نیویارک//عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کی تلاش کی کوششوں کو سیاسی مداخلت سے نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ بیان بائیڈن کی طرف سے ملکی انٹیلی جنس سے چین میں اس وائرس کے آغاز سے متعلق رپورٹ طلب کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت جمعہ کے روز متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے نقط آغاز کی تفتیش کی کوششوں کو سیاست کی آمیزش سے پامال کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت میں ہنگامی حالات کے شعبے کے سربراہ مائیکل رائن نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ میں کہوں گا کہ سائنس کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور ہمیں ان جوابات کو تلاش کرنے دیں، جس کے لیے ہمیں مناسب اور مثبت ماحول کی ضرورت ہے۔ اس پورے عمل کو سیاست کی وجہ سے زہر آلود کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی ادارہ صحت پر اس بات کے لیے ایک بار پھر سے دباوشروع ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے نقطہ آغاز کا پتا لگانے کے لیے اس کی مزید گہرائی سے تفتیش ہونی چاہیے۔ اس برس کے اوائل میں ادارے کی ایک ٹیم اس کی تفتیش کے لیے چین کے شہر ووہان گئی تھی، جہاں سب سے پہلے اس وبا کا انکشاف ہوا تھا۔ ٹیم نے ووہان میں 4 ہفتے کا وقت گزارنے کے بعد اپنی ایک تفتیشی رپورٹ میں کہا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ سے انسانوں میں کسی تیسرے جانور کے توسط سے پہنچا۔ ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ کسی لیب یا تجربہ گاہ سے اس وائرس کا وجود میں آنا انتہائی نا ممکن بات معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے سیاست دانوں اور بعض سائنسدانوں کا خیال یہ ہے کہ عالمی ادارے کی تفتیش کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔
چین میںایک اور ویکسین تیار
بیجنگ// چین نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایک اور ویکسین تیار کرلی، نئی تیار کردہ ویکسین تین خوراکوں پر مشتمل ہے جبکہ ری کومبیننٹ پروٹین ویکسین کی پہلی کھیپ مارکیٹ میں پہنچ گئی ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چین میں تیار کردہ کورونا وائرس کی تین خوراکوں پر مشتمل ایک اور ویکسین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے ماتحت ادارے انسٹی ٹیوٹ آف مائکروبیالوجی اور آنہوئی زہیفئی لانگ کام بائیوفارماسوٹیکل کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔دوسری جانب چین نے ری کومبیننٹ پروٹین ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد ویکسین بیجنگ کی مارکیٹوں میں پہنچا دی گئی ہے جب کہ چین کے دیگر صوبوں کے عوام نے بھی یہ ویکسین لگوالی ہے۔خیال رہے طبی آزمائش کے دوسرے مرحلے جس میں18 سے59 سال کی درمیانی عمر کے افراد شامل تھے اور ویکسین کی دو خوراکیں لینے کے بعد پتہ چلا کہ 83فیصد شرکا میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں جبکہ تیسری خوراک کے بعد97 فیصد شرکا میں اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں۔واضح رہے اس سے قبل چین کی سینوویک بائیو ٹیک کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین وائرس کی روک تھام کے لیے 80 سے زائد فیصد تک مؤثر قرار دی گئی تھی۔
ویت نام میں کوروناکی نئی مہلک قسم دریافت
لندن //ویت نام میں کورونا وائرس کی نئی مہلک قسم سامنے آگئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویت نام میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نئی قسم بھارت اور برطانیہ میں کورونا کی اقسام کے ملنے سے وجود میں آئی، یہ قسم زیادہ خطرناک اور آسانی سے پھیلنے والی ہے۔ویت نام کے وزیر صحت نگیوین ٹہانا نے بتایا کہ سائنسدانوں نے کورونا وائرس سے حال ہی میں متاثر ہونے والے مریضوں کے جینیاتی سیکونسنگ کے دوران اس نئی قسم کو دریافت کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ نئی قسم بہت زیادہ متعدی نظر آتی ہے اور دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پھیل سکتی ہے۔ نئی قسم سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے جس کے بعد ویت نام کیکاروباری مرکزہوچی من سٹی میں دو ہفتوں کی سماجی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔
نیپال کی روس سے ویکسین کی اپیل
یواین آئی
کٹھمنڈو//نیپال نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ کووڈ ۔19 ویکسین 'اسپوٹنک وی' فراہم کرے ۔روسی میڈیا نے اتوار کو اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔روسی خبر رساں ادارے اسپوٹنک کی رپورٹ کے مطابق نیپال کی صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اس سلسلے میں ایک خط تحریر کیا ہے ۔