سرینگر//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سیاحت کو ترقی دینے اور لوگوں کو متبادل رابطہ سہولیت فراہم کرنے کیلئے دریائے جہلم میں ان لینڈ آبی ٹرانسپورٹ متعارف کرنے پر زور دیا ۔ ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا کی ایک ٹیم اتھارٹی کی چئیر پرسن مسز نوتن گوہا وسواس کے ساتھ آج یہاں تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہلم وادی کی قوت کا مرکز ہے اور دریا کے ذریعے لوگوں اور سامان کی آمدورفت سے اس تاریخی آبی راستے کو بحال کیا جا سکتا ہے جس سے ریاست میں سیاحت کو کافی فروغ حاصل ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے دریائے جہلم میں آبی ٹرانسپورٹ شروع کرنے کیلئے پہلے قدم کے طور پر دریا کے بارہمولہ۔ اننت ناگ حصے کو ملانے کی ضرورت پر زور دیا ۔وزیر اعلیٰ نے دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی آبپاشی نہروں کی ڈریجنگ کا کام منسلک کرنے کیلئے بھی کہا تا کہ مستقبل قریب میں ان آبی راستوں کو بڑے پیمانے پر سامان لانے اور لے جانے کیلئے استعمال میں لایا جا سکے ۔ محبوبہ مفتی نے سلال ڈیم ، سندھ اور چناب دریاؤں کو ان لینڈ آبی ٹرانسپورٹ کے تحت لانے کیلئے کہا ۔ انہوں نے وُلر کی قدیم نیوی گیشن نہر کو بحال کرنے پر بھی زور دیا تا کہ جھیل کو آبی ٹرانسپورٹ کیلئے دلکشی کا مرکز بنا کر علاقے کی سیاحت کو فروغ حاصل ہو سکے ۔ چئیر پرسن ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا مسز نوتن گوہا وسواس نے وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا کہ اُن کا ادارہ جہلم ، راوی توی ، سندھ اور دیگر دریاؤں کو قابلِ سفر بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ان دریاؤں کو کیرلا کی نہروں کے طرز پر قابلِ سفر بنایا جائے گا ۔ مسز وسواس نے وزیر اعلیٰ کو مطلع کیا کہ اُن کا ادارہ اس مقصد کیلئے ایک کنسلٹینٹ کی خدمات عنقریب حاصل کرے گا جس کے بعد مفصل پروجیکٹ رپورٹ مرتب کر کے اس پر کام شروع کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے کشمیر کے دورے کے دوران وہ متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گی اور خود بھی دریائے جہلم کے آبی سفر پر جائیں گی ۔ اس موقعہ پر مسز وسواس نے وزیر اعلیٰ کو دریائے جہلم میں ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کیلئے فزیبلٹی رپورٹ کی ایک جلد پیش کی ۔ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ، سیکرٹری صحت عامہ ،آبپاشی و فلڈ کنٹرول ، آئی ڈبلیو اے آئی کے افسران اور دیگر متعلقہ افسران اس موقعہ پر موجود تھے ۔