بیجنگ// چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان میں پیر کو آئے شدید زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 70 ہو گئی ہے۔پیر دوپہر ایک بجے کے قریب آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.6 تھی۔ زلزلے کا مرکز 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔ گنجی تبتی خود مختار صونئی میں 37 اور یاآن شہر کی شمین کاؤنٹی میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔منگل کی صبح 7 بجے تک گنجی میں 12 افراد لاپتہ اور 170 زخمی پائے گئے، جن میں سے 56 شدید زخمی ہوئے تھے۔ منگل کی صبح 5:50 بجے تک شمین کاؤنٹی میں 78 افراد زخمی ہوئے۔ سیچوان میں زلزلے کے لیے اعلیٰ سطح کے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کل کہا گیا کہ زلزلے سے ٹیلی کمیونیکیشن لائنیں ٹوٹ گئیں اور پہاڑی تودے گرے، جس سے ’’شدید نقصان‘‘ ہوا۔ چنگڈو میں زلزلے کے جھٹکوں سے کئی عمارتیں لرز گئیں جہاں لاک ڈاؤن کے باعث پہلے ہی لوگ اپنے گھروں تک محدود تھے۔ زلزلے کی وجہ سے اپنے گھروں سے منتقل ہونے والے 50 ہزار سے زائد افراد کے لیے خیمے لگائے گئے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی میں دکھایا گیا کہ ریسکیو عملے نے موکسی میں گرے ہوئے گھر سے ایک زخمی خاتون کو نکالا۔ موکسی میں بہت ساری عمارتیں لکڑی اور اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ وہاں 150 افراد کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ سی سی ٹی وی نے بتایا کہ حکام نے ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے اطراف سے پتھر اور مٹی گرنے کی اطلاع دی جس سے گھروں کو نقصان پہنچا اور بجلی میں کی فراہمی میں خلل پڑا۔چینی صدر شی جن پنگ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زندگیاں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ چین کا جنوب مغربی علاقہ فعال اور متحرک زلزلہ زون میں واقع ہے۔ حالیہ برسوں میں چین میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ 2008 میں 7.9 شدت کا تھا جس میں سیچوان میں تقریبا 90 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔