کوہلی کا کیچ ڈراپ ہونے پر ہار کا یقین ہوگیا تھا: عامر

 نئی دہلی//پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا ہے اس سال آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں جب ان کے فیلڈرز نے ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی کا کیچ چھوڑ دیا تھا تو انہیں ایک لمحے کے لئے یقین ہو گیا تھا کہ اب وراٹ میچ پلٹ دیں گے اور پاکستانی ٹیم جیتنے کے قابل نہیں ہو گی۔ وراٹ کے شیدائی مانے جانے والے عامر اکثر و بیشتر وراٹ کوہلی کی تعریف کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وراٹ ایسے کھلاڑی ہیں جو حریف ٹیم کو زیادہ موقع نہیں دیتے ہیں ۔ اس سال لندن میں آئی سی سی چمپیئنز ٹرافی میں، اظہر علی نے ہندستان اور پاکستان کے درمیان فائنل میں تیسرے اوور کی تیسری گیند پر وراٹ کا کیچ ڈراپ کردیا تھا ۔ تاہم اس کے بعد عامر نے اگلی گیند پر وراٹ کو آؤٹ کردیا ۔ چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں وراٹ کوہلی کا کیچ ڈراپ ہونے کے باوجود اگلی ہی گیند پر دوبارہ آؤٹ کرنے کے حوالے سے سوال پر عامر نے کہا کہ ان دو گیندوں نے برطانیہ میں میری ساکھ ہی بدل کر رکھ دی، کیچ ڈراپ ہونے کے بعد اگلی گیند پر کوہلی کا دوبارہ آؤٹ ہونا بڑی کامیابی تھی کیونکہ ہم وہیں پر 60سے 70فیصد میچ جیت چکے تھے کیونکہ ہندستانی ٹیم کوہلی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے ۔ عامر نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کیچ چھوٹا تھا تو مجھے لگا کہ آدھا میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ مجھے فوراً ہی فخر زمان کا نوبال پر آؤٹ ہونا یاد آیا جنہوں نے اس کے بعد سنچری بنا دی تھی لیکن شکر ہے کہ کوہلی اگلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے ۔ فاسٹ بالر نے کہا کہ انڈیا اور آسٹریلیا کے خلاف کھیل کر ہمیشہ ہی کچھ خاص کرنے کا دل کرتا ہے کیونکہ یہ دونوں دنیا کی انتہائی مشکل ٹیمیں ہیں جبکہ ہندستان کے خلاف کھیلتے ہوئے تو ہماری باڈی لینگویج ہی مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر ہم نے یہاں پرفارم کیا تو دنیا میں ایک الگ ہی امیج جائے گا اور بحیثیت کھلاڑی اہمیت بھی بہت بڑھ جاتی ہے ۔ کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے فاسٹ بالر محمد عامر نے کہا کہ بحیثیت بالر اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں، پانچ سال بعد کم بیک کیا اور تینوں فارمیٹس اور لیگ کھیل رہا ہوں کیونکہ پانچ سال میں کوئی کرکٹ نہیں کھیلی جبکہ فرسٹ کلاس میں بھی بمشکل پانچ میچ کھیلے تھے تو اس لحاظ سے تو میں اپنی کارکردگی سے بہت حد تک مطمئن ہوں۔یاد رہے کہ 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی اور انہوں نے گزشتہ سال عالمی کرکٹ میں واپسی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں نے پانچ سال کرکٹ کے میدانوں سے دور رہنے کے باوجود ٹیم میں واپسی پر اپنی فٹنس کو برقرار رکھا اور سال میں پاکستان کی جانب سب سے زیادہ اوورز کرانے والے بالرز میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اس دوران تھوڑا بدقسمت بھی رہا کہ میری گیند پر کیچ بھی ڈراپ ہوئے لیکن کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری کارکردگی متوازن رہی۔(یو این آئی)