طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کی وجہ سے لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ الگ تھلگ رہنا،نقل و حرکت پر پابندیاں ، سماجی تقریبات پر قد غن اور گھروں کے اندر بیکار بیٹھنے سے لوگوں کی نارمل زندگیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔اس سلسلے میںگورنمنٹ میڈیکل کالیج سرینگر میں شعبہ نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جنید نبی کا ایک تفصیلی بیان بھی26مئی کو جاری ہوا جس میں اُنہوں نے دماغی امراض کی دیگر وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خوف اور ڈر بھی ان امرض کو پیدا کرنے اور بڑھانے کی وجوہات میں شامل ہے۔کورونا وائرس میں مبتلاء ہونے اور اس کے نتائج کے خوف نے یہاں کے لوگوں کے اذہان کو انتہائی بری طرح متاثر کیا ہے۔ڈاکٹر جنید کا کہنا تھا کہ اس خوف سے باہر نکلنے کیلئے مثبت سوچ کی ضرورت ہے اور عوام کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کوئی مستقل نہیں بلکہ ایک عارضی مرحلہ ہے جس کو ہر حال میں ختم ہوکرگذرجا ناہے۔
ہمارے ہاں تو ایسے واقعات بھی نظر آئے جہاں بعض لوگوں کو کورونا مریضوں سے دور بھاگتے ہوادیکھا گیا۔مانا کہ ایسارویہ کورونا مریضوں کے تئیں اُن کی نفرت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ تھا لیکن ایسے واقعات سے بے شک مذکورہ مریضوں کی نفسیات بری طرح متاثر ہوئی اور وہ بیماری سے شفا یاب ہونے کے باوجود نفسیاتی طور مجروح ہی رہے۔ اب معلوم نہیں ان کی یہ نفسیاتی چوٹ کب تک اُنہیں ٹیس پہنچاتی رہے گی۔ایسے واقعات سے اُن افراد کی ذہنی کیفیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو اپنے آپ کو کورونا وائرس سے بچانے کی کوششوں میں انسانیت کے اسباق کو ہی بھول گئے ۔حالانکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی ذہنی بیماری کا نتیجہ ہے جو صرف خوف سے پیدا ہوتی ہے اور یہی خوف بعض اوقات اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کیلئے بھی بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ گوکہ ہمارے یہاں خاص کر وادی کشمیر میں متذکرہ بالا واقعات زیادہ تعداد میں پیش نہیں آئے اور اکثر یہاں کے خاص و عام نے خود کو متاثرین کی ہر قسم کی مدد کیلئے دن رات تیار رکھا لیکن جتنے بھی ایسے واقعات رونما ہوئے اُنہیں بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے بزرگ اور بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور اُن کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوگئے ہیں۔چونکہ بچے اپنے ہم جماعتیوں کے ساتھ ہی کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور سکولوں سے دو رہنے کے نتیجے میں اُن کااپنے دوستوں کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہے اور اس طرح اُن کی ذات کے اظہارکا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ایسی صورتحال کے نتیجے میں ماہرین نفسیات کے مطابق بچے ایک خاص ذہنی کیفیت میں مبتلاء ہوگئے ہیںجس نے اُن کی مجموعی شخصیت کو اثر اندازکرنا شروع کیا ہے۔اس ضمن میں وادی کشمیر کے بچوں کی صورتحال کچھ زیادہ ہی باعث پریشانی ہے کیونکہ وہ اگست2019سے ہی مسلسل ایسی صورتحال کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔اس عرصہ کے دوران صرف چالیس دنوں کو چھوڑ کر وہ اپنے گھروں کے اندر ہی قید ی بنے ہوئے ہیں۔وادی کے سکول اگست2019میں ’سیاسی وائرس ‘ کے نتیجے میںبند ہوگئے۔جب کسی حد تک مذکورہ ’وائرس کا اینٹی باڈی‘ تیار ہوا اور اُمید بندھ گئی کہ اب تعلیمی اداروں کے دروازے کھلیں گے تو سرمائی چھٹیوں کا اعلان ہوا، بلکہ کیا گیا۔اگلے برس یعنی 2020کے ماہ مارچ کے پہلے دس دنوں تک سکول کھلتے ہی کورونا وائرس نے ساری دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے یہاں کے تعلیمی اداروں کو بھی مقفل کردیا اور وہ صرف امتحانات کے وقت ہی سال کے آخری ایام میں کچھ وقت کیلئے کھل گئے۔ پھر سردیوں کی طویل چھٹیاں اور رواں برس کے ماہ مارچ میں حکومت کی طرف سے سیاحوں کے استقبال میں میلے منعقد کرنے سے جب کورونا وائرس کا پھیلائو بے قابو ہوگیا تو پھر سکول اور کالیج بند ہوگئے۔ایسا ہوتے ہی حکام نے سکولی بچوں کو آن لائن تعلیم کے نام پر انٹر نیٹ کی دنیا میں دھکیل کر اُن کی ذہنی نش و نما کے سبھی ممکنہ راستے اورامکانات کو معدوم کردیا۔ اب حال یہ ہے کہ بچوں کی آنکھیں مسلسل موبائیل فونوں پر ٹکی رہنے سے سوجھی ہوئی ہیں اور وہ نفسیاتی طور پر بھی ڈسٹرب ہیں۔ ڈاکٹر جنید نبی کے مطابق’’بچوں کی سکولوں سے دوری اُن کے ذہنی اضطراب اوردبائو کا باعث بن گیا ہے‘‘۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا صورتحال کشمیر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس وبا نے تو پورے عالم میں ہا ہا کار مچاکر رکھی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر اترانے والی دنیا کے غرور کو اس ان دیکھے وائرس نے زمین بوس کر کے رکھ دیا ہے۔ گوکہ اس وائرس کی مخالف ٹیکہ کاری ہے لیکن ابھی اس کے موثر ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے اور تب تک پورے عالم کی طرح ہمارے یہاں کے لوگوں کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دینی پڑیں گی۔اس پس منظر میں دیکھا جائے توسب سے زیادہ ذمہ داریاں والدین پر عائد ہوتی ہیں جنہیں نہ صرف خود اور اپنے بال بچوںکو مہلک وائرس سے بچانے کے اقدامات کرنے ہیں بلکہ ننھے منوں اور جواں سال بچوں اور بچیوں کی ذہنی صحت کا خیال بھی رکھنا ہے ۔ ہمارے بچے ایک طرف پابندیوں کی وجہ سے ذہنی دباو کا شکار ہیں اور دوسری طرف اُن کی زندگیاںانٹر نیٹ نے انتہائی خطرے کی نذر کر رکھی ہیں۔ وہ موبائیل فونوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور کتابیں اُن سے ہر گذرتے دن کے ساتھ دور ہوتی جارہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں والدین کو چاہئے کہ گھروں کے اندر ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش کریں جس سے تنائو میں کمی واقع ہو اور بچوں کو کسی حد تک اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا موقع مل سکے۔ موجودہ اقتصادی بد حالی کے ایام میں عام والدین کیلئے حالات کٹھن آزمائش سے پُر ہیں لیکن حالات کا سامنا اور مقابلہ کرنے سے ہی مثبت نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے بصورت دیگر حالات کے بے رحم ہاتھ نہ جانے ہمارے مستقبل کو کہاں کی طرف دھکیلیں گے۔
موجودہ حالات ہمارے بزرگوں کیلئے بھی انتہائی کٹھن ہیں۔ اُنہیں ایک طرف کورونا سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے تو دوسری طرف اُن کی عمر خاص ماحول کی متقاضی ہے جو اُنہیں میسر نہیں ہورہا ہے۔ نتیجے کے طور پر وہ بھی بچوں کی طرح ہی نفسیاتی مسائل سے دوچار ہورہے ہیں۔اُنہیں وقت وقت پر طبی صلاح کی ضرورت رہتی ہے جو اُنہیں موجودہ حالات میں نہیں مل رہی ہے ،اس لئے گھر وںکے باقی افراد کو چاہئے کہ بزرگوں کی صحت کے ساتھ ساتھ اُن کی نفسیات کا بھی خیال رکھیں۔ اُنہیں جذباتی طور مجروح نہ کریں اور اُنہیں اُن کی اہمیت کا احساس دلائیں ، اُن کے ساتھ وقت گذاریں اور اُن کے سامنے اپنے مسائل کی سنگینی کا رونا نہ روئیں۔ جتنا ممکن ہو اُنہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور آنے والا وقت اپنے ساتھ بہتر ی لانے والا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے بڑے بزرگوں سے مختلف باتوں کو لیکر اُن کی صلاح لیں ، ایسا کرنے سے ہمارے سینئرس کی عزت نفس کی پرورش ہوتی ہے جو اُن کی مثبت نفسیاتی نش و نما کیلئے انتہائی ضروری ہے۔اگر ہمارے ہاں کوئی بزرگ کورونا ایس او پیز پر عمل پیرا نہیں ہورہا ہے تو اُس پر جبر کے بجائے اُسے احترام سے سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں یہ بات گانٹھ باندھ لینی چاہئے کہ ہمارے بزرگ عمر کے جس حصے میں ہیں وہ انتہائی حساس ہوتی ہے اور ذرا سی بات اُنہیں ٹھیس پہنچاسکتی ہے جو اُن کیلئے ایک بہت پڑی ذہنی اور نفسیاتی مسئلے کا باعث بن سکتی ہے۔