کووِڈ ٹیکہ کاری…اپنی باری تک صبر کرتے رہیں

 ملک میں کورونا ٹیکہ کاری کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ19 سے بچاؤ کے لئے کورونا ویکسین کی خوراک لی۔ وزیراعظم مودی پیر کی صبح آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزپہنچے جہاں انہیں بھارت بائیوٹیک کی جانب سے تیار کردہ ’کوویکسین ‘کی پہلی ڈوز دی گئی ۔وزیر اعظم نے خود ٹویٹ کرکے اس کی اطلاع دی اور کورونا مخالف مہم میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی اور کہاکہ ہمیں مل کر ملک کو کورونا سے مبرا بنانا ہے۔ واضح رہے کہ آج سے کورونا کی روک تھام کے لئے ملک میں ٹیکہ کاری کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور مختلف امراض میں مبتلا 45 سال سے کم عمر کے لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں طبی اہلکاروں اور فرنٹ لائن ورکروں کو ٹیکے لگائے گئے تھے۔اس مہم کا مقصد دراصل ملک کے ہر فرد کو کورونا ٹیکہ لگا کر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بھارت کورونا سے محفوظ رہے ۔حکومت نے اس حوالے سے پہلے ہی اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں۔پہلے دو مرحلوں میں اُن لوگوںکو کووڈ ٹیکے لگا ئے گئے جو کورونا مخالف جنگ میں صف اول کے سپاہی تھے اور اُن کے متحرک تعاون کے بغیر کورونا مخالف جنگ جیتی نہیںجاسکتی تھی تاہم اب رفتہ رفتہ عام لوگوںکو ا سکے دائرے میں لانے کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے اور اس ضمن میں شروعات سماج کے اُن طبقوں سے کی گئی ہے جو یا تو عمر کی وجہ سے ضعیف ہیں یا پھر مہلک امراض میں مبتلا ہیں۔ظاہر ہے کہ بزرگ شہریوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور یہی حال مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کا ہوتا ہے ۔تو کورونا ٹیکہ کاری کے تیسرے مرحلہ میں ان تک پہنچ کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک کے معمر شہری اور مریض کورونا ویکسین کی عدم موجودگی کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار نہ جائیں۔کووڈ ٹیکہ کاری کا یہ مرحلہ بھی پہلے دو مرحلوںکی طرح کامیابی سے ہمکنار ہوجائے گا تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے دیں۔ملک میں گزشتہ کچھ عرصہ سے جس طرح کورونا کی ایک اور لہر نے جنم لیا ہے ،وہ تشویشناک ہے اور یقینی طور پر نہ صرف حکومت اس لہر کو لیکر متفکر ہوچکی ہے بلکہ عوام میں بھی خدشات پائے جارہے ہیں جو جائز بھی ہیں تاہم عوامی رویہ اُس طرح کا نہیں ہے جیسا ہونا چاہئے کیونکہ بحیثیت مجموعی دیکھا جاسکتا ہے کہ عوام کورونا کو لیکر لاپرواہ ہوچکی ہے اور اُن احتیاطی تدابیر پر عمل نہیںکیا جارہا ہے جو کورونا کے بچائو میں ناگزیر ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے کووڈ۔19رہنما ضوابط پر عمل پیرا رہنے کی پُر زور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپر واہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وائرس ہمارے درمیان ابھی بھی موجود ہے اور ذرا سی لاپرواہی بھاری پڑسکتی ہے۔ وزیراعظم مودی دراصل اُس عوامی لاپرواہی کی جانب اشارہ کررہے تھے جس کا مظاہرہ آج کل پورے ملک میں عوامی سطح پر کیاجارہا ہے ۔فیس ماسکوں کا استعمال تقریباً ختم ہوچکا ہے ،جسمانی دوریوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے اور سڑکوں و بازاروں سے لیکر کاروباری و تجارتی مراکز ،ٹرانسپورٹ اور دفاتر غرض ہر جگہ بھیڑ بھاڑ پھر دیکھنے کو مل رہی ہے جو کوئی اچھی علامت قرار نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ کورونا انسانی سماج میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکا ہے اور یہ لاپرواہی ا سکو پھر سر ابھارنے کا موقعہ فراہم کرسکتی ہے ۔وزیراعظم مودی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ لاک ڈائون اگر چہ ختم ہوچکا ہے تاہم وائرس ختم نہیںہوا ہے ۔بلا شبہ معاشی سرگرمیاں پھر زور پکڑ نے لگی ہیں اور معمولات زندگی کافی حد تک بحال ہوچکے ہیں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم لاپرواہ بنیں اور اپنے اور اہل خانہ کے علاوہ عام لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنیں۔  جہاں تک جموںوکشمیر کاتعلق ہے تو یہاں بھی حالات ملک سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔گوکہ یہاں بھی کورونا معاملات میں بتدریج کمی آرہی ہے تاہم عوامی رویہ مایوس کن ہی ہے ۔یہاں کے لوگ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ کورونا جا چکا ہے اور اب گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کورونا بالکل ہمارے بیچ ہی موجود ہے ۔ لوگ بے پرواہ ہوچکے ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ لوگ بے فکری کے عالم میں اب ماسک کا بھی استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے، زیادہ تر لوگ اب بغیر ماسک کے ہی گھومتے پھرتے رہتے ہیں جبکہ سماجی دوری کا کہیں نام و نشان تک نہیںدکھائی دیتا۔طبی ماہرین اور وزیراعظم کی باتوں میں یکسانیت نظر آرہی ہے اور دونوں کا موقف کم وبیش یکساں ہے۔بلاشبہ ہم ایک انتہائی نازک مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کل تک ہمارے پڑوس پاکستان میں کورونا تقریباً ختم ہوچکا ہے لیکن آج وہاں کورونا بھیانک روپ میں دوبارہ سر ابھار چکا ہے اور اس کی وجہ بھی اُن وجوہات سے قطعی مختلف نہیں ہے جن کا سامنا فی الوقت ہمارے یہاں ہے۔جس لاپر واہی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہم آج یہاں کررہے ہیں ،کل تک پاکستان میں بھی اسی لاپر واہی کا مظاہرہ ہوتا تھا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔یہ صورتحال ہمارے لئے باعث عبرت ہے اور ہمیں فوری طور سنبھلنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس مرحلہ پر ہم نہیں سنبھلیں گے تو آنے والا وقت انتہائی تباہ کن ہوسکتا ہے ۔ اس لئے صد فیصد کووڈ ٹیکہ کاری تک احتیاط کا دامن پکڑے رہیں اور اپنی باری کا انتظار کریں ۔ویکسین لگنے تک احتیاط ہی واحد علاج ہے اور اس علاج کو غیر سنجیدہ لینا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔