جموں//گوجربکروال اصلاحی کمیٹی نے محکمہ اوقاف اسلامیہ اورمال سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ جموں میں ناجائزطورقبضہ کی گئی 21 لاکھ کنال اراضی کسٹوڈین ،55ہزاراوقاف اراضی کوخالی کرایاجائے ۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیزکے مطابق گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری چوہدری اخترحسین نے کہاہے کہ محکمہ اوقاف اسلامیہ کوچاہیئے کہ وہ جموں میں ناجائزطورپرقبضہ کی گئی کسٹوڈین اوروقف اراضی کوخالی کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ فی الوقت جموں میں 21لاکھ کسٹوڈین اور55ہزار کنال وقف اراضی پرناجائزقبضہ ہے جسے خالی کراناوقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1947کے بعد مسلمانوں کی جائیداد جس قدرسازش کاشکارہوئی ہے اورہمیشہ ہی مسلمانوں کوہراساں کیاجاتارہا ہے جوکہ افسوسناک ہے ۔انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست قوتوں نے جموں میں بڑے پیمانے پروقف اورکسٹوڈین جائیدادپرقبضہ کیاہواہے ۔انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں کوجان لیناچاہیئے کہ اب جموں کامسلمان زیادتیوں کوقطعی برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت فرقہ پرستوں کی حمایت کررہی ہے جوکہ افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے قائم ہوتے ہی فرقہ پرستوں نے قبائلی خانہ بدوش طبقے کوپریشان کیاجس پرحکومت نے نوکیل نہیں کسی۔چوہدری اخترحسین نے کہاکہ مخلوط حکومت بھاجپااورآرایس ایس کے اشارے پرمسلم مخالف پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ کٹھوعہ میں معصوم آٹھ سالہ بچی کی عصمت ریزی اورقتل اس بات کی واضح مثال ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں جموں سے مسلمانوں کوباہرکھدیڑنے کیلئے ہرطرح کے اپنانے پربضدہیں۔انہوں نے کٹھوعہ معاملہ کے ملزمان کے وکیل انکورشرماکے زہریلے بیان کوناقابل قبول اورذہنی بیماری سے تعبیرکیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کوہندومسلم بھائی چارے کوزک پہنچانے کی کوشش کرنے والے اس وکیل کیخلاف کارروائی عمل میں لانی چاہیئے کہ افسوس کی بات ہے کہ ایسانہیں کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی اراضی 14.11 لاکھ کنال کسٹوڈین ،ساڑھ چارلاکھ دیگرمحکمہ جات کے زیرقبضہ ہے ،55ہزارکنال اوقاف اسلامیہ کی خالی جائے تومسلمانوں کوکسی چیزکی ضرورت نہیں رہے گی۔ چوہدری اخترحسین نے محکمہ مال اوراوقاف سے اپیل کی ہے کہ کسٹوڈین اوروقف اراضی سے قبضہ کوخالی کرانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔