سرینگر// ضلع اننت ناگ میں 41سال قبل اخروٹ کی صنعت سے وابستہ افراد کے لئے ایک فیکٹری کا قیام عمل میںلاکر لاکھوں روپے ابتدائی طور خرچ کئے گئے جس کے بعد فیکٹری پر کام ادھورا چھوڑا گیا ۔ کوکرناگ سے محض 3 کلومیٹر کی دوری پر واقع ذلنگام میں محکمہ ہارٹیکلچر پروڈوس مارکیٹنگ کارپوریشن (HPMC) نے 1980 میں اخروٹ کی صنعت سے وابستہ لوگوں کو سہولیت پہچانے کی غرض سے فیکٹری قائم کی تھی جس کی ابتدائی تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے۔ تاہم چار دہائیاں گزرنے کے باوجود فیکٹری پر کام مکمل نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔لو گوں کے مطابق فیکٹری کے قیام سے قبل مذکورہ علاقے کے نوجوان اس جگہ کو کھیلنے کے لئے استعمال کرتے تھے اور اب کھیل کا میدان نہ ہونے کے باعث علاقے کے نوجوانوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہارٹیکلچر پروڈوس مارکیٹنگ کارپوریشن (HPMC) کے منیجنگ ڈائریکٹر شفاعت سلطان نے بڑے تعجب سے کہا کہ انہیں زمینی حقائق کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیکٹری چالیس سال قبل تعمیر کی گئی ہے جبکہ وہ گزشتہ ایک سال سے ایم ڈی کی کرسی پر سرینگر کے دفتر میں فائز ہے۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔کے این ایس