راجوری //مسلسل تیسرے رو زبھی راجوری کے لوگوں نے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کے تبادلے پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔جمعہ کے روز اس سلسلے میں کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ ٹنڈی تراڑ، پلولیاں ، مبارکپورہ اور نمبلاں علاقوں کی عوام نے ٹنڈوال کے مقام پر روڈ بند کرکے احتجاج کیا ۔ اس احتجاج کی قیادت سابق سرپنچ میاں عمران احمداور چوہدری محمد اسمٰعیل کررہے تھے ۔مظاہرین نے اعلیٰ حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ شاہد اقبال نے انتہائی بہترین طریقہ سے کام کئے اور ان کا تبادلہ ضلع کے عوام کیلئے نقصان دہ ہے ۔انہوںنے لگ بھگ آدھے گھنٹے تک روڈ بند رکھی جس کے بعد پولیس پوسٹ انچارج سب انسپکٹر دانش مقبول موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے یقین دلایاکہ وہ مظاہرین کی مانگ کو اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لائیں گے لہٰذا وہ احتجاج ختم کریں ۔اسی طرح کا ایک اور احتجاج تھنہ منڈی سڑک پرایتی کے مقام کیاگیاجہاں آئمہ مساجد نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو راجوری میں ہی تعینات رکھنے کی مانگ کی ۔انہوں نے تبادلے کے فیصلے کی منسوخی کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ یہ فیصلہ عوامی مفاد کے منافی ہے ۔
تبادلہ منسوخ کرنیکا مطالبہ
کوٹرنکہ//ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کے تبادلے پر کوٹرنکہ کی عوام غم و غصّے میں ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ مدتوں بعد ایک ایماندار ڈپٹی کمشنر ملاتھا لیکن مرکز کے اشاروں پر ان کا یہاں سے تبادلہ کردیا گیا جو عوام کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ کیا گیا ہے۔ان کاکہناتھاکہ جب سے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال نے کرسی سنبھالی تب سے راجوری کی عوام میں ایک خوشی کی لہر دوڑگئی اور ہر غریب آدمی کی شنوائی ہورہی تھی اورہر آدمی اپنے آپ کوڈپٹی کمشنر سے مل پاتا تھا اور باآسانی اپنا کام کروا لیتا تھاجسے کسی لیڈرکی منت نہیں کرنی پڑتی تھی۔لوگوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر نے ضلع راجوری میں بہترین کام کروائے اور ایسا ترقیاتی دور پہلے کبھی بھی نہیں دیکھاگیااورنہ ہی کوئی اتنا قابل افسر یہاں تعینات رہا۔انہوں نے کہاکہ گورنر انتظامیہ نے راجوری کے عوام کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی ہے کیوں کہ جو کام ابھی ادھورے تھے اب ان کا پورا ہونا بہت مشکل ہے۔کوٹرنکہ کے لوگوں کاکہناہے کہ ایک مقامی افسر ہونے کے ناطے موصوف پورے شوق اور لگن سے کام کررہیتھے اور وہ اپنے علاقے کی مشکلات کو سمجھتے تھے۔انہوں نے کہاکہ ان کا تبادلہ راجوری کے ترقیاتی عمل میں رکاوٹ بن جائے گا اس لئے حکمنامہ کو فوری طور پر منسوخ کرکے انہیں راجوری میں ہی تعینات رکھاجائے۔