سب ضلع ہسپتال ویلگام رامحال انتظامیہ کی چشم پوشی کا نادر نمونہ
اشرف چراغ
کپوارہ// سب ضلع ہسپتال ابھی تک خالی سائن بورڈ تک ہی محدود ہے۔پرائمری ہیلتھ سنٹر ویلگام کو گزشتہ سال درجہ بڑھا کر ا سے سب ضلع ہسپتال بنایا گیا جس کے بعد 50ہزار آبادی نے مسرت کا اظہار کیا تاہم ایک سال گزرنے کے باجود بھی مزکوری اسپتال کے لئے طبی اور نیم طبی عملے کو منظوری نہیں دی گئی بلکہ ابھی تک پرائمری ہلتھ سنٹر کا عملہ ہی سب ضلع اسپتال کا کام کاج چلاتے ہیں۔علاقہ رامحال کے ویلگام اور تارت پورہ میں پرائمری ہلتھ سنٹر تو ہیں لیکن ان میں مریضوں کو جدید طبی سہولیات میسر نہیں ہے اور یہا ں کے لوگ آج بھی ضلع کے دوسرے اسپتالو ں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔علاقہ میں ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر ہے جو 10سال قبل آتشزدگی کی ایک وادات کی ذد میں آگیا اور اس دوران اسپتال میں ضروری مشینری جس میں الٹر سونو گرافی (یو ایس جی) خاص طور شامل ہے جل کر راکھ ہو گئی لیکن مقامی لوگو ں کے مطابق 10سال گزر جانے کے باجود بھی نئی یو سی جی مشین کو اسپتال میں نصب نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں یہا ں کے مریضوں جن میں زیادہ تر حاملہ خواتین کو پرائیویٹ کلنکو ں پر پر جاکر اپنا جانچ کرنے پر مجبور ہیں۔اسپتال میں ایک ڈینٹل سرجن تو تعینات ہے لیکن 15سال سے مزکورہ ڈاکٹر کو سوپور اسپتال سے منسلک کیا گیا اور شعبہ دندان غیر فعال بن چکا ہے۔مقامی لوگو ں نے سوال کیا کہ اگر مزکورہ ڈاکٹر کی تعیناتی سب ضل اسپتال ویلگام میں ہے اور اس کی تنخواہ بھی یہا ں ہی نکلتی ہے تو پھر کیا جواز ہے کہ ڈینٹل سرجن کو کسی دوسرے اسپتال میں تعینات کیا گیا اور یہا ں کے مریض در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔علاقہ رامحال قریب 50دیہات پر مشتمل ہے لیکن علاقہ میں تارت پورہ اور ویلگام اسپتال ہونے کے باوجود بھی ان اسپتالو ں میں ماہر امراض خواتین ڈاکٹر تعینات نہیں ہے جس کی وجہ سے حاملہ خواتین با لخصوص دررد ذہ میں مبتلا خواتین کو آج کے جدید دور میں بھی یہا ں سے ہندوارہ منتقل کیا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سرکار نے ایک سال قبل اسپتال کو سب ضلع اسپتال کا درجہ دیا لیکن مزکورہ اسپتال میں ابھی تک ایک پرائمری ہلتھ سنٹر کی بھی سہولیات نہیں ہے۔علاقہ کے لوگو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ سب ضلع اسپتال ویلگام میں طبی اور نیم طبی عملے کو تعینات کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ جدید مشینری بھی نصب کریں تاکہ اس بڑے علاقے کے مریضوں کو دوسرے اسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔