کرناہ میں نوعمر لڑکا نالے میں غرقآب

کرناہ+ٹنگمرگ//کرناہ میں ایک نوعمر لڑکا نالے میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا جبکہ ٹنگمرگ میں ایک دلیرپولیس افسر نے ایک نوجوان کو ڈوبنے سے بچایا۔ کرناہ میں ایک 15برس کا لڑکاتوفیق احمدولد محمد رفیق ساکن پاردا،نالہ قاضی ناگ میں غرق ہوا۔اس حادثے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں لوگ نالہ قاضی ناگ کے نزدیک جمع ہوئے اور کچھ نوجوانوں نے اس نوعمر کو نالے سے برآمد کرکے سب ضلع اسپتال کرناہ پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے وہاں معائنے کے بعد لڑکے کو مردہ قرار دیا۔پولیس کے مطابق نوعمر کی موت کے حوالے سے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کی گئی۔درنگ ٹنگمرگ میں پولیس کے ایک دلیراسسٹنٹ سب انسپکٹر نے اپنی جان کی پرواہ کئے بنا ایک نوجوان کو نالہ فیروزپورہ میں ڈوبنے سے بچایا۔اطلاعات کے مطابق سنیچروار کو بعد دوپہردرنگ ٹنگمرگ میں اُس وقت ایک 17برس کا نوجوان شرین شکیل ولدشکیل احمدبٹ ساکن سرینگر  نالہ فیروزپور میں پانی کے تیزبہائو کے ساتھ بہہ گیا جب وہ نالے میں نہارہاتھا۔وہاں موجودلوگوں نے فوری طور ڈی ایس پی ٹنگمرگ کو فون کیا اور انہوں نے ایک پولیس پارٹی کوجائے حادثہ پر روانہ کیا۔پانی کے تیزبہائو کودیکھتے ہوئے وہاں موجودلوگوں میں ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ نالے میں کود کر اس لڑکے کوبچاتے۔اس موقعہ پرٹنگمرگ تھانے میں تعینات اے ایس آئی شکیل احمد بیگ نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر نالے میں چھلانگ لگائی اورغرق آب ہوئے لڑکے کونالے سے بحفاظت باہر نکالا۔ بتایا جاتاہے کہ جس وقت مذکورہ نوجوان نالے میں نہانے کی غرض سے ڈبکیاں لگانے میں مصروف تھا، عین اسی وقت پہاڑی پر زبردست بارش ہوئی جس کی وجہ سے نالے میں اچانک پانی کا بہاو تیز ہوگیا جس کی زد میں 17سالہ نوجوان آگیا جس سے پولیس اہلکار نے جان کی بازی لگا کر بچا لیا۔مقامی لوگوں نے پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی دلیری کی تعریف کرتے ہوئے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔(مشمولات کے این ایس)