جموں //کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کی متاثرہ بچی کے والدکٹھوعہ سیشن کورٹ میں پیش ہوئے اور وہاں بیان درج کروایا ۔ 500صفحات پر مشتمل کرائم برانچ کی طرف سے پیش کردہ چارج شیٹ میں 200سے زائد گواہ بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک اہم ترین گواہ مقتولہ کا والدہے ، عدالت میں پیش ہوتے ہی سب سے پہلے جج نے اس سے سوال کیا کہ ’کیا وہ تمہاری بیٹی تھی؟‘۔ تو اس کے جواب میں گواہ نے کہا کہ مقتولہ اس کی ہی بیٹی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ 8سالہ بچی کی ولدیت کے بارے میں متضاد باتیں سامنے آتی رہی ہیںاور کہا جاتا رہا ہے کہ بچی کے والدین کوئی اور تھے اور وہ رسانہ کے جس کنبہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی اس نے اسے اپنے طور پر متبنیٰ بنایا ہوا تھا ۔ مقتولہ کے والد کو بچی کی ضبط شدہ چیزیں بھی شناخت کے لئے دکھائی گئیں۔ ایک وکیل صفائی نے رازداری کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گواہ کا بیان بدھ کے روز مکمل نہ ہو سکا اوریہ جمعرات کو بھی جاری رہے گا، بیان کی تکمیل کے بعد وکلاء صفائی کی طرف سے اس پر جرح شروع ہو گی ۔ دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ کرائم برانچ کے ضبط شدہ چیزیں ایک کھلے پالیتھین لفافہ میں پیش کیں جس پر وکلاء صفائی نے کڑا اعتراض جتایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کئے گئے دو لفافے سر بمہر تھے جب کہ بچی کا سامان ایک کھلے لفافہ میں پیش کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل سسٹم کے مطابق تمام ضبط شدہ سامان باضابطہ طور پر سیل کیا گیا ہونا چاہئے ۔وکیل صفائی نے بتایا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے آج زبانی اعتراض ظاہر کیا تھا اور کل وہ اسے تحریری طور پر عدالت میں سونپیں گے۔