ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
کافی دیر بعد پارک کے بینچ پر بیٹھے ایک شخص نے اپنے ساتھ بیٹھے دوسرے بزرگ سے کہا: بھائی صاحب۔۔۔۔ اگر برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟ آپ بہت پریشان لگتے ہیں۔ دوسرے نے، جس کا نام امتیاز تھا، چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ آپ نے کیسے جانا۔اس شخص نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، میرا نام نظام الدین ہے۔ لوگ مجھے عامل، بزرگ یا نجومی سمجھتے ہیں، کیونکہ مجھے چہرہ پڑھنے کی تھوڑی بہت سمجھ ہے۔
آپ کے چہرے کی لکیریں (Face Reading) اور ماتھے کی شکنیں چیخ چیخ کر کسی گہری پریشانی کا پتہ دے رہی ہیں۔ کبھی کبھی اجنبی بھی اپنے بن جاتے ہیں، شاید میں آپ کے کسی کام آسکوں۔ امتیاز پہلے خاموش رہا، پھر جیسے اندر بھرا ہوا لاوا پھٹ پڑا۔
میری ایک ہی بیٹی ہے ۔۔۔ نازیہ۔ بڑی لاڈلی۔ بڑے جاہ و حشم سے اس کی شادی فراز نامی لڑکے سے کی تھی۔ مگر شادی کے دو مہینے بعد ہی وہ روتی ہوئی واپس آگئی۔ کہنے لگی، سسرال والے اس پر ظلم کرتے ہیں ۔۔۔ شوہر بات بات پر ذلیل کرتا ہے ۔۔۔ ساس اسے منحوس کہتی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امتیاز کی آواز بھرا گئی۔
ہم نے سمجھایا ۔۔۔ واپس بھیجا ۔۔۔ ہر بار یہی سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر اب ۔۔۔ اب وہ کہتی ہے کہ اگر دوبارہ بھیجا تو وہ خودکشی کر لے گی ۔۔۔۔یہ سن کر نظام الدین کچھ دیر سوچتا رہا۔
فراز ۔۔۔ اس نے نام دہرایا۔ ایک پرانی فائل کا دھندلا سا عکس اس کے ذہن میں گھوما۔ فراز کی پہلی بیوی کی مشکوک خودکشی کا کیس، جو گواہ اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے فائلوں میں دب گیا تھا۔ نظام الدین کو اچانک بکھری ہوئی کڑیاں ملتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
اس نے دھیرے سے کہا: “امتیاز صاحب، اگر آپ اجازت دیں ۔۔۔ تو میں ایک ڈرامہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ایسا ڈرامہ ۔۔۔ جو شاید اصل حقیقت سامنے لے آئے ۔امتیاز حیران رہ گیا۔
نظام الدین قریب ہو کر بولا: “آپ اپنے داماد فراز اور اس کے گھر والوں سے کہیں کہ لکھنؤ سے ایک بہت پہنچا ہوا عامل آیا ہے جو چھپی ہوئی باتیں جان لیتا ہے۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ بس ۔۔۔ باقی مجھ پر چھوڑ دیں ۔”
دو دن بعد نازیہ کے سسرال میں ایک عجیب خاموشی تھی۔
ڈرائینگ روم میں سب جمع تھے۔ نازیہ سہمی ہوئی ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ اس کا شوہر فراز بار بار پانی پی رہا تھا۔ ساس کے ماتھے پر پسینہ تھا۔
اسی وقت نظام الدین اندر داخل ہوا۔ سادہ سفید لباس ، لمبی داڑھی اور آنکھوں میں عجیب ٹھہراؤ۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
نظام الدین نے کسی سے سلام دعا تک نہ کی۔ سیدھا جا کر صوفے پر بیٹھ گیا اور آہستہ سے بولا۔۔۔ اس گھر میں ظلم ہوا ہے۔ فراز چونک گیا۔۔۔۔ اور ظلم موجودہ عورت پر نہیں ہوا۔
سب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر کس پر؟ ساس نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔ نظام الدین نے نظریں اٹھائیں ۔۔۔ ایک مرنے والے پر۔ یہ سنتے ہی فراز کے پسینے چھوٹ گئے۔ نازیہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
اور پھر پہلی بار نظام الدین نے نازیہ کی طرف دیکھا۔ بیٹی ۔۔۔ اب بھی خاموش رہو گی۔ نازیہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ امتیاز نے گھبرا کر پوچھا: “کیا مطلب؟ کون مرنے والا؟
نازیہ ہچکیوں میں بولی۔۔ شادی کے دس دن بعد ۔۔۔ میں نے رات کو اپنے شوہر اور اس کی ماں کو باتیں کرتے سنا تھا ۔”کیسی باتیں۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ فراز کی پہلی بیوی نے خودکشی نہیں کی تھی۔ کمرے میں جیسے بم پھٹ گیا۔ فراز چیخ اٹھا۔جھوٹ! یہ جھوٹ ہے۔ لیکن نظام الدین خاموشی سے فراز کو دیکھتا رہا۔ نازیہ کانپتی آواز میں بولی۔۔۔ وہ لڑکی حاملہ تھی ۔۔۔ وہ اپنے میکے جانا چاہتی تھی ۔۔۔ مگر ایک رات اچانک اس کی موت ہو گئی۔ سب نے کہا اس نے پنکھے سے لٹک کر جان دے دی ۔۔۔ میں اسی دن سے ڈر گئی تھی۔ مجھے لگتا تھا اگلی باری میری ہے۔
فراز کی ماں اچانک چیخنے لگی۔ خاموش ہو جا! سب برباد ہو جائے گا۔ یہ جملہ سنتے ہی نظام الدین اطمینان سے اٹھ کھڑا ہوا۔ بس ۔۔۔۔ مجھے اسی سچ کی تلاش تھی۔پھر اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اس کی اسکرین ان کی طرف کر دی۔ “یہ ساری گفتگو لائیو ریکارڈ ہو چکی ہے اور یاد رہے فراز، میں نے یہ ڈرامہ یونہی نہیں رچایا تھا۔ تمہاری پہلی بیوی کا کیس میرے پاس ہی تھا، بس چشم دید گواہ اور ثبوت کی کمی تھی ۔ آج وہ کمی بھی پوری ہو گئی۔
فراز کے چہرے سے خون اتر گیا۔ اسی لمحے باہر پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا۔ نظام الدین نے پہلے ہی اپنی ٹیم کو باہر الرٹ کر رکھا تھا۔ امتیاز حیرت سے نظام الدین کو دیکھنے لگا۔ آپ ۔۔۔ کیا آپ واقعی عامل نہیں ہیں؟”
نظام الدین پہلی بار مسکرایا۔
نہیں امتیاز صاحب ۔۔۔ میں کرائم برانچ کا آفیسر ہوں۔ چہرہ پڑھنا میرا مشغلہ ہے اور مجرم پکڑنا میرا پیشہ ۔کمرے میں قبر جیسی خاموشی چھا گئی اور باہر سرد ہوا میں درخت ایسے ہل رہے تھے ۔۔۔ جیسے برسوں بعد کسی دفن راز کا بوجھ زمین سے اٹھ گیا ہو۔
���
کریم منزل، پیس کالونی،شیخوپورہ بڈگام، سرینگر
موبائل نمبر؛8825051001