گورنر ستیہ پال ملک جو بھی بات کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ بات کرتے وقت وہ کبھی بھی نتائج کی پرواہ نہیں کرتے۔ بعد میں بھلے ہی اُنہیں کچھ باتوں کی تردید کرنی پڑے، کچھ باتوں میں ترمیم کرنی پڑے، کچھ باتوں کی اصلاح کرنی پڑے، جب بات کرنی ہوتی ہے تو وہ دل سے بولتے ہیں۔ اُن کے اس بے باکانہ اور بغیر مصلحت کے انداز بیان کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُن کی پرورش کون سے سیاسی ماحول میں ہوئی ہے ،اُسے جانا جائے۔ ملک صاحب رام منہور لو ہیا مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنے سیاسی سفر میں اُنہوں نے کئی بڑے بڑے فیصلے کئے لیکن اُن کے اندر کا لوہیا آج بھی زندہ ہے۔ اسی لئے جب رشوت، بھرشٹاچار، غیر برابری جیسے مُدے اُٹھتے ہیں تو وہ روایت سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔
ملک صاحب نے اپنا سیاسی سفر اُتر پردیش سے شروع کیا اور 1974 میں چرن سنگھ کی بھارتیہ دل کے ایم ایل اے چُنے گئے۔ 1984 میں اُنہوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت کی اور راجیہ سبھا کے ممبر بن گئے۔ پھر بوفورس کو لے کے اُنہوں نے استعفیٰ دے دیا اور 1989 میں وی پی، سنگھ کی سرکار میں ایم پی بن کر آگئے۔ 2014 کے پارلیما نی انتخابات سے قبل ہی اُنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اُن کا سیاسی پس منظر یہ بات واضح کرتا ہے کہ وہ کورپشن کے حوالے سے صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ سچ مچ وہ اس حوالے سے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ایک تقریب میں بولتے ہوئے گورنر ملک نے یہ بات دہرائی کہ جموں و کشمیر میں بڑے بڑے سیاسی لیڈروں اور افسر شاہوں نے لُوٹ مچا رکھی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف عام آدمی غربت سے جوجھ رہا ہے وہیں ان بڑے مگر مچھوں نے سرینگر، دہلی، دبئی، لندن میں بڑے بڑے محل تعمیر کر رکھے ہیں۔ باتیں کرتے کرتے گورنر صاحب جذبات میں بہہ گئے اور یہ تک کہہ ڈالا کہ ملی ٹینٹوں کو چاہئے کہ عام لوگوں، پی ایس او، ایس پی او وغیرہ کو مارنے کے بجائے ان رشوت خوروں کو ماریں جنہوں نے یہاں کی ساری دولت لوٹ کر اپنے گھر تعمیر کئے ہیں اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ملی ٹنٹ والی بات پر ایک بوال مچ گیا، سیاست دانوں نے تو ہا ہا کار مچاہی دی، اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی بحث و مباحث چھیڑ دئے۔بالآخر گورنر ملک کو اپنی غلطی کا ازالہ کرنا ہی پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں ایسی بات نہیں کہنی چاہئے تھی لیکن ریاست میں کورپشن کو لے کر اُن میں اتنا غصہ اور فرسٹریشن ہے کہ وہ جذبات میں آکے یہ بات بول گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر نے کورپشن کے حوالے سے اُس دن ایک لمبی تقریر کی اور ملی ٹینٹوں کے حوالے سے اُس میں فقط ایک جملہ تھا۔ یہاں کے سیاست دانوں نے اُس ایک جملے کو خوب اُچھالا لیکن باقی کی تقریر پر چُپ رہے۔کسی بھی سیاسی لیڈر نے گورنر کو چیلنج نہیں کیا کہ وہ دہلی، دبئی، لندن والی پراپرٹیز کی وضاحت کریں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ گورنر کورپشن کے حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ کیونکہ اندر ہی اندر ہر کوئی جانتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔
جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے، اُنہیں کورپشن کے حوالے سے گورنر کی باتیں بہت ہی میٹھی لگتی ہیں۔ اُنہیں ملی ٹینٹوں کے حوالے سے کی گئی گورنر کی بات بھی اچھی لگی۔ لوگ تو ہمیشہ سے ہی کورپشن کی دُہائی دیتے آئے ہیں۔اُنہیں توپیدائیش کی سند سے لے کر مرنے کی سند تک حاصل کرنے کیلئے رشوت دینی پڑتی ہے۔ زمین کے کاغذ ات درست کروانے ہوں، گھر میں پانی کا نل لگوانا ہو، نوکری کا معاملہ ہو، کاروبار کا معاملہ ہو، اُس سے ہر جگہ ہر کام کے عوض رشوت مانگی جاتی ہے۔ اس لئے جب گورنر ملی ٹینٹوں سے کہتے ہیں کہ کورپٹ لوگوں کو مارو تو عام آدمی کو شاک نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہوتی ہے۔
خیر آمدم بر سر مطلب۔ گورنر کی کورپشن کے حوالے سے باتیں کانوں کو کتنی ہی میٹھی کیوں نہ لگتی ہوں ،حقیقت یہ ہے کہ کورپشن کا یہ دیو جو ریاست کو کھائے جارہا ہے اُس وقت تک قابو نہیں کیا جاسکتا جب تک ہر ایک کہی بات پر عمل نہ کیا جائے۔ گورنر نے کہا ہے کہ اُن کا انتظامیہ کچھ بڑے لوگوں کے کورپشن کے معاملات کی جانچ کرہا ہے۔ گورنر اپنی کہی ہوئی باتوں میں یقین رکھتے ہیں یا نہیں، اس بات کا پتہ جبھی چل سکتا ہے جب جانچ سرعت کے ساتھ ہو اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ گورنر ملک نے اپنی تقریر میں اپنے کسی دوست شاعر کا رشوت کے حوالے سے یہ شعر پڑھا تھا…
حضور ان کو کیسے پکڑ پائے گا
بڑی مچھلیوں کے سمندر الگ ہیں
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گورنر انتظامیہ اس الگ سمندر میں رہ رہی مچھلیوں کو پکڑ پائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست جموں کشمیر کی تاریخ ہی بدل جائے گی۔ پچھلی سات دہائیوں سے یہاں انسداد رشوت کے نام پر فقط چھوٹی موٹی مچھلیوں کو ہی نشانہ بنایا گیا، کہیں پانچ سو روپے لیتے ہوئے کوئی پٹواری پکڑا جاتا ہے تو کہیں کوئی کلرک۔ آج تک اینٹی کورپشن جال میں کوئی بڑی مچھلی نہیں پھنسی کیونکہ ان بڑی مچھلیوں کے سمندر الگ ہیں۔ اب جب کہ گورنر ملک اُس الگ سمندر کی جانب رُخ کرچکے ہیں، امید کی جاسکتی ہے کہ ریاست میں کورپشن کے خلاف ایک پر زور جہاد چھیڑا جائے گا او ر اس وبا کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی سبیل کی جائے گی۔
رشوت ستانی سے جوجنے کے لئے عوامی سطح پر بھی ایک موثر تحریک کی ضرورت ہے۔ یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ ریاست میں رشوت کم و بیش جائیزیت کا درجہ پا چکی ہے۔ یہاں رشوت خوروں کو دھتکارا نہیں جاتا، اُنہیں عزت دی جاتی ہے۔ اوپر کی آمدنی ہتک کی نہیں فخر کی بات مانی جاتی ہے۔ یہاں اگر باپ بیٹے کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھے تو اُس کی پٹائی کرے گا۔ اگر شراب پیتے ہوئے دیکھے تو اُسے گھر سے عاق کر دے گا۔ لیکن اگر وہی بیٹا اپنے ذریعہ آمدن سے بڑھ کر رقومات مہینے کے مہینے گھر لائے تو اُسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔سرکار کوئی بھی جتن کر لے، لوگوں کی یہ ذہنیت جب تک تبدیل نہیں ہوتی، حالات میں کوئی خاطر خواہ بدلائو نہیں آسکتا۔سماج کے ہر ایک طبقے کو رشوت کے خلاف جنگ کا حصہ بننا ہوگا۔ مساجد سے لے کر میڈیا تک اور مدارس سے لے کر سول سوسائٹی تک، ہر جانب سے رشوت کے خلاف آواز اُٹھنی چاہئے جب جا کے اس آدم خور دیو کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘