شوپیان+کولگام//کولگام//کشمیرصوبے میں کووِڈ- 19کی وجہ سے پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مضبوط نظام موجود ہے۔اس بات اکااظہار صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے کولگام اور شوپیان اضلاع کے دورے کے دوران کیا۔ انہوں نے کورونا کے متاثرین کے لیے کے گئے انتظامات اور آکسیجن پلانٹ کا بھی جائزہ لیا۔کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے اگرچہ ملک بھر میں آکسیجن کی قلت پائی جا رہی ہے، وہیں ہرضلع میں ضلع انتظامیہ نے مختلف ہسپتالوں میں آکسیجن پلانٹ قائم کر وائے ہیں۔کورونا کے پیش نظر ضلع ہسپتال شوپیان کی نئی عمارت کو کووِڈ ہسپتال میں تبدیل کیا گیا ہے، یہاں کچھ روز قبل ہی کووِڈ مثبت مریضوں کے لئے 1000 لیٹر فی منٹ (ایل پی ایم) آکسیجن پلانٹ کا افتتاح کیا گیا تھا، اسی آکسیجن پلانٹ کا سنیچروارکو ڈویژنل کمشنر کشمیر نے مزید جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے شعبہ صحت کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اس آکسیجن پلانٹ کے ذریعے متاثرہ مریضوں کو بہتر سہولیات پہنچانے میں اپنا کلیدی رول نبھائیں۔ اسکے علاوہ ڈویژنل کمشنر نے منی اسکٹریٹ آرہامہ شوپیان کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے کووڈ 19 کنٹرول کا جائزہ لیا۔اس دوران انہوں نے بتایا کہ شوپیان ضلع میں 45 عمر سے زائد 97 فیصد لوگوں نے کووڈ ٹیکہ لگایا ہے جو بہت ہی اچھی بات ہے اور اسی وجہ سے ضلع میں کووڈ 19 کے مثبت کیس بہت ہی کم ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع شوپیان میں کووڈ 19 کی دوسری لہر میں ابھی تک چار لوگوں کی موت ہوئی ہے جنہوں نے کووڈ ویکسین نہیں لگایا تھا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان سچن کمار، ڈائریکٹر ہیلتھ مشتاق احمد، چیف میڈیکل افسر شوپیان ارشید حسین ٹاک، ایس ایس پی شوپیان امرت پال سنگھ، نوڈل آفسر کووڈ 19 جاہد آزاد، تحصیلدار شوپیان بلال احمد اور دیگر کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ادھر کولگام کے دورے کے دوران صوبائی کمشنر نے کووِڈ کنٹینمنٹ علاقوں کا دورہ کیااور وہاں موقعہ پر ہی طبی اور دیگر سہولیات کاجائزہ لیا۔ان کے ہمراہ ضلع کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ ،ناظم صحت کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد،ایس ایس پی کولگام گریندرسنگھ اور دیگرافسراں تھے۔دورے کے دوران صوبائی کمشنر نے ضلع میں صحت کے ڈھانچے کا مکمل جائزہ لیااس کے علاوہ ضلع اسپتال میں آکسیجن دستیابی کابھی جائزہ لیا۔انہوں نے ضلع اسپتال کولگام میں نئے نصب کئے گئے آکسیجن پلانٹ کا بھی معائنہ کیااوراس کے کام کاج کودیکھا۔انہوں نے صحت محکمہ
کے حکام پرزوردیاکہ وہ اکسیجن سپلائی کو منصفانہ طور استعمال کریں اور ہدایت دی کہ اضافی300لیٹر فی منٹ کے آکسیجن پلانٹ کو تین روز کے اندر قابل کار بنایا جائے۔
کووِڈ-کی نشاندہی کیلئےCTاسکین اہم | RATاورRT-PCRمیں سبھی مریضوں کاپتہ نہیں چلتا:ڈاک
سرینگر// ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ سی ٹی ا سکین کووِڈ- 19کی نشاندہی کا ایک موثر ذریعہ ہے جبکہ آر ٹی، پی سی آر اور ریپڈٹیسٹنگ سے کووِڈ کے کئی مریض چھوٹ جاتے ہیں لیکن سی ٹی اسکین سے ایسے افراد کے کووِڈ میں مبتلاء ہونے کی نشاندہی ہوجاتی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے ہفتے کو کہا کہ کووڈ 19 معاملات کی شدت اور اس کا اندازہ لگانے کے لئے سینے کا سی ٹی اسکین ایک مؤثر ذریعہ ہے۔مزید کووڈ کیسز کا پتہ آر ٹی پی سی آر کے مقابلے میں سینے کے سی ٹی اسکین سے زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ہم بہت سے مریضوں کو دیکھتے ہیں جن کاآر ٹی پی سی آر ٹیسٹ منفی آتاہے لیکن سی ٹی اسکین ان کی بیماری کو ظاہر کرتاہے۔ کووڈ 19 بیماری کے ساتھ بہت سے متاثرہ مریضوں کی اطلاع نہیں ملتی ہے کیونکہ آر ٹی پی سی آرمیں صرف شدید مریضوں کا ہی پتہ چلتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس مریضوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو سی ٹی اسکین کے ذریعے مثبت ثابت ہوتے ہیں ، لیکن ان کی اطلاع نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی ، پی سی آر ، جو کوڈ19 انفیکشن کا پتہ لگانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ،سے صرف 60سے 70فیصد مریضوں کا پتہ چلتا ہے جس کا مطلب ٹیسٹ میں 30 فیصد سے زیادہ مثبت معاملات چھوٹ جاتے ہیں۔جبکہ ریپڈٹیسٹنگ سے 50فیصدی ہی مثبت معاملات سامنے آتے ہیں ،اس سے پچاس فیصدی کووڈ پازیٹیو سامنے نہیں آتے جس کی وجہ سے وائرس زور زیادہ پھیلنے کا اندیشہ بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ صحت مند آبادی سے الگ نہیں ہوتے اور یہ افراد معاشرے میں اس بیماری کو پھیلاتے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہامطالعے سے پتا چلا ہے کہ سی ٹی اسکین میں مثبت سنجیدگیوں کا پتہ لگانے کے لئے 86سے 98فیصدی حساسیت پائی جاتی ہے ۔ جبکہ لیب ٹیسٹ کے مقابلے میں منفی شرح کم ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ نہ صرف کووِڈ کے معاملات کی نشاندہی کرنے میں سی ٹی مفید ہے بلکہ اس سے ہمیں اس بیماری کی شدت کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے اور کووڈ مریضوں میں موت کے خطرے کو کم کرنے اور جانیں بچانے میں مدد کرتا ہے ۔