کالی فاس اختلاج قلب کی معروف دو ا کے طور پر بائیوکیمک دوائوں میں سرِ فہرست ہے۔ بائیوکیمک طریقہ علاج کے موجد ولیم ایچ سشلر تھے۔وہ21 اگست 1821 کو اولڈن برگ جرمنی میں پیدا ہوئے تھے ۔اس دور کے مطابق انہوں نے میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کیں اور اپنی دلچسپی کی بنا پر ہومیو پیتھی کی پریکٹس تقریباًپندرہ برسوں تک کرتے رہے۔ انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مشاہدے میں پایا کی اگرچہ جسم کا بیشتر حصہ جسمانی (organic )مادوں سے بنا ہے جیسے شکر ، روغنیات وغیرہ ۔ لیکن انسانی جسم میں کچھ غیر جسمانی نمکیات ہوتے ہیں جن کی موجودگی جسم کی صحت اور نشوو نما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ جو جسم میں ہونے والے کسی بھی قسم کے کیمیائی عمل میں حصہ لیتے ہیں ۔ انکی کمی ہی امراض کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے اس طرح کے بارہ نمکیات دریافت کئے ۔انہوں نے ہومیو پیتھک طریقے پر انکی پوٹنسیاں تیار کیں اور انکا استعمال شروع کیا جس کے بہتر نتائج حاصل ہوئے ا ن نمکیات کو ہی بائیوکیمک ادویات کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شسلر نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر ــ’’ بائیوکیمک تھیراپی‘‘ نام سے 1873 میں ایک کتاب تصنیف کی ۔ اس طرح کچھ ہی برسوں میں اس طریقہ علاج کو عالم گیر شہرت حاصل ہو گئی ۔ 14مارچ1898کو ڈاکٹر سشلر کی وفات ہو گئی ۔تقریباً نصف صدی میں دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ علاج رائج ہو گیا۔
حالانکہ ہومیو پیتھی اور بائیو کیمک ادویات کی تیاری کا طریقہ تقریباََ ایک جیسا ہے لیکن دونوں میں علاج کے اصول بالکل الگ ہیں ، ہومیوپیتھی میں ایک تندرست آدمی پرکوئی دوا جو مخصوص علامات پیدا کرتی ہے تو اگر کسی بیمار شخص میں مرض کی وجہ سے وہی مخصوص علامات موجود ہوں تو اسی دوا کی نہایت قلیل مقدار اس مرض کو دور کرتی ہے، لیکن بائیو کیمک میں کسی مخصوص نمک کی کمی سے جس مرض کی علامات پیدا ہوتی ہیں ،اسی نمک کے استعمال سے اس مرض سے شفایابی حاصل ہوتی ہے۔ جسم میں ان میں سے کسی ایک یا کئی نمکیات کی کمی ہو جانے پرصحت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور مرض کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ الگ الگ نمکیات کی کمی سے الگ الگ امراض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ علامات کے مطابق نہایت لطیف شکل میں ان نمکیات کو استعمال کرنے سے جسمانی ریشے tissue اپنی اصل حالت میں آ جاتے ہیں اور معمول کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں اور صحت بحال ہو جاتی ہے۔
بائیوکیمک ادویات چونکہ انھیں نمکیات پر مشتمل ہیں جو اول دن سے جسم کی نشوع نما میں حصہ دار رہتے ہیں اور جسمانی نظام کے لئے اجنبی نہیں ہوتے ۔ انکی کمی ہونے پر نہایت قلیل مقدار ( پوٹنسی) میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔اس لئے انکا کوئی منفی ردِ عمل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے بائیوکیمک دوائیں قطعی بے ضرر سمجھی جاتی ہیں۔ اور ان کا گھریلو استعمال عام ہے۔ عام طور سے شوگر آف ملک یا لیکٹوز میں پوٹنسی تیار کی جاتی ہیں اور 3X یا 6X پوٹنسیز میں استعمال کی جاتی ہیں دو یا تین گرین کی ٹیبلیٹ میں عام طور پر دستیا ب ہوتی ہیں۔ ہومیو پیتھی کے مخالفین کے مطابق اتنی قلیل مقدار میں ہونے کی وجہ سے بائیوکیمک ادویات سے کسی بھی مثبت یا منفی ردعمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر سشلرکے بارہ نمکیات کیمیائی مرکبات کی ساخت کے اعتبار سے پانچ فاسفیٹ، تین سلفیٹ،دو کلورائیڈ اور ایک فلورائیڈ ہے ۔ایک دوا سلیشیا مفرد شکل میں ہے۔ ان بارہ نمکیات saltsکا مختصر تعارف اس طرح ہے۔
1۔ کلکیریا فلور۔ یہ دانتوں کے انامل، ہڈیوں کی سطح اور لچکدار ریشوں میں پایا جاتا ہے۔ سشلر کے مطابق یہ ہڈیوں کا سالٹ ہے۔ ہڈیوں کو مظبوط کرنے ،بچوں کے دانت نکلنے اور ریشوں کی لچک بحال کرنے میں مدد گار ہے۔ خونی بواسیر ، ہرنیا کے درد اور گلینڈ کی سوجن میں بھی کار آمد ہے۔
2 ۔ کلکیریا فاس۔ کیلشیم اور فاسفورس دونوں اس کا جز ہیں۔ اس لئے یہ خلیوں کی نشوو نما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور بڑھنے والے بچوں کے لئے ٹانک ہے۔دانتوں اور ہڈیوں کے امراض میں مفید ہے، فریکچر کے معاملے میں ہڈیوں کو جلد جوڑنے میں معاون ہے اور نظامِ ہاضمہ میں میں بھی مددگار ہے۔
3۔کلکیریا سلف۔ کیلشیم اور سلفر اسکے جز ہیں۔ خون کی صفائی کے لئے اکثیر ہے، ایسے زخم اور پھوڑے پھنسیاں جن میں پیپ پڑ جائے اور جلد بھر نہ رہے ہوں ان میں مفید ہے۔جلدی بیماریوں، گلے کی سوجن اور سردی زکام میں بھی کارگر ہے ۔غرض ہر قسم کے انفیکشن میں اثر دکھاتا ہے۔
4۔ فیرم فاس۔ اس کا خاص جز آئیرن یا لوہا ہے ۔ہر طرح کے انفیکشن میں فائدے مندہے ۔بخار کم کرتا ہے کسی جگہ خون جم جانے یا ورم یعنی سوجن میں کام آتا ہے ۔کسی بھی قسم کی بلیڈنگ میں اثر دکھاتا ہے ۔ خون کے دوران میں اضافہ کر کے جسم کے ہر حصہ میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔
5۔ کالی میور۔ یہ پوٹیشیم کا کلورائیڈ ہے۔ اسک کام بھی خون میں سے آلودگیاں ہٹانا ، اور انفیکشن سے مقابلہ کرنا ہے سوجن کو کم کرتا ہے اور ہاضمے کے نظام کو درست کرتا ہے۔جس مرض میں بھی ورم یا سوجن کی کیفیت پائی جائے، اسمیں یہ فائدے مند ہے۔برانکائیٹس میں بھی مفید ہے۔
6۔کالی فاس۔ پوٹیشیم کا فاسفیٹ ہے۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے یہ نمک بائیوکیمک دوائوں میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اختلاج قلب، الجھن ، دھڑکن میں استعمال کیاجاتا ہے ۔ اعصابی نظام nerveous system پر اثر انداز ہوتا ہے، یاد داشت بحال کرتا ہے۔
7۔کالی سلف۔ پوٹیشیم کا سلفیٹ ہے ۔ اسکا خاص اثر رطوبتی جھلیوں mucous membrane سے متعلق امراض میں ظاہر ہوتا ہے۔ جلدی امراض اور پینکیریاس کی تکالیف میں بھی کار آمد ہے۔ ہارمون اور انزائیم کے کیمیائی عمل میں توازن قائم رکھتا ہے۔
8۔ میگنیشیا فاس۔ میگنیشیم اور فاسفورس اس دوا کے جز ہیں۔ اعصاب nerves اور اضلات muscles اس دوا کے دائرہ اثر میں آتے ہیں ۔ ہر قسم کے دردوں میں بائیوکیمک کی یہ بنیادی دوا ہے ۔ تشنج یا جھٹکوں کے ساتھ درد سر درد وغیرہ میں بھی کارگر ہے۔ ذہنی تنائو میں راحت دیتا ہے۔
9۔نیٹرم میور۔ سوڈیم کلورائیڈ یا عام نمک ہے لیکن بائیوکیمک میں خاص دوائوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جسمانی رطوبتوں میں توازن قائم رکھتا ہے ۔جسم میں پانی کے مقدار کے نظام کو درست رکھتا ہے ۔ہاضمے میں مددگار ہے اور اکزیما جیسی جلدی امراض میں بھی مفید ہے۔
10۔نیٹرم فاس۔ یہ سوڈیم اور فاسفورس کا مرکب ہے۔ معدے اور دیگر اعضاء میں تیزابیت میں اعتدال قائم رکھتا ہے۔ اس طرح نظامِ ہاضمہ سے متعلق تکلیفوں جیسے کہ بدہضمی ،دست۔ اور درد شکم کو درست کرتا ہے، گٹھیا بائی یا آرتھرائیٹس میں بھی مفید ہے۔
11۔ نیٹرم سلف۔ سوڈیم سلفیٹ ۔ نیٹرم میور کاکام جسم میں پانی کی تقسیم توازن رکھنا ہے جب کہ نیٹرم سلف جسم سے فاضل پانی کو باہر نکالتا ہے۔ پینکریاس، گردوں اور جگر کے امراض میں جن میں استسقائی کیفیت ہوتی ہے مفید مانا جاتا ہے ۔ سردی اور ذکام میں بھی کارگر ہے۔
12۔ سلیشیا۔یہ کوئی مرکب نہیں خالص سلیکا silica ہے۔ یہ سالٹ بالوں ، ناخنوں، ہڈیوں کی جھلیوں میں پایا جاتا ہے ۔ اسی لئے ان سے متعلق امراض میں مفید ہے ۔پھوڑوں اور زخموں سے مواد کا اخراج کر جلدٹھیک ہونے میں مددگار ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔
یہ ہوا مختصر تعارف ان بارہ نمکیات کا جو بائیوکیمک ادویات کی شکل میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ بائیوکیمک دوائیں عام طور سے ہومیو پیتھک معالجین ہومیو پیتھک دوائوں کے ساتھ معاون دوا کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ بائیو کیمک طریقہ علاج اس معنی میں آسان ہے کہ ہومیو پیتھک میٹریا میڈیکا میں درج بے شمار ادویات کے بر عکس اس میں صرف بارہ دوائیں ہیں جنہیں سمجھنا اور یاد رکھنا کافی آسان ہے۔ بعد میں ان دوائوں کے امراض اور علامات کے مطابق بنائے گئے مرکبات یا کمپائونڈ رائج ہو گئے جن میں امراض کے مطابق ایک نمبر سے لیکر چھبیس نمبر تک کے کمپائونڈکافی مقبول ہیں۔ اگرچہ بائیوکیمک دوائیں بے ضرر مانی جاتی رہی ہیں لیکن کسی بھی طریقہ علاج میں طبی مشورے کے بغیر دوا کا استعمال مناسب نہیںہے۔نقصان کا احتمال رہتا ہے ،اس لئے ماہر معالج سے رجوع کرنا نہ بھولیں۔
فون نمبر۔+919450191754
ای میل۔[email protected]