جموں//سرکار کی طرف سے کلرکوں کی تنخواہوں میں تفاوات دور نہ کئے جانے کے مسئلے کولے کرکلرکوں نے اپنی تین روزہ ہڑتال میں توسیع کرتے ہوئے اسے 28اپریل2018تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے ۔کلرکوں کی اس کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے مسلسل تیسرے روز بھی بیشتر سرکاری دفاتر میںکام کاج متاثر رہا۔ اس دوران ایسو سی ایشن نے پولیس کی طرف سے ہڑتالی کلرکوں پر کی جانے والی زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز کو زور زبردستی دبایا جارہا ہے ۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ جموں کے علاوہ خطہ کے تمام دس اضلاع سے آئے ہوئے کلرکوں نے کام چھوڑ ہڑتال میں حصہ لیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بابو حسین ملک، روی سنگھ باہو، بھارت بھوشن ، انل مہتہ وغیرہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مسائل کے حل کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ہائی کورٹ نے بھی اس سلسلہ میں واضح ہدایات دی ہوئی ہیں لیکن ان کی عمل آوری بھی نہیں کی جا رہی ہے ۔ مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ ملازمین کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی کو ترک کر کے ان کے ساتھ مفاہمتی رویہ اپنا ئے اور پانچویں پے کمیشن کے مطابق جونئر اسسٹنٹ کو 4000-6000سینئر اسسٹنٹ کو 4500-7000اور ہیڈ اسسٹنٹ کو 5500-9000 کا گریڈدینے کا حکمنامہ جاری کرے۔ انہوں نے مانگ کی کہ یکم جنوری 1996سے یہ گریڈ دینے کے علاوہ 19فروری2003سے مالی فوائد بھی دئیے جائیں۔ کوارڈی نیشن کمیٹی نے کام چھوڑو ہڑتال کو دی جانے والی حمایت کیلئے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے ااپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال جاری رکھنے پرزوردیا۔