ڈوگرہ دور کے بعد پہلی بار

سرینگر// ریاست کی سب سے بڑی اور تاریخی جامع مسجد سرینگر ڈوگرہ دور کے بعد پہلی مرتبہ جمعتہ الوداع کے موقعہ پر مقفل رکھی گئی۔ وادی میں گزشتہ برس ریکارڑ19ہفتوں تک جامع مسجد سرینگر کو انتظامیہ کی طرف سے سیل کرنے اور نماز پر پہرے لگانے کے علاوہ عید الضحیٰ کے موقعہ پر مقفل کرنے کے بعد مخلوط سرکار نے جمعتہ الوداع کے موقعہ پر ایک مرتبہ پھر اس تاریخی مسجد کو سیل کیا،جس کی وجہ سے لوگ نماز جمعہ یہاں ادا نہیں کرسکے۔ انتظامیہ نے شہر خاص کے5پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا،جس کے ساتھ ہی تاریخی جامع مسجد سرینگر میں جمعتہ الوداع کی نماز ادا نہ ہو سکی۔مسجد کے ارد گر اضافی فورسز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ چاروں اطراف سے تار بندی کی گئی تھی۔جامع مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی اور کسی بھی شخص کو اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس اور فورسز اہلکاروں نے مسجد پر اس قدر سخت پہرے لگائے تھے کہ میڈیا نمائندوں کو بھی اس طرف جانے کی اجازت نہیں تھی۔نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا ’ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا‘۔ دریں اثناء پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا۔سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا ۔ جامع مسجد میں جمعتہ الوداع کے موقعہ پر لاکھوں فرزندان توحید حاضری دیتے تھے،اور نماز جمعہ اداکرتے تھے۔راجوری کدل کے ایک بزرگ غلام محمد نے بتایا ’’ وہ سال بھر جمعتہ الوداع کے انتظار میں رہے کہ اس روز جامع مسجد میں نماز ادا کرینگے،تاہم سخت من سماجت کے بعد بھی انہیں اہلکاروں نے اس اور جانے کی اجازت نہیں دی‘‘۔جامع مسجد سرینگر کو بند کرنے کا  سلسلہ اگر چہ بہت طویل ہے تاہم ڈوگرہ راج کے بعد پہلی مرتبہ جمعتہ الوداع کے موقعہ پر اس تاریخی روحانی مرکز کو مقفل کیا گیا۔جامع مسجد سرینگر میں نمازوں کی پابندی صدیوں پرانی روایت ہے جس کو وقت وقت پر نئے حکمران کشمیری مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کرنے کیلئے بھی اپنا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس سرکار نے2010میں جامع مسجد سرینگر کی ناکہ بندی کر کے مسلسل8 ہفتوں تک جامع مسجد میں نماز جمعہ دا کرنے پر پابندی عائد کی جبکہ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی،بھاجپا سرکار نے بھی اپنے پیشرئوں کی روش کو اپناتے ہوئے2016میں مسلسل19ہفتوں کو مسجد کو سیل کیا۔وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جی اکبرنے اپنی کتاب میں لکھا ہے’’مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سکھ دور اقتدار کے دوران موتی روم کو کشمیر کا گورنر تعینات کیا گیا جس نے1819میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کی ۔مولانا شمس الرحمان جنہوں نے جامع مسجد پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے ،کا کہنا ہے کہ1842میں سکھ دورکے آخری گورنر شیخ انعام الدین کے دورمیں اس تاریخی مسجد کو کھولا گیا تاہم اس دوران مسلسل11برسوں تک مسجد میں صرف نماز جمعہ ہی ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اس دوران جمعہ کو کچھ گھنٹوں کیلئے ہی مسجد کو کھولا جاتا تھا اور بعد میں بند کیا جاتا تھا تاہم1898کے بعد ہی مسجد کو کھولا گیا۔جامع مسجد کو کشمیر کے ہر دلعزیز بادشاہ سلطان زین العابدین عرف بڈشاہ کے والد سلطان سکندر نے1389اور1420کے درمیان تعمیر کیا تھا۔