کشتواڑ//ضلع کے مختلف حصوں میں آوارہ کتوں نے لوگوں کا جینامحال کر دیا ہے۔ میونسپلٹی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ آوارہ کُتوں نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ قصبہ کے ایک مقامی شخض نے بتایا کہ آ وارہ کُتوں نے قصبہ کی ہر ایک گلی پر دھاوا بول رکھا ہے،جس سے مقامی لوگ پریشان ہیں۔ایک مقامی کاروباری روی سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آوارہ کُتوں کی بدعت سی کا رپوریشن کو کافی پریشانی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قصبہ میں آوارہ کُتوں کی صیح تعداد کا کوئی اندازہ نہیں ہے بلکہ یہ بات یقینی ہے کہ انکی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ کُتے زیادہ تر گوشت کے دوکانوں کے نزدیک پائے جاتے ہیں، جہاں پر دوکاندار انہیں کچا مواد فراہم کرتے ہیں۔لوگوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل آوارہ کُتوں نے ایک مقامی شخض کو کاٹا ،جب وہ مالی پیٹھ سے کشتواڑ کی جانب رواں تھا ۔انہوں نے کہا کہ کُتوں کے خوف کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو اکیلے میں اسکول نہیں بھیجتے ہیں۔قصبہ میں انکی آبادی میں ہورہے اضافہ سے انکابازار جانا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ آوارہ کُتوں نے بچوں ، خواتین اور بُزرگوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کیا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایک اور مقامی شخض سجاد رشید نے کہا کہ صُبح کے وقت جب وہ مساجد میں نماز ادا کرنے کیلئے جاتے ہیں،تو وہاں پر ہمیشہ سے آوارہ کُتوں کا خوف طاری ہوتا ہے جبکہ بعض کُتے اُن پر حملہ بھی کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دیکھا گیا ہے کہ بس اسٹینڈ کشتواڑ میں سینکڑوں کُتوں نے اپنا ڈھیرہ جمایا ہے کیونکہ لوگوں نے وہاں کوڑا کرکٹ ذخیرہ کرنے کیلئے ڈمپنگ یارڈ بنایا ہے۔لوگوں نے کشتواڑ ضلع انتظامیہ بشمول میونسپلٹی افسراں کو اس معاملے پر غور کرنے ا ور لوگوں کی زندگیوں کو ان خطر ناک کُتوں سے بچانے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے قصبہ کو آوارہ کُتوں کے چنگل سے نجات دلانے کی اپیل کی ہے۔