سرینگر //میوہ اور سبزی اگانے والے کسانوں کی انجمن ہل سٹیٹس ہارٹیکلچر فورم کی ایک میٹنگ سنیچر کو منعقد ہوئی جس میںسوتھ ایشن فری ٹریڈ اگریمنٹ کے ذرےعے سے ایران اوردیگر ممالک سے افغانستان کے راستے بھارت آنے والے سیب پر 100فیصد ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔فورم نے اپنے بیان میں کہا کہ گھریلو سطح پر سیب اگانے والوں اور ان سے جڑے افراد کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکار کو ایران اور دیگر ممالک سے آنے والے سیب پر 100فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہئے جبکہ بر آمد کرنے کی مقدار بھی مقرر کرنی چاہئے ، ورنہ اس سے سرکار کی آمدن میں کافی حد تک کمی آئے گی۔فورم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مختلف معاملات پر غور کرنے کیلئے لاسی پورہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں جمعرات کو میوہ اور سبزیاں اگانے والے کسانوں کو درپیش مشکلات پر تفصیلی سے غور و خوض کیا گیا ۔ فورم کا کہنا ہے کہ وہ مختلف معاملات کے حل کےلئے ہل سٹیٹس کی سرکاروں سے رابطہ کریں گے جن میں غیر قانونی طرےقے سے سیب کو ایران اور دیگر ممالک سے بغیر کسی ٹیسٹ کے برآمد کررہے ہیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ یہ صرف نقصان دہ ہی نہیں بلکہ ان سے چھوٹے میوہ اگانے والے کسانوں کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیب کو فروخت کرنے کی وجہ سے منڈیوں میں گھریلو سیب کی خریداری میں 30سے 40فیصد کمی آئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسی رہی تو ہل سیٹیس میں سیب اگانے والے کسانوں کو زبردست نقصان پہنچاے گا۔