بھارتی وزیر اعظم نر یندر مودی نے 2اپریل کو ادھمپور میں سرینگر جموں شاہراہ پر تعمیر کی گئی نو کلو میٹر طویل ٹنل کے افتتا ح کے مو قعہ پر خطاب کر تے ہو ئے کشمیر ی نو جو انو ں کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے سامنے صرف دو آپشن مو جو د ہیں ۔ سیاحت یا دہشت گردی(Tourisim or Terrorism) ۔ ان دو میں سے آپ کو انتخا ب کر نا ہو گا ۔ بقول بھارتی وزیر اعظم کے کہ آیا آپ ریاست میںسیاحت کو فروغ دے کر جموں و کشمیر کی ترقی اور خو شحا لی کا حصہبننا چا ہو گے یا دہشت گردی کی راہ اپنا کر ریاست کاامن و امان بگاڑکر ترقی اور خو شحالی کی راہ میں سد راہ بن جا ؤ گے ۔ با الفاظ دیگر یہ آزادی پسند کشمیری عوام اور بالخصوص کشمیری نو جوانوں کے لئے اعلانیہ دھمکی تھی کہ جس با ت کا مطا لبہ لے کر آپ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں نریندر مو دی کی قیادت والی بھارتی حکو مت اس کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر نے والی نہیں ہے اور اسے سختی کے ساتھ زیر کر لے گی۔ آپشن آپ کے پاس مو جو د ہے کہ اس مطالبے سے آپ دستبردار ہو جا ئیں اور ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ کو قبول کر کے اس کے رحم و کرم پر زندگی گزر بسر کر نے پر قانع ہو جا ئے ۔ اگر آپ کو یہ قبول نہیں ہے تو جان لیجئے بھارت ہر اس عمل اور کو شش کو دہشت گردی سے مو سوم کر تا ہے جو جموں و کشمیر میں ا س کی پو زیشن اور با لادستیپر کوئی حرف آنے کے مترادف ہو گا۔ اس حوالہ سے بھارت ما ضی میں اور نہ ہی مسقبل میں کو ئی رعایت دینے کا سوچ سکتا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کا لہجہ بزبان حا ل یہ تاثر دے رہا تھا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے ۔حالانکہ جموں و کشمیرایک بین الاقوامی تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس پر سلامتی کو نسل نامی ادارے نے اپنی کئی قرارا دادیں پاس کی ہو ئی ہیں او ر بھارت نے با ضابطہ ان پر اپنے دستخط ثبت کر رکھے ہیں ۔ آج کی تاریخ میں بھارت سرے سے کشمیر کو کسی بین الاقوامی مسئلہ کے تناظر میں دیکھتا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لو گوں کے اپنے جائز مطالبہ کیلئے آواز بلند کر نے کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے ۔اسی مفروضہ کی آڑ میں جموں وکشمیر کے عوام کو اپنی فوجی طاقت سے تختہ مشق بنا یا ہواہے۔ بھارت جموں وکشمیر میں ہر سیاسی، معاشی یا تعمیراتی اقدام ریاست کو مکمل طور بھارتی یونین کے ساتھ ضم کر نے کی سمت میں انجام دیتا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مو دی نے اپنی تقریر میں دبے الفاظ میں اس بات کا اعلان کیا کہ بھارت جموں و کشمیر کو مکمل طور اپنے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور جو بھی اس راہ میں روڑے اٹکانے کی کو ئی کو شش کر تا ہے وہ دہشت گرد کہلائے گا ۔جسے ہمارے آہنی ہاتھوں کا سامنا کر نا پڑے گا۔ نریندر مودی کا یہ دھمکی آمیز لہجہ اس بات کا عکاس ہے کہ بھارت کو جموں و کشمیر میں فورسز کی طرف سے ہو رہے نہتے لو گوں کا قتل عام اور نو جوانوں اور بچوں پر پیلٹ قہر برپا کر نے کی کو ئی پرواہ نہیں ہے ۔بھارتی فوجی سربراہ بپن راوت کا احتجاج کر نے والے نو جوانوں پر بیان اور نریندر مودی کا کشمیر نو جوانوں کے نام پیغام دو نوںمیں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ایک ہی مدعا و مقصد رکھتے ہیں ۔ معنی و مفہوم کے لحا ظ سے بھی دونوں ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں ۔ بات واضح ہو جا تی ہے کہ وہ چا ہئے بھارتی سیاسی قیادت ہو یا فوجی قیادت دونوں کشمیر پر پالیسی اور پروگرام کے لحا ظ سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ دو نوں کے اوپر غرور اور طاقت کا نشہ سوار ہواہے۔ اسی لئے دونوں کشمیری نو جو انو ں کو ڈرانے دھمکانے پر اُتر آئے ہیں ۔
بھارت اپنے ملکی حجم اور فوجی قوت کے بل بو تے پر پچھلے ستّر سال سے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدے کو ایفاء کر نے سے مسلسل مکر رہاہے ۔ اس میں بھارت کی کسی سیاسی پارٹی کو کو ئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔بھارت نے کبھی اپنی سیاسی اور سفارتی قوت اور اثر رسوخ کا استعما ل کر کے جموں وکشمیر کے لو گوں کی آواز کو دبا نے کی کو شش کی اور کبھی اپنی زبردست فوجی طاقت کا استعما ل کر کے یہاں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کی کو شش کی ۔ لیکن پچھلے ستر سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے بھارت کشمیریوں کا یہ جذبہ آزادی ختم کر نے میں کا میاب نہیں ہو سکا ہے ۔ 1947ء سے لے کر اب تک کشمیری قوم کی تین نسلیںاس جذبہ کو آگے لے کر چل پڑی ہیں اور ہر نسل جذبہ آزادی کے حوالہ سے ا پنی پچھلی والی نسل سے زیادہ پر عزم اور با صلاحیت ثابت ہوئی ہے ۔ انسانی عقل کا تقاضا یہ تھا کہ گزرتے عرصہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اندر جذبہ آزادی ٹھنڈا ہو جا تا اور ہر آنی والی نئی نسل اپنے سے پہلی والی نسل کے مقابلہ میں جذبہ کے حوالہ سے کمزور ہو تی ۔ لیکن ایسا دیکھنے کو نہیں ملا ۔ بلکہ یہ جذبہ اگلی نسلو ں میںپورے قوت کے ساتھ منتقل ہو کرمستحکم ہو تا گیا۔ کشمیری قوم اپنے حق خو د ارادیت کے مطالبہ سے آج تک دستبردا ر ہو نے کے لئے تیا ر نہیں ہو ئی بلکہ اس تحریک نے وقفہ وقفہ سیمختلف جہت اور نئے رُخ اختیار کر لئے ۔ گزشتہ صدی کے اسی کی دہا ئی میں اس تحریک نے جمہوری انداز سے اپنا مطا لبہ پیش کر نے کے لئے الیکشن میں شرکت کر لی۔ تاکہ اسمبلی ایوان کا استعمال کر کے جمہوری زبا ن میںجموں و کشمیر کے لو گوں کی آواز کو بھارت کی حکومت اور سیاسی قیادت کے سامنے رکھی جائے۔ الیکشن نتائج سے خائف ہو کر بھارت نے ان الیکشنوں میں دھاندلی رچا کر جمہوریت نام کی مٹی ہی پلید کر ڈالی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جموں و کشمیر کے لو گوں کو نام نہاد جمہوری طریقے کے نام سے ہی اعتبار اُٹھ گیا۔ گزشتہ صدی کے نوے کی دہائی کے آغاز میں جب ریاست میں عسکریت کا آغا ز ہو گیا اور بھاری تعداد میں نو جوان اس میں شامل ہو گئے تو بھارتی حکمرانوں اور میڈیا نے حقائق سے منہ موڑ کر اس کی وجہ ریاست میں بڑھتی بیروزگاری کو قراردے دیااور ساتھ پڑوسی ملک پاکستان پر یہ الزام صادر کیا کہ وہ سادہ لو ح اور ان پڑھ کشمیریوں کو ہتھیار اُٹھانے کے لئے بہکا رہا ہے ۔ یہ سراسر بھارتی پروپگنڈا تھا ۔ اس میں سرے سے کوئی حقیقت نہیں تھی۔ بھارت نے اُس وقت طاقت کا بے تحاشا استعما ل کر کے بظا ہر عسکریت پسندی کو قابو کر لیا۔ لیکن اس بھارتی پروپگنڈا کی ہوا کچھ عرصہ کے بعد نکل کر رہ گئیجب چند سالوں کے بعد ہی عسکریت پھر نمودار ہو گئی اور عسکریت پسندوں کے صفحوں میں پیشہ ور اور اعلی تعلیم یافتہ نو جوانو ں کی اکثریتشامل ہو تی گئیاورعسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل چند نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کو خیر باد کہہ کر ہتھیار اُٹھا لئے۔ ایک طرف تعلیم یافتہ اور با صلاحیت نو جوان اپنے جذبہ آزادی کے اظہار کے لئے ہتھیار اُٹھانے کو ترجیح دے رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف عوام النا س پرامن انداز سے ہزاروںاور لاکھو ں کی تعداد میں جلسے جلوسوں اور احتجاج کی صورت میں بھارت سے آزادی کا مطا لبہ کر نے کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔ مگر بھارت دو نوں صورتوں میں کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے ۔ ہاتھوں میںبندوق تھامے ہو ئے نو جو انو ں کو مسلح دہشت گرد قرار دیتا ہے اور سڑکوں اور میدا نو ں میں پرامن اور جمہوری طریقے سے جذبہ آزادی کا اظہا ر کرنے والے ہزاروں نہتے لو گوں کو احتجاجی دہشت گرد قرار دیتا ہے ۔
بھارت جس چیز کو دہشت گرد ی کہتا ہے وہ جموں و کشمیر میں ایک عمومی اور معروف جذبہ (common and popular sentiment) کا نام ہے ۔ یہ جذبہ اور مطا لبہ آزادی اب یہاں عوامی رنگت اختیار کر چکا ہے اور اس طرح سے کشمیر کی تحریک آزادی عوامی تحریک کا روپ دھارن کر چکی ہے۔ اس جذبہ کا اظہار اب کشمیری نوجوان یہاں کے کھیل کے میدان سے لے کر جواہر لال یونیورسٹی، بھارت کے دیگر اعلی تعلیمی اداروں اور عالمی شہرت یافتہ یو نیورسٹیوں میں پر اعتماد طریقے سے کرتا ہے ۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر مو جود دنیا بھر کے کسی بھی کونے میں بے خوف انداز میں کر تا ہے۔ قید و بند اور تعذیب و موت کا خوف آج کے کشمیری نو جوان سے کا فور ہو چکا ہے ۔ جذبہ آزادی سے سرشار آج کا تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان اپنی درد و الم اور مصائب کی داستان اپنے ہاتھوں صفحہ قرطاس پر لاکر دنیا کو سنا تا ہے ۔آج کی تاریخ میں ہم اب اپنی تاریخ اور درپیش حالات رقم کر نے کے لئے غیر مقامی مصنفوں اور اجنبی مورخوں پر انحصار نہیں کرتے ہیں کیونکہ آج کا صلاحیت مند کشمیری نو جوان اب یہ کام بحسن خو بی انجام دے رہا ہے ۔ یہ مزاحمتیجذبہ ادارہ جاتی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں آج کا کشمیری اپنی خدمات اپنی استطاعت کے مطابق ہر شعبہ میں پیش کر رہا ہے ۔ اس عوامی مزاحمتی تحریک میں یہاں کی خواتین، بزرگ اور بچے اپنا رول نبھا رہے ہیں ۔ یہ عوامی مزاحمتی جذبہ قابل قبول ایک عام بیانیہ (Narrative) بن چکا ہے۔ جس کے لئے یہاں کے لو گوں کے پاس مستند دلائل اور زندہ و جاوید حقائق مو جو د ہیں ۔ ایسے حقائق جو منفی پروپگنڈا کر کے مسخ نہیں کی جا سکتی ہیں ۔ اس مزاحمتی جذبہ کی پشت پر جہاں قانونی اور اخلاقی جواز مو جودہیں وہیں اس کی پشت پر جوان عزم اور ناقابل تسخیر یقین بھی شامل ہے ۔ اس جذبہ کی حقانیت کے لئے مزاحمتی جدو جہد کی پُروقار اور قربانیوں سے مزین ہمارے اسلاف کی تاریخ بھی موجو د ہے ۔ ایسی تاریخ جو تختہ دار کو چو منے ، نہ بھکنے اور جھکنے کے مثالی کردار ، کمسنی سے لے کر پیرانہ سالی تک جیل کو ٹھریوں اورخانہ نظربندیوں کا سلسلہ ، عمر قید اور نا با لغ بچوں کی اسیری، جان و مال ، عزت و عصمت وغیرہ جیسے لا مثال قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایسا جذبہ اور مزاحمت کاری جو قربانیوں کے لحاظ اس قدر فراخ ہو ،میں واپسی اور سرینڈر کا کو ئی آپشن مو جو د نہیں ہے۔ کسی کے ڈرانے اور دھمکانے سے یہ جذبہ سرد نہیں پڑ سکتا۔ بھارتی وزیر چا ہئے اسے کو ئی بھی نام دے اسے یہاں کے آزادی پسند عوام پر کو ئی فرق نہیں پڑتا۔آپ بھلے ہی کشمیری قوم کے جذبہ مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے لیکن یہ جان لینا چا ہئے یہ یہاں کے عوام کے دلوں کی اُمنگ اور آنکھوں کا خواب ہے۔ اس کو مٹانے کے لئے آپ کو یہاں ہر با شندے کو مٹا نا پڑے گا ۔ اس جذبہ کا اظہار کبھی سید علی گیلانی افتاب مزاحمت کی صورت میں اُفق پر چھا جاتا ہے اور کبھی برہان مظفر وانی سالار قافلہ مزاحمت کی صورت میں نمو دار ہو جا تا ہے۔ آپ کے لئے بھلے ہی یہ دو نوں کردار دہشت گرد ہوں لیکن یہاں جذبہ آزادی کے شعار اور مزاحمت کے پیکر قرار پاتے ہیں ۔ اس جذبہ کا اظہار کبھی یہاں کا نو جوان تمام راہیں مسدود پاکر ہاتھ میں پتھر اُٹھا کر کر لیتا ہے اور کبھی سبز ہلالی پرچم لہرا کر بھارت جبروت کے خلاف اپنی نا راضگی کا اعلان کرتا ہے ۔ یہ اس جذبہ مزاحمت کے اظہار کی مختلف شکلیں ہیں جن میں گزرتے وقت کے ساتھ جدت اور تنوع بھی پیدا ہو تا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے زمینی حقائق سے صرف نظر کر کے کشمیریوں کے اس مختلف النوع اظہار جذبہ مزاحمت کو ماضی میں بھی کئی بُرے القاب دے کر بد نام کر نے کی کو شش کی گئی ہے اور آج بھی با لکل بھارت اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مزاحمت کاری میں پیش پیش نو جو انو ں کو نشیلی ادویات کی لت میں ملوث قرار دے دیا گیا اور کبھی ذہنی عدم توازن کا شکار قرار دے کر ان کی کردار کشی کی گئی۔ کبھی پیسوں کے عوض سنگبازی کر نے کا الزام ان پر عائد کر کے بھارتی اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کو شش کی گئی ۔حقیقت حال سے با خبر ہو نے کے با وجود بھارت زمینی حقائق تسلیم کر نے کی موڑ میں دکھا ئی نہیں دے رہا ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کو حل کر نے کے لئے ہنوز کوئی سنجیدگی دکھا نے کے لئے تیار ہو رہا ہے ۔ بھارت کے اس غیر سنجیدہ اپروچ نے پورے جنو ب ایشائی خطے کو نیوکلیئر فلائش پلائنٹ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ بھارت کی اس غیر سنجیدگی کا ہی یہ مظہر ہے کہ جموں وکشمیر میں فورسز کو بے لگام طاقت کا استعمال کر نے کی کھلی چوٹ ملی ہوئی ہے ۔ بے رحمی سے آئے روز کشمیری نو جوانو ں پر پیلٹ وار کر کے آنکھو ں کی بینا ئی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جو بھارت کی نظروں میں کو ئی جرم اور غیر انسانی سلو ک نہیں ہے ۔ ہاں سنگ بازی کر نے والے نو جوان دہشت گرد کہلائے جا سکتے ہیں مگر نہتے لو گوں پر راست فائرنگ کر نا ان کے نزدیک کو ئی جرم نہیں کہلا تاہے ۔ یہ وہ زمینی صورتحا ل ہے جس نے کشمیریوں کو افسردہ اور مایوس کر کے رکھا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نے کشمیری نو جوانو ں کو دو آپشن پیشکش کی ہیں: سیا حت یا دہشت گردی ۔سیاحت سے مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے پیدائشی حق خود اردیت کے مطا لبہ سے دستبردار ہو جایئے اور جذبۂ مزاحمت کو بھارت کی طاقت کے سامنے سرینڈر کر لیجئے ، جب کہ دہشت گردی کا لیبل کشمیریوں پر چسپان کر کے ان کے قتل عام کو اپنے لئے جائز وحلال قرار دیا گیا ہے ۔ بھارتی حکومت نے مصروف مزاحمت کشمیری قوم کو یہ دو نوں آپشن سامنے رکھ کر با قی تمام مواقع اور راہوں کو ان کے لئے شاید ممنوعہ ٹھہرایا ہوا ہے ۔ یہ سوچ کی تنگ دامنی ہے یا حقیقت پسندی سے فرار ؟ تاریخ اس سوال کا جواب چاہے گی ۔
رابطہ:۔[email protected]