بیجنگ//چینی کمپنی کینسائنو بائیولوجکس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اس کی سانس کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کو ملک کے ڈرگ ریگولیٹر نے ہنگامی طور پر بوسٹر کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے جس سے اس کے کاروبار کو ممکنہ طور پر فائدہ ہوگا۔کمپنی نے بتایا کہ کینسائنو کی حال ہی میں تیار کردہ اس ویکسین کو نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مثبت اشارہ مل گیا ہے۔کینسائنو بائیولوجکس نے کہا کہ ’اگر یہ ویکسین بعد میں متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے خریدی اور استعمال کی جائے تو اس کی منظوری کا کمپنی کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑے گا‘۔تاہم کمپنی نے خبردار کیا کہ اس ویکسین کو چین میں ان دیگر ویکسینز سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا جنہیں حکومتی منظوری مل چکی ہے یا ان کے کلینیکل ٹرائل جاری ہیں۔چین نے لائیوزون فارماسوٹیکل گروپ کی کورونا ویکسین کے ایک بوسٹر کے طور پر ہنگامی استعمال کی اجازت دی ہے، یہ ایک سال سے زائد عرصے میں اس بیماری کے خلاف منظور ہونے والی صرف 2 نئی ویکسینز میں سے ایک ہے۔
کینسائنو بائیولوجکس نے مزید کہا کہ یہ واضح نہیں کہ اس کی ویکسین کب مارکیٹ میں متعارف کروائی جاسکے گی کیونکہ اضافی انتظامی منظوریوں کی ابھی ضرورت ہے جبکہ فروخت کا انحصار اندرون اور بیرون ملک کورونا کی صورتحال کے ساتھ ساتھ چین میں ویکسی نیشن کی شرح پر ہوگا۔چین میں حال ہی میں کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، چین کے ٹیکنالوجی ہب شینزین کے بیشتر حصوں میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جبکہ چینگڈو کے جنوب مغربی میٹروپولیس میں گذشتہ دن لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔چین میں 3 ستمبر کو کورونا وائرس کے ایک ہزار 848 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں علامتی اور غیر علامتی انفیکشن دونوں شامل ہیں، اس سے ایک روز قبل نئے کیسز کی تعداد ایک ہزار 988 تھی۔ادھر حکام نے کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر صوبہ سیچوان کے دو کروڑ آبادی کے حامل بڑے اقتصادی شہر چینگڈو میں لاک ڈاؤن لگا دیا ہے۔ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ سْپر مارکیٹ کی شیلف خالی ہیں اور لوگ لازمی قرار دی گئی ٹیسٹنگ کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔25 سالہ نوجوان مقامی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ شنگھائی میں خوراک کی قلت کی وجہ سے ہر کوئی سامان ذخیرہ کررہا ہے۔سرکاری نوٹس کے مطابق قواعد کے تحت گھر کے صرف ایک فرد کو ضروری سامان خریدنے کے لیے باہر جانے کی اجازت ہوگی، جبکہ باہر جانے کے لیے شہریوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرائے گئے کووڈ کے منفی ٹیسٹ کے نتائج لازمی دکھانے ہوں گے۔سرکاری اعلامیے میں تمام شہریوں کے وائرس کے ٹیسٹ لازمی ٹیسٹ کرانا ہوں گے اور انتہائی ضرورت کے علاوہ وہ شہر نہ چھوڑیں۔شہر میں 150 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 47 افراد کو کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں جس کے بعد حکام نے بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹ کروانے کے احکامات جاری کیے۔چین کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتی ہے جہاں کورونا کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی بنائی گئی ہے لیکن موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔