پونچھ//اے پی جے عبد الکلام ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن پونچھ کے بینر تلے کنونشن سینٹر ڈگری کالج پونچھ میں یک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان’’ تعلیم۔تقسیم کے درد کا مداوا‘‘ تھا۔ اس موقعہ پر قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئر مین وجاہت حبیب اللہ ،ریاستی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن نعیمہ مہجور اوربابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مسعود چوہدری مہمانان کے طور پر شریک ہوئے ۔تینوں مقررین نے تقسیم ہند کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تقسیم سے پیدا ہوئے درد کی دوا کا انتظام کرے ۔انہوںنے حصول تعلیم کو سب سے بڑا ہتھیارقرار دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کا مستقبل تعلیم سے ہی جڑاہواہوتا ہے اورجو قومیں مشکل حالات اور تکالیف میں بھی حصول علم کے لئے جدوجہد کرتی ہیں ان کا مستقبل ہمیشہ روشن رہتا ہے اس لئے کشمیر کے رہنے والے وہ سرحدی لوگ جو ستر سال گذرنے کے بعد بھی تقسیم ہند کے دیئے گئے زخموں سے کراہ رہے ہیں،دکھ اور تکلیف کو تعلیم سے دور کرسکتے ہیں۔ وجاہت حبیب اللہ نے اپنے خطاب میں چالیس قبل کے اس پونچھ کا تذکرہ کیا جب وہ یہاں بحیثیت سے ضلع ترقیاتی کمیشنر تعینات ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ’’مجھے چار دہائیوں کے بعد کا پونچھ دیکھ کر جذباتی خوشی ہورہی ہے، پونچھ سے میری یادیں ہمیشہ وابستہ رہیں گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ دوران سروس انہوں نے ہندوستان کے بڑے بڑے عہدوں پر کام کیا اور انہیں کبھی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑاتاہم بڑے بڑے عہدوں تک رسائی کی وجہ ان کی تعلیم تھی اس لئے اگر ہم اپنی نسلوں میں تعلیم کو فروغ دیں تو کوئی و جہ نہیں کہ ہم بھی وطن کی تعمیر میں برابر کا کردار اداکرسکتے ہیں۔بی بی سی اردو کی سابق براڈکاسٹر اور ریاستی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن نعیمہ مہجور نے کہا کہ ایک طرف جہاں شیخ محمد عبد اللہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تو دوسری طرف شیخ صاحب کو ہی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ،اس کے بعد سلسلہ وار ایسے غلط سیاسی تجربات کئے گئے جس سے ریاست کو مستحکم کرنے کے بجائے کمزور کیا گیا ،جمہوری نظام کمزور کیا گیااور سیاسی عمل کو روکا گیا جس سے ریاست کی عوام کے اندر بداعتمادی کی فضاء قائم ہوئی ۔انہوںنے کہاکہ ریاست نے تو وفاء کی مگر مرکز نے ریاست کے ساتھ وفاء کا معاملہ نہیں کیا اس لئے ایسے سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے جس سے ماضی کی غلطیوں کے ازالہ کیا جاسکے جس کی خاطر ضروری ہے کہ پڑوسیوں سے بہتر رشتے قائم کئے جائیں اور مذکرات کا عمل شروع کیا جائے۔بابا غلام شاہ بادشاہ یونیور سٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر چوہدری مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم ایک ایسی حقیقت ہے جو بیت چکی ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گااور ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ، یہ حکومتوں کا کام کہ وہ تقسیم کے درد سے متاثرہ لوگوں کی فکر کریں اس لئے ہمارے پاس صرف ایک راستہ بچتاہے کہ ہم نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ انہوں نے دنیا کی ان تباہ شدہ قوموں کی مثال دی جنہوں نے اپنے تباہی کے بعد اپنے پر ہوئے ظلم کو داستان کو نہیں چھیڑا بلکہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم کے حصول کی طرف توجہ دی۔ان کاکہناتھاکہ ریاست کے دوسرے حصوں کی طرح سرحدی خطہ پیر پنجال کے نوجوانوں میں بھی خداداد صلاحیتیں موجود ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتیوں کو بروئے کار لایا جائے ۔جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کے نائب مہتمم مولانا سعید احمد حبیب نے سرحد کے مشاہدات اور واقعات کا ذکر کیا اورکہا کہ سرحدیں تو نہیں بدل سکتی ہیں مگر حالات کا بدلنا حکومتوں کے اختیار میں ہے اس لئے یہ حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کے قیام کے لئے بھر پور کوششیں کریں ۔سیمینار میںضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق احمد زرگر ،ایڈیشنل ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر بشارت حسین، برگیڈ کمانڈر93انفینٹری اے ایس بھنڈار کر، پرنسپل ڈگری کالج پونچھ مسرف حسین شاہ ،مہتمم جامعہ ضیاء العلوم مولانا غلام قادر، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو محمد اشرف چوہان، کے کے کپور ،ایڈووکیٹ لال حسین مشتاق ، ایڈووکیٹ سنجے رینا ،پروفیسر شمیم بانڈے ، پروفیسر فتح محمد عباسی، محمد اکرم ٹھکر ضلع ٹریجری آفیسر ، محمد اسرار میر ،ایڈووکیٹ محمد زمان ،محمد تاج میر ،نرندر سنگھ تلوار، ایم این قریشی ،محمد ظفر قریشی ،این ایچ قریشی ،چوہدری طالب حسین، چوہدری اسد نعمانی ، محمد طارق خان وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت معروف ادیب وشاعر پردیپ کھنہ نے انجام دی۔ شکریہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے چیئر مین خلیل احمد بانڈے نے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نوجوان نسل امن کے ماحول میں تعلیم کو اپنا مقصد زندگی بنانا چاہتی ہے اوراس سیمینار کا بھی یہی پیغام ہے کہ امن کا قیام ہو اور تعلیم عام ہو۔اس موقعہ پر فاؤنڈیشن کی طرف سے ڈاکٹر چوہدری مسعود کو ان کی تعلیمی وسماجی خدمات کے اعزاز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ فاؤنڈیشن کی طرف سے یہ پہلا انعام تھا جو کسی تعلیمی یا سماجی شخصیت کو دیا گیا ہو۔