ڈوڈہ //ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر سے کچھ ہی میٹر کی دوری پر اپنی فریاد کو لے کر احتجاج پر بیٹھے گوجر برادری سے تعلق رکھنے والا 12 افراد پر مشتمل بے سہارا کنبہ ایک ماہ سے اس انتظار میں ہے کہ شائد ہمارے ساتھ انصاف ہوسکے۔ڈوڈہ کی تحصیل کاہرہ کے گاو¿ں درہوٹھ بھٹولی سے تعلق رکھنے والے بے گھر کنبہ سر چھپانے کے لئے پچھلے تین دہائیوں سے دردر بھٹک رہا ہے لیکن کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔لیاقت علی ولد فقیر محمد نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے والد کی بچپن میں ہی وفات ہوئی ہے اور پھر ماں نے ہماری کفالت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے دوران وہاں کے کچھ اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں نے ہماری زمین پر ناجائز قبضہ کیا اور مکان کو بھی منہدم کیا جس کے بعد ہماری والدہ نے بھیک مانگ کر پرورش کی اور پنجاب میں پناہ لی۔فقیر محمد نے کہا کہ جب ہم بڑھے ہوئے تو ہم نے اپنی زمین کے بارے میں ماں سے پوچھا توانہوں نے پورا قصہ سنایا جس کے بعد ہم نے قانون کا سہارا لیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے میں بھی ہماری زمین کا اندراج ان لوگوں نے اپنے نام کروایا ہے۔سائراں بیگم زوجہ فقیر محمد (65)کے مطابق پچھلے پندرہ برسوں سے وہ انصاف کے لئے بھٹک رہی ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا، اب پچھلے 25 دنوں سے وہ وہ اپنے کنبہ کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر کے باہر احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔لیاقت علی نے کہا کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر نے اس معاملہ کی رپورٹ متعلقہ تحصیلدار سے طلب کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ انصاف کریں گے۔ محمد بلال نامی ایک اور شخص نے کہا کہ اگر انہیں انصاف نہیں ملا تو وہ ایل جی کے پاس فریاد لے کر جائیں گے۔ادھر ڈی ڈی سی کونسلر کاہرہ معراج الدین ملک نے ضلع و مقامی انتظامیہ سے متاثرہ کنبہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس معاملہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی مانگ کی ہے۔ اس سلسلہ میں جب سب ڈویڑنل مجسٹریٹ ٹھاٹھری اطہر امین زرگر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے ہی ان کے زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی سی نے تحصیلدار کاہرہ کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے جنہوں نے مذکورہ گاو¿ں کا دورہ کرکے اپنی مفصل رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے رہنے کے لئے عارضی طور پر ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔