کووڈ اور معاشی بحران

ماہرین اقتصادیات روز اول سے کہہ رہے تھے کہ کورونا عالمی معیشت کو لے ڈوبے گا اور فی الوقت ویسی ہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ پوری دنیا کا معاشی نظام لرزہ براندام ہوچکا ہے ۔ہمارا ملک چونکہ ابھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہی شامل ہے تو یہاں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہونا طے تھا اور وہی کچھ ہوا بھی لیکن اس کے باوجود سرکار نے اپنی طرف سے عوام کو راحت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔سرکاری سیکٹر میں کھپت میں اضافہ کا رجحان اس عرصہ کے دوران جو دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ دراصل اس مدت کے دوران سرکار کی جانب سے معمول سے زیادہ صرفہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس مدت میں سرکار کو نہ صرف طبی نظام کو اَپ گریڈ کرنے پر زر کثیر صرف کرناپڑا بلکہ عوامی راحت رسانی کے کاموں پر بھی کھربوں روپے خرچ کئے گئے جن میں مفت چاول اور گیس کی تقسیم بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے اس محاذ پر جو سرکاری اقدامات کئے گئے ،اُن سے بھی خزانہ عامرہ پر بوجھ پڑ گیا اورجو سرکاری کھپت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ ایسے ہی فلاحی اقدامات کا مرہون منت ہے ۔
 یہ ساری صورتحال بیان کرنے کامقصد دراصل عوام کو اس تلخ حقیقت سے روبرو کرا نا ہے کہ کورونا نے سارے معاشی نظام کو تلپٹ کرکے رکھدیا ہے اور یہ وقت ہے کہ ہم امید کادامن نہ چھوڑیں اور ذمہ دار شہریوں کی برتا ئو کرتے ہوئے اس وبائی بحران سے خلاصی پانے میں حکومت کی مدد کریں تاہم یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے اور نہ ممالک یا ریاستیں اپنی سطح پر کووڈ کے نتیجہ میں پیدا شدہ معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں۔کچھ چیلنجوں کا مقابلہ صرف اُسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب عالمی سطح پر متحدہ رسپانس ہو۔ اگر خطے، ممالک اور ممالک کے اندر صوبے اور ریاستوں کو ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔کووڈ وبائی بحران کے معاشی نتائج یقینی طور پر اتنی شدت کا ایک چیلنج ہیں کہ اگر تمام ممالک تمام بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام نہیں کریں گے تو یہ بہت سے ممالک کی معیشتوں کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔یہ صرف درمیانی درجے کی معیشتوں یا غریب ممالک کو بچانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اس سے بھی آگے کا مسئلہ ہے۔ جس طرح سے کووڈ۔19 نے دنیا بھر میں معیشتوں کو تباہ کیا ہے، اور جس طرح سے تمام ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے یہ امکان پیدا گیا ہے کہ لوگ اب اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کے انداز کو بدل سکتے ہیںاور یہیں سے خطرہ شروع ہوتا ہے۔ اگر وسیع پیمانے پر مایوسی پیدا ہوگی اور نظام حکومت اور اقتصادی تنظیموں کے خلاف دنیا بھر میں ناراضگی پیدا ہوگی تو اس کا اثر بہت سے ممالک کے سیاسی استحکام پریقینی طور پر پڑے گا۔اور ایسی صورت میں اس کے بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک افریقی عرب ملک میں اُس وقت بدامنی کی لہر شروع ہو گئی جب ایک چھاپڑی فروش نے خود کو آگ لگا دی۔
تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب معاشی بدحالی کے شکار لوگوں نے ہلچل مچا دی ہو۔ اس کی دوسری جہت یہ ہے کہ کوئی بھی معاشی پریشانی اور تاریک مستقبل کا احساس جرائم کے لئے ایک مثالی افزائش گاہ ہے۔کووڈ کے بعد کی دنیا میں اگر لوگوں کو امید نہ دلائی جائے اور اُن کی معاشی بہبود کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ جرائم کا سہارا لے سکتے ہیں اور اگر ہمارے ہاں جرائم عالمی سطح پر منظم ہونگے تو یہ کوئی معمولی بحران نہیں ہوگا۔تیسرا، صحت پر ایسی صورتحال کا اثر ہے۔ ہم نے پہلے ہی ذہنی صحت کے معاملات میں تیزی سے اضافہ دیکھا ہے۔ لوگ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں اور یہ تناؤ صحت سے متعلق سو مختلف مسائل کو جنم دیتا ہے۔جیسے جیسے دن گزرتے جائیں گے اور جیسے جیسے مہینے برسوں میں بدلتے جائیں گے اوراگراس دوران لوگوں کا معاشی مستقبل تاریک رہتا ہے تو یہ دنیا بھر کے لوگوں کی ذہنی صحت کے لئے ایک تباہ کن منظرہوگا۔
لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ڈوبتی ہوئی معیشتوں کو بچانے کے لئے عالمی سطح پر کچھ مداخلت کی جائے اور دنیا بھر میں کاروبار، خدمات، صنعت اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لئے امید پیدا کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ چونکہ صد فیصد ٹیکہ کاری میں ابھی بہت وقت لگے گا ۔فی الوقت احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی ہمیں اس آفت سے بچاسکتا ہے اور یہ احتیاطی تدابیر اس قدر آسان ہیں کہ ان پر اتنا خرچہ بھی نہیںہے اور آسانی سے عمل بھی کیاجاسکتا ہے۔وقت آچکا ہے جب ہمیں ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرنا چاہئے کیونکہ کورونا کی تیسری لہرنے ہم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور حالات قطعی بہتر نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔اب گیند عوام کے پالے میں ہے اور عوام کو ہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیںتاہم امید یہی کی جاسکتی ہے کہ عوام شر پر خیر کو ترجیح دینگے جس سے حکومت کا کام بھی آسان ہوسکتا ہے اور کوروناوبا سے نڈھا معیشت کو بھی واپس پٹری پر لانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ رسپانس کی ضرورت ہے اور اسکے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔