کِم اشیائے خوردونوش کی قلت کا اعتراف کیا

پیانگ یانگ// شمالی کوریا اشیائے خورد و نوش کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا۔سی این این نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، مسٹر کم نے اپنے خطاب کا زیادہ تر حصہ ملک میں زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت پر مرکوز کیا۔ تاہم انہوں نے اشیائے خوردونوش کی قلت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے کسی رہنما نے خوراک کی کمی کا اعتراف کیا ہو۔اپریل کے شروع میں، شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے رپورٹ کیا کہ مسٹر کم نے ایک اعلیٰ سطحی سیاسی اجلاس سے خطاب کے دوران 1990 کی دہائی کے اوائل میں تباہ کن قحط کے دور کا حوالہ دیا اور شہریوں سے مشکل وقت کا سامنا کرنے کی اپیل کی۔وہیں مسٹر کم نے جون 2020 میں کہاتھا کہ ملک طوفان اور سیلاب کی وجہ سے خوراک کے شدید بحران کے حالات کا سامنا کررہا ہے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خوراک اور زرعی تنظیم (ایف اے او) نے جون 2020 میں ہی اندازہ لگایا تھا کہ شمالی کوریا کے پاس تقریباً 860000 ٹن سے بھی کم اشیائے خوردونوش ہیں جو دو مہینے کی سپلائی کیلئے کافی ہے۔(یواین آئی)