عظمیٰ نیوز سروس
کانکر // ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع کانکر میں سیکیورٹی فورسز کو ایک بڑا نقصان اٹھانا پڑا، جہاں نکسلیوں کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگ (آئی ای ڈی) کے دھماکے میں ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ (ڈی آر جی) کے کم از کم چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کے روز اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز کانکر-نارائن پور سرحد کے جنگلاتی علاقے میں ڈی مائننگ (بارودی مواد ناکارہ بنانے) کے آپریشن میں مصروف تھیں۔ اس کارروائی کا مقصد نکسلیوں کی جانب سے چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد کو تلاش کر کے ناکارہ بنانا تھا۔کانکر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نکھل راکھیچا کے مطابق ٹیم کوروسکوڈا کے قریب کام کر رہی تھی کہ اچانک ایک آئی ای ڈی دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں انسپکٹر سکھرام وٹّی، کانسٹیبل کرشنا کومرا اور سنجے گڑھپالے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور اہلکار پرمانند کومرا شدید زخمی ہوئے اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے۔بستر رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سندرراج پٹیلنگم نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں سیکڑوں آئی ای ڈیز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے، تاہم اس بار بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران غیر متوقع دھماکہ پیش آیا، جس نے قیمتی جانیں لے لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بستر کے جنگلات میں نکسلیوں کی جانب سے نصب کیے گئے یہ دھماکہ خیز آلات سیکیورٹی فورسز، عام شہریوں اور حتیٰ کہ مویشیوں کے لیے بھی مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نکسل ازم کے خاتمے کے قریب ہے اور بستر جیسے علاقوں میں حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔