بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی ہندوستان آمد پر جس گرمجوشی کامظاہرہ وزیر اعظم ہند نر یندر مودی نے کیا ہے، وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔اپنے مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے بذاتِ خودپروٹوکول کی پروا ہ کئے بغیر ایئر پورٹ پر جانا اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کا والہانہ استقبال کرنا ایک اچھی نظیر پیش کرتا ہے۔سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے سامنے بنگلہ دیش بہت کمزور ہے، اس کے باوجوداس کیا تنی عزت افزائی خود بنگلہ دیش کے لئے بھی حیرت کا مقام ہے اگر چہ شیخ حسینہ کی خوشی اس سے دوبالا ہو گئی۔ بنگلہ دیش انڈیا میں اپنی اہمیت دیکھ کر دل ہی دل میں پھولے نہیں سما رہا ہے۔دونوں ایک دوسرے کے سیاسی اتحادی ہیں لیکن درمیان میں کچھ ایسے حالات رونما ہوئے جن کی وجہ سے دونوں کے رشتوں میں تلخی بھی پیدا ہوئی تھی لیکن وہ قلیل مدتی تھی۔
ہماری خارجہ پالیسی کا دارومدار ہمارے قریبی پڑوسی ملکو ںسے اچھے رشتوں کی بنیاد پر بھی ہے۔چین جو ہمارا پڑوسی ملک ہے وہ نہ صرف معاشی اعتبار سے ایک طاقتور ملک ہے بلکہ ہر اعتبار سے وہ ہم سے آگے ہے۔کیوں آگے ہے،یہ ایک الگ موضوع ہے جب کہ ہم سے ۲؍ برس کے بعد وہ آزاد ہوا ہے۔اس کا مقابلہ کرنے کے لئے( اگر اس کی ضرورت ہے تب!)ہمیں پہلے اُس سطح پر پہنچنا ہوگا جہاں پر چین موجود ہے نہ کہ صرف زبانی جمع خرچ کرکے اور اپنے عوام میں بے سر وپیر کا جذبۂ حب الوطنی اُبھار کر اسے شکست سے دوچار نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ چین سے ہمارے تعلقات بہتر ہوں تاکہ ملک عزیز خواہ مخواہ کے الجھاؤ کا شکار نہ ہو۔اروناچل پردیش میں اپنی موجودگی کے دوران دالائی لاما کہتے ہیں کہ ’’تبت چین کا ہی حصہ ہے اور ہم چین کے ساتھ رہتے ہوئے خاص مراعات اور خود مختاری چاہتے ہیں ‘‘۔ٹھیک اُسی وقت اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھنڈو جو خیر سے اب بی جے پی کے وفادار ہیں ،ایک بیان داغتے ہیں کہ’ ’ ہندوستان کی سرحد تبّت سے لگتی ہے چین سے نہیں ‘ ‘تو ان کی کم مائیگی پر ترس آتا ہے ۔ممکن ہے کہ یہ ان کا اپنا بیان ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پارٹی ہائی کمان کے ذریعے دلوایا گیا ہواور حکمت عملی کا ایک حصہ ہو۔چین ویسے ہی دالائی لاما کی اروناچل پردیش میں موجودگی سے نالاں ہے اور اس پر سے یہ بیان دونوں ملکوں کے رشتوں کو مضبوط کرنے والا قطعی نہیں ہو سکتا۔
مرکز میں مودی حکومت کے آنے کے بعد چین سے ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں اور آئندہ بھی اس کے درستی کے آثار نظر نہیں آتے کیونکہ چین کے خارجہ پالیسی ساز مثبت انداز میں حکمت عملی تیار کر رہے ہیں ۔چین کا ہدف ’تجارت ‘ہے اور اسے فروغ دینے کے لئے بڑے ہی احسن طریقے سے وہ پڑوسی ملکوں میںسرمایہ کاری کر رہا ہے اور انہیں ہم نوا بھی بنا رہا ہے۔نیپال کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ہم یہ سوچ رہے تھے کہ نیپال ایک الگ ملک ضرور ہے لیکن ہمارا ہی ہے۔اس سوچ میں شدت مودی کے حکومت میں آنے کے بعد زیادہ ہوئی ۔اس کی وجہ یہ تھی نیپال ایک ہندو اکثریت والا ملک ہے اورچند برسوں پہلے تک وہ دنیا میں ایک ہندو ملک کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن اب وہاں بھی جمہوریت ہے اور یہ جمہوریت دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے جب کہ ملک عزیز میں اس کا اُلٹا ہو رہا ہے۔یہاںجمہوریت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور ہندتوا یا ہندو راشٹر کا راگ الاپا جا رہا ہے۔یہی سبب ہے کہ نیپال کے عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے آئیڈیالوجی(آر ایس ایس کی بھی)کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ جو نیپال کبھی ہندوستان کا اپنا تھا وہ غیر ہوتا جا رہا ہے بلکہ ہو گیا ہے۔چین نے اس صورت حال کا خاطر خواہ فائدہ اٹھایا ہے اور آج چین اور نیپال ایک ہو گئے ہیں اور ہم منہ تکتے رہ گئے ہیں ۔ چین نے نیپال کی ترقی میں مدد کرنے کے لئے ایک خطیر رقم جھونک دی ہے اور وہاں کی سڑکیں ،پُل اور دیگر انفراسٹرکچر میں کثیر سرمایہ کاری کی ہے اور ہم ’ہندتوا‘ کی چھڑی پھیرنے میں رہ گئے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں خاص پڑوسی ملک پاکستان کی طرف۔اکثریت کا خیال ہے کہ اسے پڑوسی ملک کی حیثیت ہی سے خارج کر دیا جائے لیکن راج ناتھ سنگھ کے اس بیان پر سب پھر سے وشواس ظاہرکرتے ہیں کہ پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے۔گزشتہ ۳؍ برسوں سے پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور تناؤ کا ماحول قائم ہے۔ایک چنگاری ہی کافی ہے ان دو جوہری ممالک کو دست و گریباں کر نے کے لئے ! نئی دلی کہتی ہے کہ پاکستان بقول ا س کے ’’دہشت گردی‘‘ کو خیر باد نہیں کہتا۔جب تک صورت حال یہ رہے گی اسلام آباد سے کسی طرح کی کوئی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ہمارا تین سال سے موقف ہے لیکن یہاںہندوستان میں دہشت گردی اور وکاس ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں !یہ دوغلی پالیسی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ راجستھان کے الور شہر میں گائے کے نام پر جو کچھ ہوا اور پانچ میں سے ایک شخص پہلو خان کی گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں ہلاکت واقع ہو گئی ، انہیں ہندو بلوائیوں نے بری طرح مارا پیٹا !کیا یہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟رانچی میں دو کم سن نوجوانوں کو گائے کے نام ہی پر پیڑ سے لٹکا کر پھانسی دے دی گئی ،کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟اور دادری میں محمد اخلاق کو گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میںگھر میں گھس کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا،کیا اسے دہشت گردی نہیں کہیں گے؟یا صرف بم پھٹنے،بندوق اور اسٹین گنوں سے گولیوں کے چلنے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے مرنے ہی کو دہشت گردی کہیں گے ؟پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی اور ہندوستا ن کے ساتھ پاکستان کی جو تجارت ہوتی ہے وہ تو اسی طرح برقرار ہے جس طرح بیف کا ایکسپورٹ کا سلسلہ قائم ودائم ہے کیونکہ یہاں بھی اس تجارت سے فائدہ حاصل کرنے والے اکثریتی طبقے کے ہی لوگ ہیں جو اب الیکشن فنڈ کے نام پر سرپرست پارٹی کو بے روک اور بے حساب الیکشن بانڈ دیںگے جن کے بارے میںکوئی حکومتی ادارہ پوچھ تاچھ نہیں کرے گا۔ہندوستان کے عوام صرف اور صرف بے وقوف بنائے جا رہے ہیں ۔چین نے پاکستان کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیا ہے جس کی وجہ سے چین اور پاکستان اب بھائی بھائی ہو گئے ہیں، ماضی میں کبھی ’’ہندی چینی بھائی بھائی‘ ‘ہو ا کرتے تھے۔یہ جو پالیسی کا ’شِٖفٹ‘ ہے اس پر غور کرنے کی اشدضرورت ہے۔
بہر کیف اس بیچ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ ہمیں مل گئی ہیں اور وزیر اعظم مودی نے باہمی رشتے کو مزید مستحکم کرنے کے لئے جو قدم اٹھایا ہے وہ مستحسن ہے۔اگرچہ یہاں بھی چین پہلے سے پہنچ چکا ہے اور اس نے بنگلہ دیش کو۲۴؍بلین ڈالر کی ۲؍ آبدوز فراہم کی ہیں اور کئی سارے دفاعی معاہدات کے علاوہ مختلف پروجیکٹس پر دستخط بھی ثبت کئے ہیں جس کی رو سے تقریباًمزید۲۴؍ بلین ڈالرقرض دینے کی بات کہی گئی ہے ۔انڈیا نے تو صرف ۵؍بلین ڈالر کی کریڈٹ لائن( وہ قرض جو ضرورت کے تحت ریلیز کیا جا سکتا ہے)پیش کی ہے۔وزیر اعظم مودی چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں اور بنگال سے سڑکوں ،ریلوے اور پانی کے راستوں سے جوڑا جائے جس سے تجارت کو فروغ حاصل ہواور دونوں ملکوں کے مابین خیر سگالی کا ایک ماحول قائم ہو۔اگرچہ یہاں بھی دہشت گردی کا موضوع قرارداد کا حصہ رہے گا لیکن شیخ حسینہ کا سارا زور تیسٹاندی کے پانی کے بنگلہ دیش کے استعمال پر ہے، جس کی ممتا بنرجی پر زور مخالفت کرتی رہی ہیں ۔ویسے عشائیے پر تینوں بنگالی(صدر ہند، شیخ حسینہ اور ممتا بنرجی) ملیں جس پر اپنی رضا مندی ممتا بنرجی نے دے دی ۔اس ملاقات کا کیا نتیجہ نکل آیا،ا س بارے میںکچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن بنگلہ دیش کے عوا م اور حزب اختلاف تیسٹا ندی کے پانی کی تقسیم پر ہی نظریں جمائے ہوئے ہیں جب کہ دیگر تمام قراردادیں ان کے لئے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ۔شیخ حسینہ کے اس چار روزہ دورے کو کافی اہمیت دی گئی کیوں کہ ان کو اپنے پالے میں کرکے اندازہ ہے کہ ہم چین کی پیش رفت کو روک سکیں گے ،لیکن کیا عملی دنیا میں یہ ممکن ہے؟
نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو ،نئی ممبئی کے مدیر ہیں۔۔۔رابطہ:9833999883