کشتواڑ سازش کیس : حزب کے تین جنگجوئوں پر فرد جرم عائد:این آئی اے

جموں // قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میںعسکریت کی بحالی کی سازش سے متعلق 2019 کے ایک مقدمے میں حزب المجاہدین کے 3جنگجوئوںکے خلاف چارج شیٹ دائر کی۔ این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کشتواڑ میں ہنجلہ کے جعفر حسین اور پوچھل کے طارق حسین گیری اور ڈوڈہ ضلع کے تنتہ احمد کے تنویر احمد ملک کے خلاف چارج شیٹ جموں کی خصوصی عدالت میں پیش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ دو مقتول عساکر اسامہ بن جاوید عرف 'اسامہ' ، ہارون عباس وانی اور زاہد حسین عرف 'زاہد' کے خلاف ڈوڈہ کشتواڑ بیلٹ میں عسکریت سے متعلقہ مختلف واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ۔ان تینوں کو سیکیورٹی فورسز نے 2019 اور 2020 میں الگ الگ مقابلوں میں ہلاک کیا تھا۔ترجمان نے بتایا "حسین ، ملک اور گیری لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے تھے اور متعدد عسکریت کے واقعات میں ملوث حزب المجاہدین جنگجوئوںکو پناہ دینے کا اہتمام کر رہے تھے"۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 8 مارچ 2019 کو تھانہ کشتواڑ میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کے پی ایس او کااسلحہ چھیننے سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ترجمان نے بتایا "این آئی اے نے 2 نومبر 2019 کو اس معاملے پر دوبارہ اندراج کیا تھا اور تفتیش سنبھال لی تھی جس سے انکشاف ہوا ہے کہ فوری معاملہ ضلع کشتواڑ میں سال 2018-2019 کے دوران حزب المجاہدین کے ذریعہ کی جانے والی متعددعسکریت کی کارروائیوں میں سے ایک تھا" ۔انہوں نے کہا کہ ان تمام عسکری کارروائیوں کا مقصد کشتواڑ میں اسلحہ لوٹ کر اور ایک خاص برادری کے ممتاز افراد کو نشانہ بنانا تھا تاکہ اس برادری کے ممبروں میں دہشت پیدا ہو۔ضلع کشتواڑ نے یکم نومبر 2018 کو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں پہلا عسکریت کا واقعہ درج کیا جب بی جے پی کے سینئر رہنما انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کو کشتواڑ شہر میں ان کے گھر کے باہر ہلاک کردیا گیا۔ اس کے بعد 9 اپریل 2019 کو ضلعی اسپتال کے اندر آر ایس ایس کے کارکن چندرکانت شرما اور اس کے پی ایس او کی ہلاکت اور 2019 میں علیحدہ مواقع پر دو پولیس اہلکاروں کی سروسز رائفلز کی لوٹ مار ہوئی تھی۔28 ستمبر 2019 کو سیکورٹی فورسز نے اس وقت ایک اہم پیشرفت حاصل کی جب انہوں نے رام بن میں ایک انکاؤنٹر میں اسامہ بن جاوید اور اس کے ساتھی زاہد حسین سمیت تین ملی ٹنٹوں کو ہلاک کردیا۔وانی گذشتہ سال 15 جنوری کو ڈوڈا ضلع کے گوندانہ بیلٹ میں ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا