ڈاکٹر ترنم ریاض سے ایک ملاقات

یہ 5 مارچ سنہ 2018 کی بات ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان 'بیسویں صدی میں خواتین کی شاعری ،سماجی، ثقافتی اور صنفی جہات کی کارروائی جاری تھی۔ اس سیمینار میں ڈاکٹر ترنم ریاض بحیثیت مہمان اعزازی شرکت کر رہی تھیں۔حالانکہ میں اُس وقت یونیورسٹی آف حیدرآباد میں داخلہ لے چکی تھی لیکن اردو یونیورسٹی میں کوئی بھی سیمینار یا ادبی محفلیں منعقد ہوتی تھیں تو شرکت کرنے ضرور پہنچتی تھی۔بہرکیف سیمینار کے حاشیے پر مجھے ترنم ریاض سے پہلی بار کھل کر بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ اس سے پہلے ایک بار اُن سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا بلکہ اُن سے ملنا نہیں صرف دیکھنا کہہ سکتی ہوں، اُس وقت ان کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی تھی۔ تب تک میں نے ان کی کوئی تخلیق نہیں پڑھی تھی لیکن اس کے بعد میں نے ایک دو افسانے پڑھے جس کے بعد اُن کی خوبصورتی کے ساتھ قلم اور سوچ کی بھی قائل ہو گئی۔
ڈاکٹر ترنم ریاض وہی ہیں جنہوں نے ضمیر اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے والا افسانہ 'شہر لکھا۔ بڑے شہر کی بھاگ دوڑ، بے حسی اور پرائیویسی میں بند ہوتی زندگی کو پیش کرتا یہ افسانہ ایک قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔متذکرہ افسانے میں انہوں نے دو چھوٹے معصوم بچوں کی بے بسی اور ان کی تکلیف کو اتنے پرسوز انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والا چونک جاتا ہے۔ وہ خود اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ مجھے آج تک یہ افسانہ پڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی کیوں کہ اسے تخلیق کرنے میں جس کرب اور اذیت سے گزری ہوں اسے بیان کرنا ناممکن ہے۔اردو یونیورسٹی میں جب ان سے ملاقات ہوئی تھی تو میں اس افسانے کا مطالعہ کر چکی تھی۔ یقین مانیں میں بھی آج تک دوبارہ وہ افسانہ نہیں پڑھ سکی، جب پہلی بار پڑھا تھا تو مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوئی تھی۔ اس لیے جب ان سے بات کرنے کا موقع ملا تو سب سے پہلے ان سے یہی پوچھ بیٹھی کہ اس افسانے کے پیچھے کی کہانی کیا ہے؟ کیا واقعی ایسا کوئی واقعہ انہوں نے دیکھا یا سنا تھا؟
میرے سوال پر وہ پہلے تو اپنے مخصوص انداز میں مسکرائیں۔ پھر کہنے لگیں کہ بتائو تم نے وہ افسانہ کب پڑھا؟ میں نے ان کو بتایا کہ ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا ہے۔ دراصل جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تھا تب میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ ترنم ریاض کون ہیں؟ لیکن ان کو دیکھنے اور سننے کے بعد خواہش ہوئی کہ ان کو پڑھا بھی جائے اس کے بعد ہی بحیثیت ادیب میں نے انہیں جانا لیکن گفت و شنید کا موقع اسی سیمینار میں فراہم ہوا۔افسانہ 'شہر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ضروری نہیں ہے کہ جو ہم لکھیں وہ واقعی میں ہوا ہو۔ لیکن شہر کی بھاگتی زندگی اور مصروفیت نے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے، کس طرح لوگ ایک فلیٹ میں رہتے ہوئے اپنے آپ میں بند رہتے ہیں۔ ان کے پڑوس میں کیا ہو رہا ہے انہیں خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔وہ کیا کہہ رہی تھیں میں کب سن رہی تھی، میں تو ان کی نرم گفتاری، انداز بیان اور خوبصورتی میں کھو گئی تھی۔یقیناً یہ الفاظ، جو میں نے لکھے ہیں، من و عن اُن کے نہیں ہیں۔ اُن کے بیان کرنے کا انداز الگ تھا، لیکن ان کی باتوں کا لب لباب یہی تھا۔ اس کے بعد اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں بعد ازاں میں نے اُن کا موبائل نمبر لیا۔
9 اگست 1963 کو جنمی ترنم ریاض نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 1973 میں کیا۔ حالانکہ اُن کی پہلی کہانی 1975 میں سری نگر سے نکلنے والے روزنامہ آفتاب میں شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزارا، آل انڈیا ریڈیو سے بھی منسلک رہیں۔ترنم ریاض کا اپنا ایک منفرد اور مخصوص انداز تھا جسے پوری اردو دنیا میں پسند کیا جاتا تھا۔ اردو ادب کی بیش بہا خدمات کے لیے مختلف اعزازات سے نوازی گئیں۔ اُن کی کتابوں میں بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب، چشم نقش قدم (تحقیق و تنقید)، برف آشنا پرندے، موتی (ناول)، چار افسانوی مجموعے میرا رخت سفر، یمبرزل، ابابیلیں لوٹ آئیں گی اور یہ تنگ زمین قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ شعری مجموعے، مضامین اور ترجمہ شدہ کتابیں بھی ان کی جنبش قلم کی شاہد ہیں۔
میں نے اُن کا ناول برف آشنا پرندے کے علاوہ کچھ افسانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کے کچھ افسانوں نے مجھے ضرور چونکایا۔ وہ اپنے افسانوں کی بنیاد روز مرہ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات اور انسانی احساسات پر رکھتی ہیں جن سے روز ہمارا سامنا ہوتا ہے۔بحیثیت افسانہ نگار ترنم ریاض نے اپنے افسانوں میں زندگی کے عام مسائل کو بڑے فنکارانہ انداز میں بھنانے کی کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہی ہیں۔ وہ اپنے افسانوی مجموعے 'ابابیلیں لوٹ آئیں گی میں لکھتی ہیں:
'اپنے گرد وپیش تبدیلیوں کو محسوس کر کے میں بھی کبھی خوش ہوتی ہوں کبھی رنجیدہ۔ میں انسانوں کے بدلتے ہوئے خیالات، کردار، اطوار، طرز زندگی کا بغور مشاہدہ کرتی ہوں ۔انسانی احساسات کو اپنے تخلیقی نہاں خانوں میں محفوظ کر کے کہانیوں اور افسانوں کا روپ دیتی ہوں۔ تخلیق کا یہ سفر میرے لیے اذیت ناک بھی ہے اور تسکین آمیز بھی۔یہ اذیت ان کے افسانے مٹی، شہر، برآمدہ، برف گرنے والی ہے، میرا پیا گھر آیا وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں زندگی کے گوناگوں مسائل کو پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی تخلیقات میں خواتین اور کشمیر کے مسائل اور وہاں کی تہذیب و تمدن کی سچی عکاسی کرتی ہیں۔وہ کشمیر کی باسی تھیں اور کشمیر کے مسائل کے ساتھ تہذیب و تمدن کی بہترین نباض تھیں۔ انہوں نے بڑی بے باکی سے کشمیر کے مختلف پہلوئوں کو اپنے انداز میں پیش کیا ہے اور یہی بے باکی ان کی پہچان بھی تھی، ان کا ہنر بھی تھا۔
جب میری اُن سے پہلی بار بات چیت ہوئی تو اس وقت میرا افسانہ '’میرا قصور کیا تھا‘ منظر عام پر آچکا تھا۔ میں اکثر ان سے فون پر باتیں کرتی رہتی تھی اور وہ ہمیشہ اسی پر جوش انداز میں ہر بات کا جواب دیتی تھیں جیسے ان سے پہلے دن بات کر رہی ہوں۔ میں نے ایک دن اُن سے پوچھا کہ میم میں کب اتنا اچھا لکھوں گی، پہلے تو مسکرائیں پھر کہنے لگیں کیا تم نے کبھی کچھ لکھنے کی کوشش نہیں کی؟دراصل میں نے ان سے اپنے افسانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کو بتایا تھا۔ میرے ذہن میں تھا کہ یار میں ان کے آگے کس کھیت کی مولی ہوں؟ بہرحال میں نے جب انہیں بتایا تو وہ بہت خوش ہوئیں اور ہنستے ہوئے بولیں اب سوال کرنے کی باری میری ہے۔ تم بہت سوال کرتی ہو اب تم بتائو کہ اس افسانے کی تخلیق کے پیچھے کوئی واقعہ ہے یا بس یونہی کوئی کہانی ہے؟ میں نے کہا، ہاں حقیقت تو ہے بس افسانوی رنگ میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کی ہوں۔ زبردست، تم ایک کام کرو مجھے ابھی مت بتائو کہ کس پس منظر میں تم نے وہ افسانہ تخلیق کیا ہے مجھے میل یا واٹس ایپ کر دو، پڑھنے کے بعد میں خود بتائوں گی۔
مجھے بڑی خوشی ہوئی لیکن ڈر بھی تھا کہ نہ جانے ان کا رِیسپانس کیا ہوگا لیکن یہ یقین تھا کہ اپنی نرمی کی وجہ سے کم سے کم مجھے ڈانٹ تو نہیں پلائیں گی۔ خیر میں نے انہیں وہ افسانہ بھیج دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ایک شام ان کا فون آگیا۔ سلام دعا کے بعد بولیں کہ میں نے تمہارا افسانہ پڑھ لیا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایسے ہی لکھتی رہو جو چیز تمہیں متاثر کرتی ہے یا کسی واقعے نے تمہیں جھنجھوڑا ہو تو اس پر ضرور قلم اٹھائو۔میں نے سوال کیا کہ میم اب آپ بتائیے کہ کس پس منظر میں یہ لکھا گیا ہے؟ تو کہنے لگیں ایک بار پڑھی تو سمجھ نہیں آیا پھر دوسری بار پڑھنے پر اندازہ ہوا کہ کٹھوعہ ریپ کیس پر لکھا گیا یہ افسانہ بہت عمدہ ہے، اس میں تمام باتیں آگئی ہیں۔۔۔ دیر تک وہ افسانے کے متعلق باتیں کرتی رہیں اور آگے بھی لکھنے کے لیے مشورہ دیتی رہیں۔ اس کے بعد کافی وقت تک میں کچھ نہیں لکھ سکی ما سوائے اپنی پی ایچ ڈی کے کام کے۔
ایک دن انہوں نے واٹس ایپ پر کوئی اسٹیٹس اپڈیٹ کیا تھا میں نے اس پر کمینٹ کر دیا اور اس طرح میں پکڑی گئی۔ فوراً میسج کیں کہ کیسی ہو میں نے فون کرنا مناسب سمجھا اور جیسے ہی انہوں نے فون اٹھایا چھوٹتے ہی پوچھا 'تم کہاں غائب ہو، کیا آج کل کچھ نہیں لکھ رہی؟ میں نے کہا میم کیا بتائو ایک تو پی ایچ ڈی سے متعلق ابھی پڑھ رہی ہوں دوسرا سب سے بڑھ کر مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیا لکھوں؟یہ سن کر بولیں 'ارے کیا تم کو ایک سال میں کوئی ایسا واقعہ نظر نہیں آیا جو تمہیں متاثر کر سکے؟ میں چپ تھی، پھر سے اپنا سوال دہرایا۔ میں نے کہا ایسی بات نہیں بہت ساری چیزیں ضرور مجھے پریشان کی ہیں اور کچھ تو اب تک ذہن میں ہے ۔۔۔کہنے لگیں کہ پھر اٹھائو قلم اور لکھو۔ میں نے کہا جی ضرور کوشش کروں گی۔
بہر حال میں نے نیا افسانہ '’جلتے بجھتے دیپ ‘کے نام سے لکھا وہ بھی حقیقت پر مبنی ہے۔ لیکن میں ان کو کسی سبب افسانہ بھیج نہ سکی اور جب وہ شائع ہوا تو اس کے کچھ دنوں بعد بھیجا تو کہنے لگیں 'تم لکھ سکتی ہو بس کوشش جاری رکھو، ہار مت ماننا۔ کوشش کرنے سے ہی کامیابی ملتی ہے۔بس اُن سے اسی طرح باتیں ہوتی رہتی تھیں، اپنے مفید مشوروں سے نوازتی تھیں جب بھی ملتی تھیں تو میں سوالوں کی بوچھار کر دیتیں۔ وہ ہمیشہ میرے سوال سن کر غصہ ہونے کے بجائے مسکراتی تھیں اور جواب بھی دیتی تھیں۔ وہ ان کی مسکراہٹ ۔۔۔۔یا اللہ اس سے بھی میں آج محروم ہوگئی۔ مجھے نہیں پتہ کہ بقیہ دوسرے لوگوں نے یہ مسکراہٹ محسوس کی ہے کہ نہیں لیکن مجھے ان کی وہ مسکراہٹ ہمیشہ ان سے بات کرنے کا حوصلہ دیتی تھی اور میں بلا جھجھک کسی بھی مسئلے پر مشورہ کر لیتی تھی۔پچھلے سال لاک ڈائون اور کورونا نے جس طرح سب کی زندگی کو متاثر کیا اسی طرح میں بھی کچھ اپنے آپ میں سمٹ گئی تھی۔ کچھ نامناسب واقعات پیش آئے جنہوں نے مجھے توڑ کر رکھ دیا اور اس درمیان بلکہ اب تک میری ان سے کوئی بات نہیں ہو سکی تھی لیکن آج جب اس مشکل دور سے گزر رہی ہوں تو ان کی ایک بات ذہن میں رہتی ہے کہ کوئی ایسی چیز یا واقعہ جو تمہیں جھنجھوڑتا ہے اس کو کہانی میں ڈھال کر لکھ ڈالو یہی تو افسانہ ہے ۔۔۔ میں نے ان ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قلم اٹھایا اور دو چار افسانے لکھ ڈالے۔
ان کی کچھ نصیحتیں تا عمر نہیں بھول سکتی، ان کی ان نصیحتوں کو میں نے گرہ سے باندھ لیا ہے۔ ان سے کافی وقت سے کوئی بات نہیں ہو سکی تھی لیکن وہ ہمیشہ میرے ذہن میں رہتی ہیں۔ وہ ایک مشہور ادیبہ تھیں، بڑی لکھاری تھیں، درجن بھر کتابیں تخلیق کی ہیں، جس میں بے شمار افسانے، ناول، تنقیدی مضامین، شاعری، کچھ ترجمہ شدہ کتابیں، غرض ادب کا کون سا ایسا میدان ہے جس کی وہ مجاہد نہیں تھیں۔ترنم ریاض کے ہزاروں جاننے پہچاننے والے ہیں، مجھے نہیں پتہ کہ ان کو میں یاد بھی تھی یا نہیں لیکن وہ ان شخصیات میں سے ایک تھیں جن سے اور ان کی تخلیقات سے میں بے حد متاثر تھی۔ جس طرح وہ واقعات کو اپنی تحریروں میں سموتی تھیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔انہوں نے اردو ادب میں اپنی تخلیقات سے گراں قدر اضافہ کیا ہے جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی ان کی اور تحریریں پڑھنے کو ملتی لیکن ہائے رے کورونا اور قدرت کا قانون۔۔۔کورونا نے آج اس عظیم ہستی کو بھی ہم سے چھین لیا۔ مجھے جب ان کی وفات کا پتہ چلا تو یقین نہیں آیا لیکن قدرت کے آگے ہم سب مجبور ہیں۔میں نے انہیں اپنا گرو مان لیا تھا میں نہیں جانتی کہ وہ مجھے اپنا ششیہ مانتی تھیں یا نہیں لیکن آج میں نے ایک اچھا گرو کھو دیا ہے، لیکن ان کی سکھائی چیزیں میرے ساتھ ہمیشہ رہیں گی۔
(رشدہ شاہین یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو کی پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔)
ای میل: [email protected]