کرائم برانچ مرحبا آفرین!

آصفہ عصمت دری اور قتل کیس میں ملوث محکمہ پولیس سے منسلک ایک سپیشل پولیس افسر (ایس پی او) دیپک کھجوریہ کا براہ راست انسانیت سوز جرم میں ملوث ہونا جہاںریاستی محکمہ پولیس پر سوالیہ نشان کھڑا کر تاہے، وہیں پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے جرم میں ملوثین کو قانون کی پکڑ سے بچانے کے لئے ٹھوس ثبوتوں کو نقصان پہنچانا محکمہ پولیس پر ایک ایسا بد نما داغ ہے جو شاید ہی دُھل سکے گا۔ پولیس محکمہ سے منسلک ایک ایس پی اور مقامی ایس ایچ او جو مذکورہ کیس کا تحقیقاتی آفیسر بھی تھا ،نے محکمہ پولیس کو ایک ایسی ڈگر پر لا کھڑا کر دیا کہ لوگ سمجھ نہیں پاتے کسے قانون کا محافظ سمجھیں، سماج میں جرائم کی بیخ کنی  کیلئے کس پر بھروسہ کریں، کس سے احساس ِتحفظ چاہیں ، کس کی رکھوالی کے بھروسے رات کو میٹھی نیند سوئیںاور دن کو زندگی کی گاڑی چلائیں۔ بایں ہمہ حقائق کی بنیاد پرآصفہ کیس کی گتھی کو منصفانہ و پیشہ ورانہ طریقے سے سلجھانا محکمہ پولیس کیلئے ایک سب سے بڑا چیلنج بنا تھا ۔ ایک جانب پولیس محکمہ کا عوام میں اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنا، دوسری جانب کیس کی تحقیقات کو فرقہ پرستوں کی حوصلہ شکن اور صبر آزما مخالفتوں کے باوجود پایہ ٔ تکمیل تک پہنچاناگویا آگ کے دریا کو پار کرنا تھا۔ خاص کر اُن سیاسی ہستیوں کا پولیس انکوائری میں بلواسطہ مخل ہونا بھی بعید ازامکان قرارنہیں دیا جاسکتا جو سہ طلاق کی مخالفت میں یہ پٹی پڑھاتے نہیں تھکتے کہ ’’ مسلم خواتین کو مساوی حقوق اور انصاف دلاکر ہی دم لیں گے‘‘ لیکن یہاں ایک آٹھ سالہ مسلم بچی آصفہکی عصمت دری کرنے والے گدھ نما ملزموںکے حق میں انہی نیتاؤںکے چیلے چانٹے کھٹوعہ میں ریلیاں نکلواتے رہے۔ یہاں کے قانون دانوں کا وہ طبقہ بھی کرائم برانچ کی تحقیقات میں اَڑچنیں ڈالنے اور رخنہ اندازیاں کر نے میںہراول دستے کے طور کھڑا تھاجو قانون کی کتابیں پڑھ پڑھ کر اتنا گر چکا ہے کہ قانون کی زبان میں بات کرنے کے بجائے اسے کھلے عام فساد وعنادکی زبان میں بات کرنے سے بھی اجتناب نہیں۔ اگر بات یہ نہیں تو یہ لوگ آصفہ چارج شیٹ کی مخالفت میںAK47 اُٹھانے تک کی دھمکی قطعاًنہ دیتے ۔ بہر حال اپنے طاقت ور آقاؤں کی سرپرستی کے باوجود یہ غنڈے کرائم برانچ کے چالان میں درج ناقابل تردید حقائق کے سامنے منہ کی کھا گئے ۔ اس حوالے سے کرائم برانچ نے قابل ِ ستائش کار کردگی کا مظاہر ہ کیا جس کے لئے یہ ٹیم مبارک باد اور اعزاز کی مستحق ہے ۔اس نے فرض شناسی ، احساس ِ ذمہ داری اور عوامی اُمیدوں  کے عین مطابق تحقیقاتی عمل میں غیر جانب دارکردار نبھایا۔ بے شک ایسے ہی افسران موجودہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں عوام کے لئے جگمگاتے تاروںکی مانند ثابت ہوسکتے ہیں ۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ کرائم برانچ کے ان تفتیش کاروں کو اپنی حسن کارکر دگی پرموزون یوارڈ سے نوازیں کہ انہوں نے’’ بیٹی پڑھا بچائو، بیٹی بچائو‘‘ کی لاج رکھی۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی چاہیے کہ وہ کرائم برانچ کی اس پوری ٹیم کی عزت افزائی کریں ۔اسے مبارک کہ اس نے جرأت و صداقت کا ثبوت پیش کر کے آصفہ قتل کیس کی منصفانہ تفتیش سے اُن شر پسندوں کے منہ پر زناٹے دارطمانچہ مارا جو ریاستی پولیس کو گویا اپنا عسکری بازو سمجھتے ہیں ۔ 
9797110175, 7780918848