بے شک کسی بھی قوم یا معاشرے کی فلاح و بہبودی، خوشحالی اور حفاظت محض قوانین کے نفاذ سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس قوم یا معاشرےکے افراد کے باہمی اعتماد، اتحاد،ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے تئیں جذبۂ ہمدردی سے ہوتی ہے اور جس معاشرے کے افراد ایک دوسرے کا دُکھ درد سمجھیںاور ایک دوسرے کاسہارا بن جائیں،اُسی معاشرہ کو نہ صرف دین و دنیاکی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں بلکہ ہر سطح پر محفوظ بھی رہتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کے زیادہ تر افراد میں انفرادیت کا رُجحان بڑھتا چلاجا رہا ہےاور وہ اپنی دنیا میں مصروف ہیں۔
کاروبار اپنی جگہ، خاندان اپنی جگہ، ذاتی مفاد اپنی جگہ اور معاشرے کا مسئلہ اپنی جگہ۔ اس سوچ نے اُنہیںایک ہجوم تو بنا دیا ہے لیکن ایک معاشرےکو مسمار کرکے ایک ایسے المیے سے دوچار کردیاہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ قطع نظر کئی معاملات کےیہ المیہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مشکلات، مہنگا علاج اور عام انسان کی بے بسی میں بھی ہے۔اگرچہ ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہےاور اس نعمت کی حفاظت نہ صرف ایک فرد کی ذمہ داری ہے بلکہ پورے معاشرے اور حکومت کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں بار بار اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہیں کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہےاور ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ آج صحت کا شعبہ ایک مقدس خدمت کے بجائے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ علاج معالجہ دن بدن اتنامہنگا ہوتا جا رہا ہے کہ ایک عام آدمی کے لئے بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں رہی بلکہ یہ اُس کے لیے ایک معاشی آزمائش بن چکی ہے۔ نجی ہسپتالوں کی فیس، مختلف ٹیسٹوں کے اخراجات اور ادویات کی قیمتیں ایک عام مریض کی قوت سے باہر ہوچکی ہیں۔
اب یہاں سوال صرف حکومت کا نہیں بلکہ اُن تمام افراد اور اداروں کا بھی ہے جو صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹ، لیبارٹری مالکان اور ہسپتال انتظامیہ سبھی اس نظام کا حصہ ہیں،جو اس بات کو فراموش کرچکے ہیں کہ اُن کا پیشہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم خدمت بھی ہےاورجو ڈاکٹر مریض کو صرف ایک ’’کیس‘‘ کے طور پر دیکھتا ہے تو وہ اس پیشے کی اصل روح سے دور ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور دکان داروں کا ضمیر بھی اتنا مُردہ ہوچکا ہےکہ وہ ادویات کی قیمتوں میں اعتدال کا کوئی لحاظ ہی نہیں رکھتےاور یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک غریب انسان کے لئے ایک چھوٹی سی دوا بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔اگرچہ اسلام میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پرہمارے یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہاں سہولیات کی کمی، عملے کی قلت اور مناسب نگرانی کا فقدان ایک عام بات بن چکی ہے۔
اگر حکومت ان ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ دے، جدید سہولیات فراہم کرے اور عملے کی تربیت کو یقینی بنائے تو بہت حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں۔حکومت کی ذمہ داری اس سارے معاملے میں سب سے اہم ہے،جس کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کا نظام مضبوط بنائے اور جو کوئی ادارہ یا فرد عام مریضوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے یا غیر ضروری ٹیسٹ اور علاج تجویز کرتا ہے ، اُس کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
اس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔مزید برآںہمیں بحیثیت معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے کہ جہاں صحت کے معاملے احتیاطی تدابیر اپنائیں وہیں ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی اداروں کے ذریعے بھی ہم غریب مریضوں کی مدد کر سکتے ہیں، یہ نہ صرف ایک سماجی فریضہ ہے بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے اور جب تک ہم ایک فرد کے درد کو اپنا درد نہ سمجھیں، جب تک ہم ایک خاندان کی پریشانی پورے معاشرے کی بے چینی تصور نہ کریںاور جب تک ہم ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی کا جذبہ نہ جگائیں، تب تک ہمارا معاشرہ ہرگززندہ معاشرہ نہیں کہلائے گا۔