جموں//تنخواہوں میں تفاوات دور کرنے کی مانگ پر زور ڈالنے کے لئے کلرکوں کی طرف سے کی گئی سہ روزہ کام چھوڑ ہڑتال کے دوسرے روز بیشتر سرکاری دفاتر میں کام کاج متاثر رہا۔ اس دوران ایسو سی ایشن نے پولیس کی طرف سے ہڑتالی کلرکوں پر کی جانے والی زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز کو زور زبردستی دبایا جارہا ہے ۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ جموں کے علاوہ خطہ کے تمام دس اضلاع سے آئے ہوئے کلرکوں نے کام چھوڑ ہڑتال میں حصہ لیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بابو حسین ملک، روی سنگھ باہو، بھارت بھوشن ، انل مہتہ وغیرہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مسائل کے حل کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ہائی کورٹ نے بھی اس سلسلہ میں واضح ہدایات دی ہوئی ہیں لیکن ان کی عمل آوری بھی نہیں کی جا رہی ہے ۔ مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ ملازمین کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی کو ترک کر کے ان کے ساتھ مفاہمتی رویہ اپنا ئے اور پانچویں پے کمیشن کے مطابق جونئر اسسٹنٹ کو 4000-6000سینئر اسسٹنٹ کو 4500-7000اور ہیڈ اسسٹنٹ کو 5500-9000 کا گریڈدینے کا حکمنامہ جاری کرے۔ انہوں نے مانگ کی کہ یکم جنوری 1996سے یہ گریڈ دینے کے علاوہ 19فروری2003سے مالی فوائد بھی دئیے جائیں۔ کوارڈی نیشن کمیٹی نے کام چھوڑو ہڑتال کو دی جانے والی حمایت کیلئے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے آج یعنی 25اپریل کو صبح ساڑھے دس بجے نمائش گاہ میں جمع ہو کر اپنے مطالبات کے حق میں کاری ضرب لگانے کی اپیل کی۔