کشمیر حل یا اعلان جنگ؟

 
عراق اور شام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤ نیاں مانی جاتی ہیں لیکن کشمیر کی صورت حال دنیا کے کسی بھی جنگ زدہ خطہ کی سے زیادہ سنگین ہے ،جہاں تنگ آمدبجنگ آمد کے مصداق حالات کی برہمی کو قابو کرنے کے لئے 7؍لاکھ فوجیوں نے اب بندوق اور ہتھیاروں کے دہانے زیادہ وسیع پیمانے پر کھولے ہوئے ہیں ۔اس کے باعث تشدد آمیز کارروائیاں اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گئی ہیں۔کشمیر میں تسلسل کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ 30سال سے بغیر کسی توقف کے جاری ہے جب کہ دلی نے کسی حل کے بجائے بے تحاشہ فوجی طاقت ، میڈیا ئی زہر افشانیاں اور نام نہاد سیاسی عمل کو بھی حرب وضرب کا سامان بناکر میدان میں جھونک دیا ۔اس  کے باوجود دلی اہل کشمیر کا جذبہ ٔ مزاحمت کچل نہ سکی ۔حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کو افسپا کی شکل میں زبردست جنگ زدہ خطہ قرار دینے کے باوصف یہاں کی زمینی صورت حال نہ صرف اس کے قابو سے باہر ہے بلکہ انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ، تشدد کی آنچ بڑ ھ رہی ہے اور امن و مفاہمت کی پالیسی سے گریز پائی اختیار کی جارہی ہے۔ اس متشددانہ پالیسی کواپناکر کشمیر میںحالات مزید ابتری کی جانب جا ر ہے ہیں ۔ موجودہ ناگفتہ بہ حالات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی اب بھی یہ موٹی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہے کہ کشمیر کافی دیر سے آگ کی بھٹی میں جھلس رہا ہے ، جس پر پانی چھڑکنے کی ضرورت ہے مگر دلی کی سخت گیر یت اس آگ پر تیل چھڑکنے کا کام دے رہی ہے ۔ خاص کر مرکز میں بی جے پی بر سر اقتدار آنے سے کے سخت گیر یت ہی اس کی کشمیر پالیسی کا تانا بانا بنی ہوئی ہے ۔ گذشتہ سال ستمبر میں تادیر چرچا میں رہنے والی بھارت کی’’ سرجیکل سٹرائک ‘‘سے لے کر کشمیر میںملی ٹینٹوں اور مظاہرین کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور پاکستان سے گفت وشنید بند کر نے تک زمینی صورت حال ہر اعتبار سے تشویش ناک بنتی جاری ہے ۔ اُدھر جنوبی کشمیر میں مقامی جنگجوؤں کا یکے بعد دیگرے جاں بحق ہونے کے واقعات کے بیچ نئی نسل جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیارکرتے ہوئے عسکریت کے گراف کو کہیں بھی گرنے نہیں دے رہی ہے اور اس وقت پورا خطہ مقامی عسکریت پسندوں سے بھراپڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آئے دن فوجی محاصرے، تلاشی کاروائیاں اور جھڑپیں چھاپے جارہی ہیں ۔ ضلع شوپیاں میں کچھ عرصہ قبل ملی ٹینسی کا صفایا کر نے کے لئے فورسز کی جانب سے24؍دیہاتوں کا بڑے پیمانے پر ایک ہی وقت کریک ڈاؤن کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ کشمیر میںفوجی دبدبہ بالکل بھی گار گر ثابت نہیں ہورہا ۔ قبل ازیں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کر دیا تھا کہ 2؍ماہ کے اندر اندرکشمیر میں معمول کے حالات لوٹ آئیں گے اور اشارہ یہ بھی دیاتھا کے لئے فورسز کو سچوئشن ہینڈل کر نے میںکھلی چھوٹ دی جاچکی ہے ۔ متحدہ حریت قیادت سمیت کئی تنظیموں نے سخت رد عمل کااظہار کرتے ہوئے بیان کو کھلی دھمکی سے تعبیر کیا مگر ارضی حقائق اسے محض دھمکی نہیں بلکہ دلی کی کشمیر پالیسی سجھا رہے ہیں۔ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ سیاسی تنازعہ ہونے کے باوجود دلی کشمیر میں حالات پرقابو پانے کے لئے طاقت کے بے تحاشہ استعمال کی راہ پر گامزن ہے ۔قابل افسوس امر یہ بھی ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے جائز سیاسی مطالبہ کی شنوائی سے منکر ہونا بھارتی جمہوریت کی نفی کرتا ہے جب کہ امن مذاکرات سے اعراض اور سیکورٹی اہلکاروں کو بے لگام اختیارات دینا اس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے ۔ایسے میں وزیردفاع ارون جیٹلی کا یہ کہنا کہ کشمیر ’’میدان جنگ ‘‘ہے اورجس کی تائید میں بی جے پی نیتارام مادھو کا یہ بولنا کہ ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ‘‘ دلی کے مائنڈ سیٹ کو واضح کر تے ہیں ۔ یہی راگ آرمی چیف جنرل بپن روات نے یوں الاپی کہ’’کشمیر میں ایک گندی جنگ چل رہی ہے اور گندی جنگ سے نمٹنے کے لئے ہوشیار طریقے آزمائے جاتے ہیں‘‘۔ یہ گویا اس بات کا برملااعتراف ہے کہ بھارتی فوج او  پولیس  کسی خطۂ دشمن کشمیر میں برسرجنگ ہیں ۔ بھارت کے سپہ سالار جنرل صاحب نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو ایک خصوصی انٹرویو میں اس ’’گندی جنگ‘‘ کا توڑ کر نے کااعلان کیا جس پر مبصرین  یہ کہتے ہیں کہ اس کی چھنٹیں بھارت کی جمہوریت کو داغ دار کریں گی ۔ مودی  کابینہ کے اس وقت کے سینئر وزیر اور موجودہ اُپ راشٹر پتی وینکیا نائیڈو نے جنرل راوت کے استدلال کی توثیق کردی لیکن انسانی حقوق کے عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوجی سربراہ کے اس طرز گفتار کی کڑی تنقید کی ۔ خودہندوستان میں کانگریس کے ایک لیڈر سندیپ ڈکسٹ نے آرمی چیف کے اس بیان کو’’سڑک کا غنڈہ‘‘ کا جملہ قرار دیا ۔ حق یہ ہے کہ جب سے آرمی چیف نے یہ آدیش جاری کیا کہ جو لوگ عسکریت پسند مخالف کاروایئوں میں رُکاوٹ ڈالیں گے انہیں جنگجوؤں کا بالائے زمین ورکر قرار دے کر گولی کا نشانہ بنایا جاسکتا، تب سے فوج کارُخ انتہائی خطرناک اور کڑا ہوگیا ہے ۔جنوبی کشمیر کے الگ الگ جگہوں پرفورسز اہلکاروں اور جنگجوں کے مابین جھڑپیں اب معمول بن چکی ہیں جب کہ ان مقامات پر فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی عام بات ہو گئی ہیں جن میں مظاہرین کو ڈائریکٹ فائرکانشانہ بنانا اور چھرہ ماری کرنا ایک عام کہانی ہوگئی ہے۔یہ چیز اس بات کی عکاس ہے کہ دلی کشمیر میں برسر جنگ ہے اور اس جنگ کو تب تک جاری رکھنے کا عہد بھی کئے ہوئی ہے جب تک نہ کشمیری خاموشی سے کشمیر کاز سے کنارہ کش ہوجائیں ۔ تجزیہ نگار کی رائے میں یہ سخت گیرانہ سوچ کشمیر میں نوجوان نسل کو بندوق اٹھانے کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ چونکہ 2010میں بھی کئی سیاسی ماہرین بار بار حکومت کی تنقیدیںکر تے رہے کہ کشمیر کی نوخیز کلیوں کو پی ایس اے کے تحت پولیس تھانوں اور جیلوں میں قید کرنے سے کسی کابھلا نہ گا بلکہ اس سے عسکریت کو ہی فروغ ملے گا لیکن کوئی سنے تب نا۔ 
  2016ء کی طویل مدتی ایجی ٹیشن نے وادی کی سیکورٹی صورتحال کو بالکل بدل کے رکھ دیا ہے اور اب چھوٹا سا حادثہ بھی گلی کوچوں میں ایک بڑے احتجاج میں بدل جاتا اور وادی میں پْر تشدد بد امنی کے لمبے دور کے ختم ہونے تک 120؍ شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مرنے والوں میں 11 سے 20 سال کی عمر کے 44، 21 اور 30 سال کی عمر کے 44 ، 31برس کی عمر سے اوپر کے 16، اور 5سے 10 سال کی عمر کے 3 آدمی شامل تھے۔ مارے جانے والوں میں سب سے زیادہ 39 طلباء تھے اور باقی ہنر مند و غیر ہنر مند مزدور اور تاجر تھے۔سیاسی مبصرین اور تھنک ٹیکوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کی موجودہ غیر یقینی صورتحال سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ نئی دلی کی آرم ٹیوسٹنگ پالیسی اورفوجی دبدبے سے صورتحال پر قابو پانے پر کمر بستہ ہے مگر یہ منفی کاوشیں بالکل بھی کار گر ثابت نہیں ہو رہا ۔ کشمیر میں مودی حکومت کی سخت گیر حکمت عملی در اصل 2010 ء میں آج کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال کی تھیوری کا ماحصل ہے ۔ اجیت ڈوال کے مطابق بھارت کی 1947میں برصغیر کی تقسیم کے بعدپنڈت جواہر لال نہرو کی مصالحانہ پالیسی ہی دلی کی بڑی غلطی ہے ۔ پاکستانی قبائیلوں کو کشمیر سے نکالنے کے بجائے بھارت کا اقوام متحدہ کی جانب رجوع کرنے سے ہی مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ بن گیا جب کہ آرٹیکل370اسی نرم پالیسی کا لب لباب ہے ۔ ڈوال کے مطابق بھارت کو بصراحت مان لینا چاہئے کہ کشمیر بھارت کا ایک ناقبل تنسیخ حصہ ہے جس پر کسی بھی بات چیت کا امکان ممکن نہیں ہے ۔مذکورہ پالیسی کے مطابق کشمیریوں کو صرف طاقت کے بے تحاشہ استعمال سے ہی زیر  کیاجاسکتا ہے۔ستمبر2014ء میں نریندی مودی کا کشمیری مزاحمت پسندوں کی پاکستانی ہائی کمشنرکے ساتھ میٹنگ کے رد عمل میں خارجہ سیکریٹری سطح کی بات چیت کو منسوخ کرنا در اصل اسی جامد وسخت حکمت عملی کی ایک کڑی تھی ۔ ڈوال ڈاکٹرین مختصراًمتشدد انہ تجربہ ہے جو کشمیر کے آتش فشاں کا مقابلہ اس طرح کر نے کاروا دار ہے کہ اگر مدمقابل سوکھی گھا س  ہے تواسے پٹرول اور دیا سلائی دکھاؤ ، سب کچھ بھسم ہوگا کہ تو راکھ سے کوئی تعمیر نہیں ہو سکتی ہے مگر یہ دلی کی بھول ہے کہ اگر وہ یہ سمجھے کہ ا س راکھ میں کوئی چنگاری نہ بچے ۔ بہتری اور برتری اسی میں ہے کہ کشمیر حل کے لئے تمام پُر امن آپشنز کا مستحکم اور مثبت انداز ِ فکر کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ برصغیر امن ، بھائی چارے اور تعمیر وترقی کا دور دورہ ہو ۔    
نوٹ:مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کیساتھ وابستہ ہے
رابطہ:9797205576،[email protected]
