کل ہندمسلم پرسنل لاء بورڈ

 آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا چھبیسواں اجلاس عام حیدرآباد میں منعقد ہوا‘ جس پر نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی بلکہ حکومت‘ اسلام دشمن طاقتوں اور میڈیا کی توجہ مرکوز رہی۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت منعقد ہوا جب ہندوستانی مسلمانوں کو غیر ضروری مسائل میں الجھا دیا گیا‘ اور انہیں مشتعل کرنے کے لئے مختلف حربے اختیار کئے جارہے ہیں۔  یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ شریعت میں مداخلت کے لئے عدلیہ کا سہارا لیا جارہا ہے اور میڈیا کو بین مذاہب نفرت، دشمنی پیدا کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ مٹھی بھر سے بھی کم گمراہ خواتین جو نام کی مسلمان لگتی ہیں لیکن ان کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ‘ ان میں سے بعض کا کردار مشکوک ہے اور بعض سنگھی ذہنیت کی حامل ہیں۔ انہیں مسلم خواتین کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی علمبردار کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بلاشبہ حالات کا مقابلہ کررہا ہے۔ محدود وسائل، لامحدود مسائل کے باوجود گائوں گائوں، قصبہ قصبہ عام مسلمانوں میں شرعی خواتین سے متعلق شعور کی بیداری کی مہم چلارہا ہے۔ یقینا یہ بورڈ ہندوستان مسلمانوں کا ترجمان ادارہ ہے جس میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، مشائخ، اکابرین، دانشور شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب جب مسلمانوں کی صفوں میں شامل منافقین اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر یکساں سیول کوڈ، بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، دینی مدارس کے خلاف زہر اُگلتے ہیں تو ان منافقین کو ان ہی کے فرقوں کے اکابرین کی جانب سے نہ صرف مذمتی جواب دیا جاتاہے بلکہ ان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کرلیا جاتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ بلاشبہ ہندوستانی مسلمانوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے جہاں قدامت پسند بھی ہیں‘ اعتدال پسند بھی اور دیگر حضرات بھی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت‘ اسلام دشمن سیاسی جماعتیں اور نام نہاد ماڈرن مسلم جماعتیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا شیرازہ بکھیرنے کی سازشیں اور نامراد کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ داخلی، نظریاتی اختلافات علاقائی لابی ازم کے باوجود ابھی تک مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اتحاد برقرار ہے اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ ہندوستانی مسلمانوں کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔
اس وقت صرف بابری مسجد‘ طلاق ثلاثہ جیسے مسائل ہی کا سامنا نہیں ہے بلکہ اَن گنت معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ تشویش ناک مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کی بندشیں توڑکر دوسرے مذاہب ماننے والوںسے شادیاں رچانا ہے۔  ظاہر ہے تعلیم یافتہ مرفع الحال مسلم نوجوان بڑی آسانی سے دیگر اقوام کی لڑکیوں کے جال میں آرہے ہیں۔ اگر غریب یا متوسط طبقہ کا نوجوان دوسرے مذہب کی مرفع حال یا اپنی ہی حیثیت کی لڑکی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے یا اس کے ساتھ اس کے روابط پیدا ہوجاتے ہیں تو مسلمانوں کی تاک میں بیٹھی تنظیمیں ’’لوجہاد‘‘ کا نعرہ لگاکر ہنگامہ اور فساد برپا کردیتی ہیں۔ دولت مند اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوان اگر علی الاعلان شادی بھی کرلیں تو وہ اسے نظر انداز کردیتے ہیں کیوں کہ مسلم قوم کا ایک اور اثاثہ ان کے کھاتہ میں منتقل ہوجاتا ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان اور اس سے وابستہ ہر ادارہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بین مذاہب اختلاط شادیوں کے خلاف شعور بیدار کرے۔ اس کے لئے گھر گھر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ طلاق ثلاثہ کو تو ایک مسئلہ بناکر پیش کیا گیا ہے ،اگر ہم اپنی لڑکیوں اور لڑکوں کی حفاظت نہ کریں تو مستقبل میں ہماری اپنی نسل نہ صرف مذہب سے بیگانہ ہوجائے گی بلکہ خود شرعی قوانین کی مخالفت کرے گی۔ نوجوان اور آنے والی نسلوں کا اپنے دین سے رشتہ برقرار رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملک گیر مہم چلائی جائے۔
مسلم انتظامیہ کے تحت قائم عصری تعلیمی اداروں میں جس طرح اردو اور عربی کی کلاسز ہوتی ہیں‘ اسی طرح شریعت سے متعلق بیداری کے لئے ہفتہ واری کلاسزکا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ اس کی ا یک قابل تقلید مثال شاہی مسجد باغ عامہ حیدرآباد کے نائب امام و خطیب نے تیس روزہ شریعت کورسز کا اہتمام کرکے قائم کی ہے۔ مساجد میں مرد و خواتین کے لئے ہفتہ واری کلاسز کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ یقینا جماعت اسلامی‘ گرلز اسٹوڈنٹس، آرگنائزیشن‘ شریعت کمیٹی‘ جمعیۃ العلمائے ہند کی جانب سے لڑکیوں اور خواتین کو گمراہیوں اور بے دینی سے محفوظ رکھنے کے لئے اس قسم کی کاوشیں جاری ہیں۔ تاہم اس کے دائرہ کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کوشش مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے پرچم تلے بھی کی جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ کیوں کہ ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مرد‘ خواتین لڑکے لڑکیاں اس میں شرکت کرسکتی ہیں۔
بابری مسجد کا مقدمہ‘ ابتداء ہی سے بورڈ کے لئے سب سے اہم مسئلہ رہا ہے۔ بعض ناعاقبت اندیش اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اللہ کے گھر کا سودا کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کے ڈی این اے کی جانچ کرنی چاہئے۔ کہیں نہ کہیں نقص ضرور مل جائے گا۔ بابری مسجد سے متعلق مسلم علماء واکابرین پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مسلمان عدالتی فیصلے کے تابع رہیںگے۔ حالیہ عرصہ کے دوران عدلیہ کی جانبداری کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہوا تو ہمارا اگلا اقدام کیا ہوگا۔ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ ایک بابری مسجد کو مثال بناکر ہزاروں مساجد کی جگہ دوسری عبادت گاہیں بنانے کی تیاری کی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے علاقہ کی مسجد کی حفاظت کو اپنا فریضہ سمجھے۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان مساجد کو آباد رکھا جائے۔ خطرات ان علاقوں کی مساجد کو ہیں جہاں مسلم آبادی کا تناسب بہت کم ہے۔ خود حیدرآباد میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں مسلم کم آبادی والے محلوں کی مساجد اور ان کی وقف اراضیات و جائیدادوں پر غیروں نے جبری قبضہ کرلیا‘ یا پھر مقدمات کے ذریعہ انہیں متنازعہ بنادیا۔ مسلم زیادہ آبادی والے علاقوں کی مساجد مسلکی جھگڑوں کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہتی ہیںاور اس کی موقوفہ جائیدادوں پر بااثر حضرات کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ اکثر مساجد کی انتظامی کمیٹیوں پر بھی بااثر حضرات کا قبضہ ہے‘ اور بااثر حضرات میں لینڈ گرابرس بھی ہوتے ہیں۔ مساجد کو صرف اللہ کا گھر بنانے کی ضرورت ہے۔ جب اللہ کے گھر کسی ایک مخصوص مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ بن جاتے ہیں تو یہاں فتنے بھی پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت اور دشمنی کا ماحول بھی۔۔۔ اسے پاک و صاف رکھنے کی اور فتنہ پرور عناصر کے بائیکاٹ کی ضرورت ہے۔
حیدرآباد میں 16برس بعد منعقد ہونے والے اجلاس میں اصلاح معاشرہ، درالقضاۃ، تفہیم شریعت جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال ہونا لازمی تھا۔ اصلاح معاشرہ کی تحریکات تو چلائی جارہی ہیں۔ چوں کہ ہم نصیحت کے عادی ہیں‘ خود اس پر عمل نہیں کرتے‘ اس لئے بیشتر اصلاح معاشرہ کی تحریکات محض اخباری بیانات کی حد تک محدود رہ جاتی ہیں۔ دارالقضاۃ بھی قائم ہیں شرعی پنچایتیں بھی ہیں اس کے باوجود طلاق، خلع کے مقدمات کی یکسوئی کے لئے عدالتوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کیوں؟ شاید اس لئے کہ ان شرعی پنچایتوں‘ دارالقضاۃ سے معتلق شعور نہ ہونے کے برابر ہے یا پھر یہ ادارے عوامی اعتماد سے محروم ہیں۔ ان اداروں سے متعلق مساجد کے منبروں سے بھی تشہیر کی ضرورت ہے اور میڈیا کے ذریعہ بھی۔
جس طرح سے پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتب فکر کے مسلمان متحد ہیں اور بورڈ کے بیشتر فیصلوں میں ان کا اتفاق رائے ہوتا ہے اسی طرح ’’اجتہاد‘‘ کی روشنی میں بعض حساس معاملات میں مسلمانوں کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ بعض گمراہ خواتین طلاق خلع کے معاملات میں عدالت سے رجوع ہوتی ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ خلع کے لئے شوہر انہیں برسوں لٹکادیتے ہیں۔ یہ خواتین جنہیں اسلام نے خلع کا حق دیا ہے‘ اپنے حق کے لئے دارالقضاۃ اور شرعی پنچایتوں کے چکر بھی لگاتی ہیں۔ اور خاندان یا سماج کے بزرگوں سے بھی مدد طلب کرتی ہیں جب ناکام ہوتی ہیں تو وکیلوں کے چکر میں آجاتی ہیں۔ہر وکیل تو نہیںمگر کچھ وکلاء ضرور ایسی خواتین کے استحصال کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حق انصاف دلانے اور ظالم شوہروں سے انتقام دلانے کا لالچ دے کر جہاں ان کا مالی استحصال کرتے ہیں وہیں کچھ ایسے فیصلے کروادیتے ہیں جس سے شریعت میں مداخلت کا خطرہ رہتا ہے۔ عورت کو خلع کے لئے شوہر ستا نہ سکے اس کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے‘ کیوں کہ عدالتی فیصلے دینے اور بعض ادارے نکاح فسخ کرنے کے فتوے جاری کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔
حیدرآباد میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سولہ برس پہلے اجلاس ہوا تھا تب ملی اتحاد کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ اب بھی امید کی جارہی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ اپنے اختلافات اپنی جگہ‘ ملت کے وسیع تر مفاد کے لئے کم از کم دینی معاملات میں اتحاد ضروری ہے۔ انشاء اللہ اس اجلاس سے نہ صرف حیدرآباد بلکہ پورے ملک میں ملی اتحاد کی راہیں ہموار ہوںگی۔
رابطہ :‘ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون9395381226