ہندوستان جہاں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں اور یہاں جمہوری نظام بھی قائم ہے وہیں دوسری طرف کچھ انتہا پسند عناصرجمہوری نظام کی دھجیاں اڑانے میں پیش پیش ہیں۔اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ ایک برس پہلے اس ملک میں ہندئوں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کا جو کام بڑے پیمانے پر شروع کیا گیا ، اس کی وجہ سے ملک کا گنگا جمنی کلچر مسلسل تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔شومئی قسمت یہ کہ کورونا وائرس رواں سال ملک میں داخل ہونے سے ان شر پسند عناصر کو موقع ملا اور انہوں نے اس وائرس کو ملک میں پیدا ہونے کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایاجس کی وجہ سے منافرت پھر سے پھیلنے لگی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلمانوں کا کھلے عام لہو لہان کیا جارہا ہے اور ملک میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے مگرارباب اقتدار خاموش ہیں جس کے باعث فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔فرقہ واریت کا یہ تماشہ اس قدر عروج پر پہنچ گیا ہے کہ کچھ نیوز چینل باقاعدگی کے ساتھ سماج میں نفرت پھیلانے کو دیش بھگتی کی علامت قرار دینے لگے۔اس بارے میں مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی سنگین قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے جس سے یہ منافرت ملک کے کونے کونے میں آخری حد پار کر گئی۔
حد تو یہاں تک ہو گئی کہ سرکاری ہسپتالوں میں مسلمان مریضوں کا علاج نہیں کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی دکان سے خریدو فروخت کرنا منع کیا گیا ہے جس کے باعث مسلمان در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ان حالات کا اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مٹھی بھر لوگ اس چنگاری کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک طرف ہم جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعوی کر رہے ہیں جس جمہوریت میں ہر فرقہ کے لوگوں کو برابر کا درجہ حاصل ہوتا ہے لیکن دوسری جانب جمہوریت کی قبا چاک کی جارہی ہے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر جمہوریت میں تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ محبت اور حسن سلوک برتنے کا اہتمام ہے تو نفرت، خودغرضی اور تعصب کے کانٹوں کی اپنے خون سے آبیاری کیوں کی جارہی ہے ۔ہندوستان میں رہنے والی ایک کروڑ تیس لاکھ کی آبادی میں صرف مسلمانوں کو ہر شر کے پیدا کرنے کا ذمہ دارکیوں ٹھہرایا جا رہا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔موجودہ حالات میں کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی وجہ سے وائرس نمودار ہوا ہے اور ان کی وجہ سے ملک میں ابتر حالات پیدا ہوئے ہیں لہٰذا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تال میل روا نہیں رکھنا چاہیے اور انہیں ہر موڑ پر رسوا کرنا چاہیے حالانکہ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ یہ وائرس چین کے ایک شہر ووہان میں پہلے نمودار ہوا۔ایسی سوچ تباہ کن ہے اور اس سے جمہوری نظام کی بیخ کنی ہوگی۔اس لئے ارباب بست و کشاد کو چاہئے کہ وہ ان مٹھی بھر عناصر کی لگام کس لیں اور انہیں ان کے انجام تک پہنچائیں تاکہ گنگا جمنی کلچر زندہ رہے اوریہ ملک مختلف پھولوں کے ساتھ ایک گلستان کی طرح ہمیشہ مہکتا رہے۔
رابطہ : حسن پورہ باغ بجبہاڑہ ،6005903959