محمد بشارت
کوٹرنکہ//ضلع راجوری کے سب ڈویژن کوٹرنکہ کے دیہی علاقے سموٹ میں واقع نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ یہاں گزشتہ تقریباً 15 برسوں سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی عدم تعیناتی کے باعث مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی افراد کے مطابق اس ہیلتھ سنٹر میں صرف ایک میڈیکل اسسٹنٹ تعینات ہے، جبکہ ڈاکٹر کی نشست طویل عرصے سے خالی پڑی ہے۔ نتیجتاً معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی لوگوں کو دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔علاج کے لیے آئے ہوئے مریضوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کر کے اس عمارت کو تعمیر کیا گیا، لیکن بنیادی سہولت یعنی ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باعث اس کا کوئی خاص فائدہ عوام کو نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ مرکز محض ایک عمارت بن کر رہ جائے گا۔
مقامی نوجوان تنصیر خان نے بلاک میڈیکل آفیسر کنڈی ڈاکٹر ونود کمار بٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عمارت کی خستہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے گراؤنڈ فلور کی مرمت کے لیے فنڈس فراہم کیے، جس کے نتیجے میں اس کی حالت بہتر ہوئی۔ مزید برآں، فرسٹ فلور کی چھت پر لینٹر بھی ڈالا جا چکا ہے، تاہم اس حصے کی تکمیل کے لیے مزید فنڈس کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کا پلستر ہو سکے اور عمارت مکمل طور پر قابل استعمال بن سکے۔تنصیر خان نے بتایا کہ ڈاکٹر کی تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے جموں کشمیر گریوینس سمدھان پورٹل پر شکایت درج کرائی تھی، جس کے جواب میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں نے چیف میڈیکل آفیسر کو ہدایت دی تھی کہ اس سنٹر میں روٹیشن کی بنیاد پر ڈاکٹر تعینات کیا جائے تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ حکام ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر عوام کو نظر انداز کر رہے ہیں، جبکہ سی ایم او کا دفتر بھی فون کالز کا جواب نہیں دے رہا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افسران ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور عوام کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔علاقے کے عوام نے ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کا نوٹس لیں اور فوری طور پر ڈاکٹر کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف طبی عملہ تعینات کیا جائے بلکہ عمارت کی مکمل مرمت اور فرسٹ فلور کی تکمیل کے لیے بھی فنڈس جاری کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔