مینڈھر//ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد کے تبادلے پر عوامی احتجاج کے بعد اب آئمہ مساجد بھی میدان میں آگئے ہیں۔ جمعہ کے روز امام و خطیب جامع مسجد مینڈھر مولانا محمد سلطان نقشبندی نے ہزاروں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی گورنر کو تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ ڈی سی پونچھ کے تبادلے کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع پونچھ کو ایک مقامی اور ایماندار افسر ملاتھاجسے چار ماہ کے اندر ہی تبدیل کردیاگیاجو اس ضلع کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔مولانا نے کہاکہ اس سے قبل بھی کئی ضلع ترقیاتی کمشنر ضلع پونچھ آئے لیکن اعجاز اسدجیسا افسر انہوں نے کبھی نہیں دیکھا جس نے چار ماہ میں سنجیدگی سے اقدامات کرتے ہوئے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جنہیں ہمیشہ یادرکھاجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی گورنر نے ضلع پونچھ کے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور وہ بی جے پی کے لیڈران و مرکزی حکومت کے اشارے پر حکومت چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محمد اعجاز اسد کے ڈپٹی کمشنر پونچھ کا چارج سنبھالنے کے بعد لوگوں کی راحت کی سانس لی تھی اور انتظامیہ بھی متحرک نظر آئی تاہم نوجوان افسر کاکام گورنر انتظامیہ کو پسند نہیں آیا اور انہیں تبدیل کردیاگیا۔مولانا نے کہاکہ اعجاز اسد نے کئی پہاڑی علاقوں میں دربار لگا کر لوگوں کے جائز مطالابات سننے کے بعد ان پر عملی سطح پر اقدامات شروع کئے اور ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں تاہم انہیں دوسرے ضلع میں بھیج دیاگیاہے۔ان کا کہنا تھا کہ مینڈھر کے لوگ عید گاہ اور قبرستان کی جگہ کے لئے کئی سال سے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن کسی بھی آفیسر نے ان کی فائل کو آگے نہیں چلایا اور وہ دفاتر میں پڑی رہی تاہم اعجاز اسد نے اس بات کا یقین دلایاتھاکہ وہ فائل ڈھونڈ کر جگہ الاٹ کریں گے اور ساتھ ہی جامع مسجد میں بھی مزید کام کیاجائے گالیکن آر ایس ایس کو ان کے کام پسند نہیں آئے جس کی وجہ سے انہیں تبدیل کردیاگیا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی گورنر فوری طور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کے تبادلے کو منسوخ کرکے انہیں ضلع میں ہی کام کرنے کا موقعہ دیں تاکہ غریب لوگوں کے مسائل حل ہوتے رہیں۔مولانا نے کہاکہ وہ اکیلئے یہ مطالبہ نہیں کررہے بلکہ مینڈھر کے ہر شخص کی مانگ یہی ہے اور مسجد کمیٹی نے بھی ایک قرارداد منظور کی ہے جسے اعلیٰ حکام کو بھیجاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ مینڈھر کے لوگ اب سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور نتائج کی ذمہ دار ی گورنر انتظامیہ پر عائد ہوگی جو بھاجپا کے اشاروں پر ریاستی نظام چلارہی ہے۔واضح رہے کہ مقامی لوگوں میں ڈی سی کے تبادلے کے فیصلے پر سخت غم و غصہ پایاجارہاہے اور مینڈھر میں پچھلے دوروز مسلسل احتجاج بھی کیاگیاہے۔
فیصلے پر نظرثانی کی جائے:مولانا فتح محمد
جاوید اقبال
مینڈھر// مہتمم دارالعلوم محمودیہ امام و خطیب مرکزی جامع مسجد انور مینڈھر وصدرتنظیم نوجوانانِ علمائے اہلسنت والجماعت ضلع پونچھ مولانا فتح محمدنے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ اسلام کسی نسل کانام نہیں بلکہ اللہ کے حکموں اور نبی? کے طریقوں کو جان کر اْن پر عمل پیرا ہونے کا نام اسلام ہے ،لہذا ایک کامل مسلمان بننے کے لئے علم دین کا حصول ضروری ہے تاکہ وہ اللہ کے حکموں اور رسول اللہ? کے طریقوں کو جان سکے۔انہوں نے کہاکہ چنانچہ اسلام کی پہلی وحی میں پڑھنے کاحکم دیاگیااور علم دین کے حصول کے لئے کسی خاص عمر کا ہونا ضروری نہیں،لہذا تمام مسلمان علم دین کو حاصل کریں اور اپنی اولاد کو دینی و دنیوی علوم سے آراستہ کریں۔مولاناموصوف نے ریاست کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ضلع پونچھ کے ہونہار ڈپٹی کمشنراعجازاسد کے تبادلے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اوریہ پونچھ کی عوام کوانتظامیہ سے توقع بھی ہے اور اس کی خواہش بھی۔انہوں نے کہاکہ اعجاز اسد کی تعیناتی کو ابھی صرف 3ماہ ہی گزرے تھے اورموصوف نے اپنی تعیناتی کے فوراً بعد عوامی مفاد کے خاطر بہترین فیصلے کئے اور ترقیاتی کاموں کی طرف خوب توجہ دی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پران کا تبادلہ کر دیا گیا جس پر ضلع پونچھ کی عوام افسردہ ہے اور فیصلہ پر نظرثانی کامطالبہ کررہی ہے۔