہے تو فوراً ہمیں اللہ تعالیٰ یاد آ جاتا ہے۔ جیسے ہی اللہ تعالیٰ ہمیں ان مشکلات سے چھٹکارا دلاتا ہے،تو ہم پھر سے ویسے ہی ہوجاتے ہیں جیسے پہلے ہوتے ہیں۔ اس عارضی چند روزہ زندگی کے گناہ،جہاں انسان کے لئے یہاں مسلسل پریشان اور بدنامی کا باعث بنتے ہیں ،وہیں آخرت کے دن بھی یہی گناہ انسان کے لئے پشیمانی کا باعث بنیں گے۔ زندگی بہت کم اور قلیل مدت کی ہے ،اس زندگی میں چاہے غم ہو یا پریشانی ، اللہ تعالیٰ کو راضی رکھنا لازم ہے اور پھر آخرت میں نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا مزا چکنا ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے ایک بار یہ بات ضرور پوچھنی چاہیے کہ ہم دنیا میں کس لئے آئے ہیں یا لائے گئے ہیں؟ ہماری زندگی گزارنے کا کون ساطرزِ عمل ہونا چاہیے تھا ،ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟ دین اسلام ہمیں ان چیزوں سے ہرگز نہیں روکتا ،جن سے ہم دنیا میں ترقی حاصل کرسکیں،مگر کیسے،کن قواعد وضوابط اور اصول و احکامات کے تحت ۔اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
7006760695 … [email protected]>