روشن اُمید
بشارت رشید
موجودہ ڈیجیٹل دور میں صحافت محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری بن چکی ہے۔ ایسے میں پیشہ ورانہ، متوازن اور اخلاقی صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ خصوصاً اردو صحافت، جو ایک طویل علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کی حامل ہے، اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے معیاری تعلیمی کورسز کی اشد ضرورت ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے ڈسٹنس اور آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے پیش کیا جانے والا ’’ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم‘‘ اسی سلسلے کی ایک اہم اور قابلِ ستائش پہل ہے۔یہ کورس نہ صرف اردو زبان کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہا ہے بلکہ نوجوانوں کو صحافت کے میدان میں پیشہ ورانہ مہارتیں سکھانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر سال اچھی تعداد میں طلبہ اس کورس سے مستفید ہو کر اردو صحافت کے شعبے میں قدم رکھتے ہیں اور مختلف میڈیا اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کورس ڈسٹنس اور اوپن لرننگ کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عامل صحافی اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی آسانی کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کشمیر میں اگرچہ صحافت کی تعلیم دینے والے کئی ادارے موجود ہیں، تاہم زیادہ تر طلبہ کا رجحان انگریزی جرنلزم کی جانب ہوتا ہے۔ نتیجتاً اردو صحافت میں تربیت یافتہ صحافیوں کی تعداد نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے اردو جرنلزم کے اس خصوصی کورس کا آغاز ایک اہم قدم تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کورس پہلے ’’پی جی ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور گزشتہ کئی برسوں سے ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم کے نام سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
میں نے خود بھی اپنی صحافتی مہارتوں کو مزید مضبوط بنانے اور اپنے تعلیمی کیریئر کو بہتر بنانے کے لیے کشمیر یونیورسٹی سے ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم کیا۔ تقریباً دس برس کے صحافتی تجربے اور ماس کمیونیکیشن و جرنلزم کی تعلیم رکھنے کے باوجود، اس کورس کے دوران مجھے بہت سی نئی چیزیں سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورس کا نصاب کس قدر جامع، معیاری اور عملی نوعیت کا حامل ہے۔کورس کے دوران فراہم کیا جانے والا مطالعاتی مواد نہایت مفید، معلوماتی اور آسان فہم ہے، جس سے طلبہ کو صحافت کے بنیادی اصول، رپورٹنگ، فیچر رائٹنگ، ادارت، میڈیا اخلاقیات، میڈیا قوانین و ضوابط، ریڈیو نشریات، ٹیلی ویژن نشریات اور دیگر اہم موضوعات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ ورک بھی اس کورس کا ایک اہم حصہ ہے، جو طلبہ میں تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے۔ مختلف موضوعات پر تحقیق کرتے ہوئے طلبہ نہ صرف علمی وسعت حاصل کرتے ہیں بلکہ صحافت کے عملی پہلوؤں سے بھی بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
ہمارے پروجیکٹ کا وائوا ووچے (Viva Voce) ممتاز ماہرِ صحافت پروفیسر ناصر مرزا کی نگرانی میں منعقد ہوا، جو ہمارے لیے باعثِ فخر بات تھی۔ پروفیسر ناصر مرزا کئی دہائیوں سے صحافت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے بے شمار طلبہ کو صحافت کی تعلیم دی ہے۔ کورس میں پروفیسر محمد رفیع اور پروفیسر محمد الطاف آہنگر (الطاف انجم) جیسے قابل اور تجربہ کار اساتذہ طلبہ کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ باقی فیکلٹی ممبران بھی محنت اور لگن سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار میڈیا دور میں جو نوجوان صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کورس نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ذمہ داری، تحقیق، توازن اور اخلاقیات کا تقاضا کرتی ہے۔ ایسے کورسز طلبہ کو صحافتی اقدار، پیشہ ورانہ مہارتوں اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں سے روشناس کراتے ہیں، تاکہ وہ مستقبل میں بہتر اور بااخلاق صحافی بن سکیں۔لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں ’’ڈپلومہ اِن اردو جرنلزم‘‘ جیسے کورسز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ یہ کورس نہ صرف اردو صحافت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ نئے اور پیشہ ور صحافیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، متوازن رپورٹنگ کو اپنانے اور صحافتی اخلاقیات کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کی یہ کاوش واقعی قابلِ تعریف ہے اور اردو صحافت کے مستقبل کے لیے ایک روشن امید بھی۔