نئی دہلی// لداخ کی وادی گلوان میں چین کی غیرقانونی دراندازی اور ہندوستانی فوجی اہلکاروں کے ساتھ تنازعہ کے بعد ہندوستان میں وہاں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی چوطرفہ آواز بلند ہونے لگی ہے ۔ چین کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور چینی سامان کی ہولی جلائی گئی ۔اورنگ آبادمیں کانگریس نے جمعرات کو شاہ گج علاقے میں گاندھی بھون کے سامنے چین کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے چینی کھلونے اور اشیاء کے ساتھ ساتھ چین کے صدر شی جن پنگ کی تصویر وں کو آگ کے حوالے کر دیا۔کانگریس کارکنوں نے اپنے احتجاج کے دوران چینی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔ادھرمدھیہ پردیش کے بھوپال میں واقع بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کیریاستی دفتر میں منعقد الیکشن انتظامیہ کمیٹی کی میٹنگ میں ا?ج بی جے پی کے سینئر رہنماوں نے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس دوران ؎ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹویٹ کر کے کہا ‘‘اگر دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات معمول پر نہیں آئے تو تجارت اور کاروبار پر شدید اثر پڑ سکتا ہے ۔ اگر صورتحال واضح نہیں ہوئی تو دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو بیس فیصد کے دھچکا لگ سکتا ہے ۔