اللہ رب العزت نے انسان کو تمام دیگر مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے اور اس سے بہترین سے بہترین تخلیق کردہ صورت دے دی۔ انسان کے اندر کافی اوصاف سمیٹ کر اس سے ایک منفرد مقام حاصل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا بہت سارے ایسے اوصاف کا ذکر بھی کیا جو ایک انسان میں پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بالا و اعلیٰ عقل ہے۔ عقل کے معنی 'سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا'، 'بات کو ٹٹولنا'، 'دو مختلف و مترادف چیزوں میں امتیاز پیدا کرنا' یا 'حق کو پہچاننا' وغیرہ کے ہیں۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبل از وارد اسلام ایک انسان تھے، جونہی عقل کا تالا کھل گیا، بات سمجھ میں آگئی، دل زرخیز ہوا، ارادے بدل دئے ، اسلام قبول کیا، انسان سے مسلمان بن گئے، امت کی فکر کی تو امیرالمومنین بن گئے، جہالت کی جگہ حلیمی یعنی نرم مزاجی آئی، جلدبازی کی جگہ صبر آیا، تنگ و تند ذہنی کی جگہ بلند سوچ آئی اور کمزوری کی جگہ جبل احد کی طرح استقامت یعنی ثابت قدمی آئی۔ یہی حال حبشی غلام حضرت بلال رضی اللہ تعا لیٰ عنہ جس سے انسان سے مسلمان ہونے پرحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل ہوکر مؤذن منتخب کیا گیا ہے۔ اسی طرح راہ حق کی تلاش و جستجو میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں انسان سے مسلمان ہونے پر جنگ خندق کا بہترین Architect و صلح کار ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ آگے چلتے ہوئے بات حضرت اویس قرنی رحیم اللہ کی ذات مبارک پر پہنچی، آپؒ کو انسان سے مسلمان کا شرف حاصل ہوا تو ساری زندگی اپنی پیاری اماں جان کے قدموں کے نیچے نچھاور کیں، بے انتہا فرمانبرداری کرنے میں اپنے دن و راتیں گزاری تو آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ادا نہایت ہی پسند آئی اور حضرت اویس رحمت اللہ علیہ خاتم النبیین رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سلام کے مستحق ہوگئے۔
آسمان و زمین میں اللہ کے بے شمار نشانیاں موجود ہیں ان میں سے یہاں ایسی چار چیزوں کاذکر کیا گیا ہے جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہے اس وقت ان کے سب سے زیادہ نزدیک اونٹ ہوتا تھا اوپر آسمان، نیچے زمین، دائیں و بائیں اور آگے و پیچھے پہاڑ ہی پہاڑ۔ ان چار چیزوں سے ہمیں اونٹ کی طرح صبر، آسمان کی طرح بلند خیالی، پہاڑ کی طرح ثابت قدمی اور زمین کی طرح نرم مزاجی جیسے اوصاف حاصل ہوتے ہیں جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
(۱) اونٹ کا صبر
صبر کے لغوی معنی ہیں کہ برداشت سے کام لینے یا خود کو کسی بات سے روکنے کے ۔ اصطلاحی شریعت کے مطابق صبر کا مطلب ہے کہ نفسانی خواہشات کو عقل پر غالب آنے سے باز رکھا جائے اور شرعی حدود سے باہر نہ نکل پائے۔ صبر کے عمل میں ارادے کی مضبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔ یہاں صبر کیلئے اونٹ کی طرف اشارہ کرکے اس بات کو سمجھایا گیا ہے کہ اونٹ کئی دنوں تک بنا کسی کھانے و پینے کے برداشت کرنے والا جانور ہے۔ مسکین طبع ایسا کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی بآسانی اس کی مہار پکڑ کر جہاں چاہیے لے جاسکتا ہے۔ سحرا و بیابانوں میں سے چلنے پر انکار نہیں کرتا۔ دیگر جانوروں کی طرح ناپسندیدہ آواز بھی نہیں نکالتا۔ ان ہی جیسے کئی اوصاف کی بنیاد پر اور صبر جیسے اعلیٰ صفت کو حاصل کرنے کیلئے اونٹ کی تخلیق کی طرف غور و فکر کرنے کیلئے ارشاد فرمایا گیا ہے تاکہ ایک مسلمان بھی بے نیازی و تنگدستی، غم و خوشی، جوانی و ضعیفی، تندرستی و بیماری غرض ہر حال میں صابر ثابت ہو جائے۔
(۲) آسمان کی طرح بلند خیال رکھنا
ایک مسلمان کی سوچ کافی وسیع اور مثبت ہونی چاہئے۔ اس کے خیالات بجائے تنقیدی ہمیشہ تعمیراتی ہوں اور اس کا احاطہ آسمان کی طرح کافی وسیع تر ہو۔ جس طرح بظاہر آسمان کا رنگ دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان بس کچھ میٹر کی دوری پر واقع ہوگا لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق اس کے کئی تہہ ہیں۔ ایک مسلمان کو آسمان کی طرح بلا کسی ستون کے صرف اللہ رب العزت کے سہارے جینا چاہئے اور آسمان کی طرح ہی دنیا میں دوسروں کے لیے سایہ بن کر رہنا چاہئے۔ آسمان کی بلندی کی طرح مسلمان کو پورے عالم میں دین حق کی دعوت دینے کا خیال ہو اور پورے عالم کو اپنا احاطہ سمجھتا ہو۔ آسمان کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے اندر اللہ رب العزت کے کئی راز پوشیدہ ہیں جس میں رات کے اوقات کے اندر چاند، تاروں کا چمکنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو رونق دے کر عجیب آرائش بخشی ہے۔ آسمان سے ہی رحمت کی بارش برستی ہے اور عذاب الٰہی بھی۔ سورج کی گرمی کو براہ راست زمین پر آنے سے روکنے کے لیے ڈھال بنا ہوا ہے۔ عین اسی طرح ایک مسلمان کو راز دار ہوتے ہوئے دوسروں کے لیے روشنی کا سبب بننا چاہئے اور دوسرے مسلمان بھائیوں پر ظلم و ستم کے قہر کو روکنے کے لیے ڈھال بن کر رہنا چاہئے۔
(۳) پہاڑ کی طرح جم جانا
اس سے مراد ہے کہ اسلام کے اندر پورا پورا داخل ہوتے ہی مسلمان کو دین اسلام کی تمام بنیادوں پر ایمان ہونا چاہئے اور ایمان اس حد تک ہو کہ اس میں چاہیے کتنے بھی غم و پریشانی آئیں لیکن اس کے قدم ہمیشہ جمے رہنے چاہئیں۔ اللہ تعا لیٰ کی راہ کو اختیار کر کے تمام آزمائشوں و مصیبتوں کا سامنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایمان کا سودا کرنے کے بجائے آگ میں کودنے کو ترجیح دی جائے۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی طرح حکومت، حسین و جمیل لڑکی و مال کو ٹھکرا کر کڑکتی ہوئی تیل کی کڑائی میں جانا پسند ہو لیکن اسلام سے منہ موڑنا یا دستبردار ہونا قطعاً پسند نہ ہو۔ اسی طرح ایمان پر ڈٹ کر رہنا ثابت قدمی کہلاتا ہے۔پہاڑ کی طرح قدم ایک ہی جگہ، ایک ہی مقصد، ایک ہی مشن کو پانے کے لیے ڈٹے رہنے چاہئیں۔ ایسا نہ ہو کہ معمولی سی آندھی کو دیکھتے ہی ہمارا حوصلہ چور چور ہو جائے، ریت کے دانوں کی طرح بکھر جائیں اور ہمارے قدم ڈگمگانا شروع ہو جائیں۔ بلکہ طوفانوں کو اپنا سینہ دکھا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنے سامنے سے گزرنے نہ دیا جائے۔
انسان اللہ کی راہ کو اختیار کر کے تمام غم و پریشانی، مصیبت و آزمائشوں کے علی الرغم زندگی کے آخری لمحے تک اس راہ پر جما رہے۔ اگر اس نے اللہ کی راہ نہ پائی تو وہ انسان ناکام ہے، راہ کو پاکر نہ اپنائی تو وہ بھی ناکام اور اس راہ کو پاکر چھوڑ دیا تو وہ بھی ناکام ہے۔ مومن وہ ہے جو زندگی کے تمام مصائب و آزمائشوں کو پورے زور سے مقابلہ کرے اور راہ حق سے ہٹنے کا کبھی نام تو کیا سوچ بھی نہ لیں، خواہ اس کی جان لی جائے یا قید و بند کرکے مختلف تکالیف دی جائے یا مال کو ہی تباہ و برباد کیا جائے یا اس کو اہل و عیال سے محروم کر دیا جائے بلکہ اپنی تمام تر قوتوں و صلاحیتوں کو بقائے اسلام کے لئے پیش رکھیں۔
(۴) زمین کی طرح نرم مزاج ہونا
اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک ایسی خصوصیت سے نوازا ہے کہ اس کا مزاج ہمیشہ سے نرم ہی رہا ہے۔ یہ اپنے اوپر سے چلنے والوں کے لیے ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کرتی ہے۔ چاہئے کوئی تکبر سے چلا یا اکڑ کر یا آہستہ یا درمیانہ قدم سے۔ اسی زمین کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے اندر مختلف قسم کے پیڑ پودے، فصل، میوے، اناج اگنے کے علاوہ پانی کا نایاب ذخیرہ، معدنیات، قیمتی چیزیں جیسے تیل، ہیرے، سونا، سفاری پتھر وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی زمین میں کوئی تکبر و گھمنڈ نہیں۔ اپنے اوپر ایک نیک سیرت انسان اور بدکردار کو بھی رہنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ اپنے اوپر عبادت گزار اور نجاست پھیلانے والے کو بھی رہنے کیلئے جگہ مہیا کرتی ہے۔ قاتل و مقتول، ظالم و مظلوم، مرد و زن، انسان و حیوان، پرند و چرند، نباتات و جمادات اور سحرا و بیابان کے لئے ذریعہ بنتی ہے۔عین اسی طرح ایک مسلمان کو نرم مزاجی اختیار کر کے دوسروں کیلئے مددگار و ہمدرد ہونا چاہئے،دوسروں کے لئے جہنم سے بچنے اورجنت کی طرف لے جانے کے لئے پل کا کام کرے،سخی بن کر دوسروں کا ہاتھ بٹائے، غریبوں، محتاجوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کیلئے انفاق فی سببیل اللہ کی دوڑدوپ میں ہر وقت مصروف العمل رہے، دوسروں کے دکھ و درد کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کا حل نکالنے کے لئے کوشاں رہے اور پتھروں کے ڈھیر میں بھی ہیرا بننے کی کوشش کرے۔
الغرض قرآن کریم کے مطابق بیان کئے گئے ان چار صفات کو اپنانے سے انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے اور یہی صفات زندگی کو بدلنے میں بڑے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی دنیا کی اس قلیل ترین زندگی کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈال کر اپنی ابدی اخروی زندگی کامیاب بنانی چاہئے۔
رابطہ: ہاری پاری گام ترال
فون نمبر: 9858109109