عصر حاضر کے قد آور مفکر، نباض مفسر، عظیم محدث،ثقہ دا عئی اسلام ڈاکٹر طاہر القادری پچھلی کئی دہائیوں سے اپنے علمی کارناموں کی بدولت جلالت و شہامت کے ساتھ حکمرانی کرتے نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی ولادت19 فروری1951ء کوپاکستان کے شہر جھنگ میں ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب نے علوم جدیدہ کے شانہ بہ شانہ قدیم علوم اسلامیہ سے بھی واقفیت حاصل کی ۔ آپ نے یونی ورسٹی آف پنجاب سے ایم ۔ اے اور قانون کے امتحانات نمایاں اعزازات کے ساتھ پاس کیے اور "punishment in islam their classification and philosophy" کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی سند تفویض کی گئی ۔
ڈاکٹرطاہر القادری کا تجر علمی، قلمی بساط، اجتہادی بصیرت، علوفکری اور تحقیق و استدلال لائق صد ستائش ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر اگر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ اُن کی حیات مسلسل جدو جہد، پائیدار محنت اور زممِ مصمم کا دل آویز پیکر ہے وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی تعبیر نظر آتے ہیں۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں مردوں کی شمشیریں
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی علمی استعداد و عملی نقطہ نظر سے یہ ثابت کردیا ہے کہ سچا عالم دین مسجد کی امامت سے لے کر حیات کے دیگر شعبہ ہائے جات میں بھی ملتِ اسلامیہ کی سربراہی کا حقدار ہوتا ہے۔ وہ قلب و نظر کی تطہیر کے ساتھ ساتھ شخصیت کی تعمیر بھی کرتا ہے وہ فقط نجات اُخروی ہی کا جادہ نہیں دکھاتا بلکہ دنیوی زندگی کی فوز و فلاح کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب صرف ایک مذہبی رہنما نہیں ،بلکہ ایک مفکر، دانشور، مصلح اور سیاسی و سماجی رہنما بھی ہیں۔ علاوہ ازیں موصوف عالم اسلام کے جید عالمِ دین، زود نویس مصنف اور نکتہ شناس فقیہہ ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے ایمانیات ، اعتقادات، تصوف و روحانیت ، معاشیات و سیاسیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر کئی چھوٹے بڑے موضوعات پر قلم آزمائی کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو ایک شاہکار علمی ورثے سے بہرہ مند فرمایا۔ آپ کی تصانیف کی تعداد کم و بیش ایک ہزار ہے ۔ جن میں سے500ے زائد کتب اردو ، انگریزی، عربی و دیگر زبانوں میں منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ بقیہ کتب کے مسوّدات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔ مذکورہ قلمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’ امریکن بائیو گرافیکل آنسٹی ٹیوٹ‘‘(ABI) نے موصوف کو "The international cultural Diploma of honour"کے تمغہ سے نوازا۔اسی ادارے کی جانب سے ڈاکٹر صاحب کے غیر معمولی تخلیقی کدو کاوش کو زیر نظر رکھتے ہوئے"Outstanding man of the 20th century" کا خطاب تفویض کیا گیا۔
طاہر القادری نے ساری زندگی فکرو عمل سے اعتدال و توازن کا درس دیا۔ اُن کے نزدیک امتِ مسلمہ کے مابین مذہبی اور اعتقادی تفاوت و انتشار بے اعتدالی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ایک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کی محبت و عقیدت میں جہالت مفرط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات افراط تک پہنچی ہے اور دوسری جانب ردعمل میں تحقیر و تنقیص کے باعث معاملہ تفرط تک پہنچ جاتا ہے۔ اُن کے نزدیک حرف حق کے متلاشی توازن اور اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے پوری دُنیا کو یہ پیغام سنایا کہ موجودہ دور میں دینِ متین کے خلاف مغربی استعمارکے ذریعے جو محاذ آرائی قائم کی جاچکی ہے اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں فرقہ پرستی اور بے جا مسلکی تعصب سے اجتناب کرتے ہوئے منتشرامُت کی از سر نو شیرازہ بندی کرنی چاہیے تاکہ امت کو پھر سے جسد واحد بنایا جاسکے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی دعوت و فکر کی بنیاد کتاب اللہ کو بنایا۔ انہوں نے اپنی تحریک اور عملی دستور کا نام ہی ’’منہاج القرآن‘‘ رکھا یعنی انہوں نے اس امر کی توضیح کی کہ ہماری دعوت کا اساسی نکتہ قرآن کی طرف دعوت اور قرآن کے ذریعے حیات اور نظامِ حیات کی تبدیلی کا عزم ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی شبانہ روز محنت سے ’’منھاج القرآن‘‘ کو عالم گیر تحریک بنایا۔ جو آج دنیا کے تقریباً90 سے زائد ممالک میں اسلام کی حقانیت و صداقت اور پیغامِ امن و سلامتی عام کرنے میں منہمک ہے۔ تحریک’’ منھاج القرآن ‘‘کے ذریعے موصوف پوری دنیا میں امت مسلمہ کے درماندہ قافلے کے میرکارواں بنے اور بطور موسس تحریک یہ آہنگ نوک زبان پر تھا کہ ؎
میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بارہوگا
شب گریز اں ہوگی آخر جلوئہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمئہ توحید سے
تحریک منھاج القرآن کا یہ اختصاص بلا اشتباہ اس پُر آشوب دور میں ایک جذبہ عمل کی صورت میں محسوس کیا جاچکا ہے۔ اقوام عالم میں یہ تحریک صحیح معنوں میں رسول نما تحریک کے طور پر بڑھ رہی ہے۔چنانچہ تحریک منھاج القرآن کے منہج کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کے سپوت و خلف الرشید ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اپنی تصنیف ’’ فلسفہ تحریک‘‘ (فکری وحدت ، اجتماعیت اور منہج و مقصد ) میں یوں رقمطراز ہیں:۔ ’’ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بلاشبہ تحریک منھاج القرآن دین اسلام کی تجدید و احیا ء کی ایک عظیم تحریک ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین متین کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا ہے‘‘۔(ص۱۷)
ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی خدمات کے چند اہم گوشے حسبِ ذیل ہیں:۔
عرفان القرآن:۔ یہ ترجمہ نہایت سہل اور سلیس زبان میںہے۔ علاوہ ازیں دور حاضر کی سائنسی ، فکری ، تفسیری اور فقہی شان کا حامل ترجمہ ہے۔
علم حدیث:۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے علم حدیث کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دئیے۔موصوف کی ضخیم ترین تصنیف پچیس ہزار احادیث کا مجموعہ ’’ جا مع السُنۃ فیما یعتاج الیہ آخرالاعہ ‘‘ہے ۔ جو مختلف النوع موضوعات پر بیس جلدوں پر محیط ہے۔
11000 احادیث پر مشتمل کتاب بعنوان ’’ المنھاج السّوی من الحدیث النبوی ‘‘ہے ۔ اس کتاب میں مختلف ابواب کے تحت حدیثوں کو جمع کیا گیا ہے۔
’’ھدایۃ الامۃ علی منھاج القرآن والسّنہ‘‘اڑھائی ہزار احادیث کا مجموعہ ہے ۔ یہ مجموعہ آیاتِ قرآنی اور احادیث نبوی کے ساتھ ساتھ آثار صحابہ و تابعین اور اقوال ائمہ و سلفِ صالحین کا بھی نایاب ذخیرہ ہے۔مذکورہ کتاب کے آغازمیں اُن جید شیوخ اور کبار علماء کا تذکرہ بھی شامل ہے جن سے طاہر القادری نے درس اور اسانید و اجازت حاصل کی ہیں۔
اَلاربعین فی فضائل النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم‘‘یہ مجموعہ ڈاکٹر صاحب نے40 سال قبل تقریباً 1972ء میں دورانِ اعتکاف مرتب کیا۔یہ مجموعہ چالیس احادیث کی بجائے چالیس فصول پر محیط105 احادیث کا منفرد کارنامہ ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے علم حدیث پر جو دبیز ورثہ امت مسلمہ کو تفویض کیا۔ اس مختصر مقالے میں ان کا ضبط قلم میں لانا محال ہے لہٰذا چند کتابوں پر ہی اکتفا ناگزیر ہے۔
عقیدہ ختمِ نبوت:۔ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے آپ نے تقریباً1000صفحات پر مشتمل کتاب عقیدہ ختمِ نبوت کی مکمل صراحت اور قادیانیت کی جانب سے پیدا کردہ سوالات کا جواب بھی دیا ہے۔
سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم:۔ یہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اس تصنیف سے سیرت الرسول کے باب میں وقیع اضافہ ہوا۔ مذکورہ سیرت میں پیغمبر الاسلام کا غائرانہ تعارف موجود ہے نیز دور جدید میں انسانیت کو درپیش مسائل کا حل اور سیرۃ الرسول کی جوت میں تلاش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
اسلام اور جدید سائنس:۔ یہ عہد حاضر کی نایاب کتاب ہے۔ اس کتاب میں اُن امور پر تفصیلی بحث کی گئی ہے کہ سائنس شعور کے فروغ میں اسلام کا کیا کردار ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ آج کا مسلم طالب علم اپنے اسلاف کے عظیم علمی کارناموں سے بھی آگاہ نہیں۔ دوسری طرف اہل مغرب کی تنگ ظرفی و تنگ دامنی کو زیر نظر رکھتے ہوئے کہ وہ اسلامی سائنس کے دور کا قطعاً اعتراف نہیں کرتے اور اگر کہیں مجبوراً کریں بھی تو ڈھکے چھپے انداز میں ، جس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ مغربی سائنس کا خمیر براہِ راست یونانی دور سے اُٹھایا گیا ہے، حالانکہ تاریخ عالم گواہ ہے کہ یہ انصاف سے پرے کی بات ہے۔بقول ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی’’مسلمان سائنسدانوں نے یونان و ہند کے ارباب علم و دانش کے لئے جذبات تشکرو اِمتنان کے اظہار و اعتراف میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ اس کے برعکس یورپ نے موجودہ سائنس سے حاصل کی لیکن اُن کے ہاںکلمئہ اعتراف تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے‘‘۔
الغرض پروفیسر طاہر القادری کی علمی و فکری خدمات کا ایک عالم معترف ہے۔ اُنہوں نے جس عظیم انداز سے نہایت مختصر وقفے میں دُنیا بھر سے دادِ تحسین حاصل کی۔ تاریخ عالم میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ طاہر القادری نے سینکڑوں موضوعات پر قلم آزمائی کر کے جو وقیع علمی ذخیرہ امت کو تفویض کیا،اس سے ضبط قلم میںلانا میری بساط سے ماوراء ہے۔
مذکورہ مقالے کو جنبش قلم سے صفحہ قرطاس پر رقم کرتے بارہا یہ محسوس ہوا کہ آج کے اس مادہ پرستانہ دور میں جہاں منافقت اور خود غرضی کے آسیب نے ہر چیز پر مہیب سایہ ڈال رکھا ہے۔ وہاں آمیختہ شخص کا میسر آنا بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ صرف رسمی جملے نہیں بلکہ قلب کے نہاں خانوں سے نکلی ہوئی محبت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ذات کا طلسم اس طرح آغوش میں ڈھانپ لیتا ہے کہ نہ کچھ سننے کی مہلت رہتی ہے، نہ کچھ کہنے کا یارا۔ ایک پُر گداز و پُرسوز شخصیت جس کے پہلو میں محبت و التفات کی کائنات بھڑکتی ہے۔ یہ مقالہ انہی کے حسن نظر کا فیضان ہے۔
رابطہ : ایم۔ اے سینٹرل یونیورسٹی کشمیر(شعبہ اردو)
رابطہ نمبر: 9596758836
ف