کوٹرنکہ// دور دراز علاقوں میں سڑک روابط تعمیر کرنے کے ریاستی حکومت کے دعوئوں کی اس وقت قلعی کھل جاتی ہے جب کنڈی سے موہڑہ تیرہ کلو میٹر سڑک کی حالت دیکھی جائے جو پچھلے دس سال میں تعمیر نہیں ہوسکی ہے ۔اس تیرہ کلو میٹرسڑک کاکام آج سے 10سال شروع ہوا تھا مگر آج تک سڑک گھوڑے چلانے کے قابل بھی نہیں بن سکی ہے ۔مقامی شخص حاکم دین نے بتایاکہ اس بارے میں کئی بار انہوںنے متعلقہ حکام سے بھی بات کی لیکن انہوںنے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ان کاکہناتھاکہ ہر بار یقین دہانیاں دلائی گئیں مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور سڑک کی حالت خراب سے خراب تر ہے اور اسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایاجارہا۔ان کاکہناتھاکہ کنڈی انس نالے پر پل تعمیر کیاجاناتھا لیکن اس کاکام بھی بند پڑاہے اور متعلقہ حکام کوکوئی پوچھنے والانہیں۔لیاقت علی ،جاوید چوہدری اور صدام حسن نے سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وزراء اور اعلیٰ حکام بند کمروں میں میٹنگ کرکے اعلانات کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔انہوںنے کہاکہ عوام کے سامنے دروغ گوئی کی جاتی ہے اور ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے ۔ ان کاکہناتھاکہ کابینہ وزیر چوہدری ذوالفقار علی نئی حکومت بننے کے وقت اعلان کیاتھاکہ بہت جلد اس پر کام شروع ہوجائے گالیکن تین سال بیت گئے ہیں اور کام کا آغاز نہیںہواجس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ حکومت ترقیاتی کام کرنے میں سنجیدہ نہیں ۔