ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے پہاڑوں پر تقریباً 6 ماہ کا وقت گذارنے کے بعدگجر بکروال خانہ بدوش کنبوں کی گرمائی علاقوں کی طرف واپسی کا عمل شروع ہو رہا ہے۔حکام کی عدم توجہی کا شکار ان یہ لوگ میلوں کا سفر کئی دنوں میں کرتے ہیں اور اس دوران انہیں کئی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔محمد اسماعیل نامی ایک بزرگ بکروال نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے پچاس برسوں سے مال مویشیوں و بھیڑ بکریوں کے ہمراہ پنجاب سے پاڈر اور کشمیر جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی مستقل ٹھکانا تو نہیں ہے لیکن پر سکون زندگی گذارتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ جب نقل مکانی شروع کرتے ہیں تو یہ دن ہمارے لئے کسی مشکل سے کم نہیں ہوتے۔محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ پہلے زمانے میں مال مویشیوں کو کے لئے مخصوص راستے رکھے جاتے تھے لیکن ترقی و لالچ نے کی وجہ سے ان راستوں کا نام و نشاں تک نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں کافی پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں بھی ان راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن زمینی سطح پر ان پر قبضہ کیا گیا ہے۔محمد اسحاق نامی ایک اور بکروال نے کہا کہ سفر کے دوران آج تک درجنوں گھوڑے، خچر و بھیڑ بکریاں گاڑیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئیں ہیں اور جس کا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری ملازمین و دیگر اداروں کی طرح ہم بھی سرکار کو ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے لئے حکومتی سطح پر کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے ہیں اور اگر کبھی بھیڑ بکریوں کی وجہ سے گاڑی کو راستہ نہیں ملتا ہے ڈرائیور حضرات لڑائی پر اتر آتے ہیں اور سرکاری گاڑی کی تو بات ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو خانہ بدوشوں کے رہنے کا راستے میں انتظام کرنا چاہیے تاکہ انہیں سفر کرنے میں آسانی ہو سکے۔