چڑھنے لگا نشہ پھر حسب نسب کا

قرآن مقدس ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کررہا ہے کہ ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا،تم سب آدم و حوا کی اولاد ہو، تمہیں شعبے اور قبیلے میں بانٹا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم میں سے مقام ومرتبہ اُسی کا بلند ہے، جس کے اندر تقویٰ ہے یعنی جو متقی و پرہیزگار ہے‘‘۔اب ظاہر سی بات ہے کہ صرف موڑنے والا متقی نہیں، صرف گٹھی دینے والا متقی نہیں، صرف موم جامہ کرنے والا متقی نہیں، رنگ برنگ کا جھالر جھو لر کپڑا پہننے والا متقی نہیں، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں درجنوں انگوٹھیاں پہننے والا متقی نہیں، مزاروں کے اِرد گرد بیٹھ کر لگے دم مٹے غم کا نعرہ لگانے والا متقی نہیں، مجاور کے روپ میں عوام کی جیبوں کو لوٹنے والا متقی نہیں، خانقاہوں میں ڈیرہ ڈال کر زائرین کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے والا متقی نہیں اور اسٹیجوں پر چیخ چیخ کر اپنے آپ کو سامعین سے سید تسلیم کرانے والا اور سید برادری کا ہو کر گھمنڈ کرنے والا بھی متقی نہیں۔ متقی دیکھنا ہو تو حبشہ کے رہنے والے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو، رنگ کے اعتبار سے کالے لیکن کردار و عمل کے اعتبار سے اتنے روشن کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بلال! جب میں نے معراج کا سفر کیا تو تمہارے کھڑاؤں کی آواز آرہی تھی اور خود میں نے وہ آواز سنی، لیکن حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی نہیں کہا کہ میں جنتی ہوں، میرا مقام ومرتبہ اللہ کے رسولؐ نے بیان کیا ،گویا تم لوگ کبھی میرے برابر نہیں ہوسکتے۔
 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکرؓ نے اسلام پر احسان کیا ہے اور اُن کا مقام ومرتبہ افضل الخلق بعد الرسل بتایا لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی نہیں کہا کہ جنت میری ہے اور تم میں سے کوئی میرے برابر نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرؓ! میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو تم ہوتے لیکن اللہ نے میرے اوپر نبوت ختم کردی اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ فاروق اعظمؓ نبی اکرم ؐ کے مرید بھی ہیں اور مراد بھی ہیں۔ مگر اس کے باوجود کبھی حضرت عمرؓ نے یہ نہیں کہا کہ تم کہاں اور میں کہاں، تم میرے برابر نہیں ہوسکتے۔ حضرت عثمان غنی ؓ، جنہوں نے اللہ کی راہ میں اتنا خرچ کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عثمانؓ! تم نے اللہ کی راہ میں اتنا خرچ کیا کہ اب تم نیکی کا کوئی کام نہیں بھی کروگے تو بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے مگر اس کے باوجود بھی عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں بخشا بخشایا ہوں ،جنت مجھے ہر حال میں مل کر رہے گی کیونکہ میرے عقد میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دو دو شہزادیاں آئیں۔
 حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول پاکؐ نے فرمایا کہ اے علیؓ! تم میرے لئے حضرت موسیٰ و ہارون علہم السلام کی طرح ہو، فرق اتنا ہے کہ وہ وہ دونوں بھائی بھی تھے اور نبی بھی تھے لیکن میں اللہ کا آخری نبی ہوں، حضرت علی کو باب العلم کہا مگر پھر بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی نہیں کہا کہ مجھے سب سےزیادہ علم ہے، میں افضل ہوں اور اعلیٰ ہوں۔ پھر آج وہ بیماری کیوں کچھ نام نہاد علماء  وخطباء اور کچھ خانقاہوں کے جانشین اور سجادہ نشین کے اندر پیدا ہونے لگی، آجکل فیس بک، واٹس ایپ جیسی سوشل میڈیا پر کچھ ایسے چہرے ہیں جو گھوم گھوم کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہماری تعظیم تمہارے اوپر واجب ہے، ہم سید ہیں تو ہم آل رسول ہیں، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھرانہ ہمارا گھرانہ ہے، ہمارا شجرہ نبی کے شجرے سے ملتا ہے ہم لاکھ بُرے ہو جائیں پھر بھی آپ کو ہمارا احترام کرنا ہے کیوں؟ اس لئے کہ ہم سید ہیںہم ہی جسے چاہیں گے وہی جنت میں جائے گا، کیونکہ حسنؓ بھی ہمارے اور حسینؓ بھی ہمارے اور دونوں حضرات سید ہیں، حالانکہ کبھی بھی حضرات حسنین کریمینؓ نے نہیں کہا کہ ہم جسے چاہیں گے وہی جنت میں جائے گا ،پھر نہ جانے کس بنیاد پر آج سید کا ٹائٹل لگا کر مذہب اسلام کو ہیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اَندھ بھکتی کا جال بچھا یا جارہاہے حالانکہ سید نام کی برادری زبردستی بنائی گئی ہے اور لغات میں برادری کے ناموں کے ایسے ایسے معنیٰ تحریر کئے گئے ہیں کہ پڑھنے کے بعد بیساختہ اور برجستہ کہا جاسکتا ہے کہ مذہب اسلام کے اندر مساوات ہے لیکن مسلمانوں کے اندر ذات برادری کا تعصب، اونچ نیچ ، بھید بھاؤ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جبکہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی ؐکےخاندان کا نام سید نہیں، نبیؐ کے قبیلے کا نام بھی سید نہیں بلکہ نبیؐ کے خاندان کا نام بنو ہاشم ہے اور نبیؐ کے قبیلے کا نام قریش ہے۔ ہاں! رہی بات سید کی تو سید کے معنیٰ سردار۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے سید الانبیاء و سید المرسلین بنایا یعنی نبیوں و رسولوں کے سردار، حضرات حسنین کریمینؓ جنت کے جوانوں کے سردار، حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہیدوں کے سردار تو آج اپنے آپ کو سید کہلانے اور فخر کرنے والے بتائیں کہ وہ کس بات کے سردار ہیں اور کس چیز کے سردار ہیں؟ ایک صاحب ہیں تو چیخ چیخ کر تقریر کررہے ہیں کہ کوئی سید بڑے سے بڑا جرم کرے اور گناہ کرے تو پھر بھی اس کی تعظیم واجب ہے ۔موصوف نے نام لے لے کر بُرے کاموں کو گنایا ہے اور ایسے بیہودہ کلمات ادا کئے ہیں کہ وہ ناقابل تحریر ہیں۔ دوسرے صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ جتنے چاہیں اچھے عمل کرلیں مگر کسی سید کے پیروں کی جوتی کے برابر نہیں ہوسکتے ،بتائیے یہ گھمنڈ ہے کہ نہیں؟ قرآن کی آیت ان اکرمکم عنداللہ التقاکم کی مخالفت ہے کہ نہیں؟ اور خطبہ حجتہ الوداع کی مخالفت ہے کہ نہیں؟ لیکن افسوس کہ کوئی روکنے والا نہیں اور اسٹیجوں پر کوئی ٹوکنے والا نہیں ،اسی لئے اندھی عقیدت و تقلید فروغ پاتی جارہی ہے۔ 
خود راقم الحروف دو ہزار گیارہ سے دو ہزار سولہ تک سعودی عرب میں رہا ہے بہت سے کاغذات پر نام سے پہلے جناب کی جگہ پر سید لکھا ہے اور جسے نہ یقین ہو، وہ عرب ممالک کے سفارت خانے سے سرکاری خطوط دیکھ لیں ،بہت سے خطوط پر جناب کی جگہ سید لکھا ہوا مل جائے گا اور راقم الحروف سعودی عرب کے شہر ریاض، طائف، جدہ، الغاط، صناعی، القسیم یہاں تک کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی گیا لیکن کہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو کہے کہ میں سید ہوں ،میں آل رسول ہوں اور کوئی یہ بھی کہنے والا نہیں ملا کہ وہ کہے، دیکھو وہ فلاں شخص آل نبی ہے، جبکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور آج بھی مدینہ منورہ میں گنبد خضریٰ کے نیچے آرام فرما ہیں اور یہ قرآن وہ حدیث سے بھی ثابت ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نبیؐ کی خاندان کے سبھی لوگ ہندوستان و پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہی چلے آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے بزرگان دین کے اخلاق و کردار کو دیکھا تو متاثر ہوئے اور حلق اسلام میں داخل ہوئے مگر چونکہ حالت کفر میں ان کے اندر جو ذات برادری کا تعصبانہ نظریہ و خیال تھا وہ آج بھی ہے اور عام طریقے سے پنڈت مسلمان ہوئے تو وہ سید لکھنے لگے اور ٹھاکر مسلمان ہوئے تو خان اور پٹھان لکھنے لگے اور آج بھی بہت سے مسلمان بھی اپنے کو راجپوت لکھتے ہیں،، ایک اور نام نہاد مقرر ہے جو کہتاہے کہ نبی ؐنے جنت میں جانے کی صرف ہمیں ضمانت دی ہے اور صرف ہماری ذمہ داری لی ہے۔
آگے بہت سی برادری کا نام لے کر کہتا ہے کہ کسی کی ذمہ داری نہیں لی ہے ،اس لئے ہمارے مرتبے کو سمجھو ،ہم سید ہیں، ہم نبی کی خاندان کے ہیں۔ اب یہاں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ عشرہ مبشرہ کے تذکرے کے ساتھ بغاوت ہے کہ نہیں؟ اس کم ظرف اور تنگ نظر کو معلوم ہونا چاہیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ جن کے پاس تین بیٹیاں ہیں تو وہ باپ اچھی تعلیم و تربیت کرکے پھر اس کا نکاح کردے تو وہ میرے ساتھ جنت میں ایسے ہوگا جیسے دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہؐ کسی کے پاس دو ہوں توآپؐ فرمایا وہ بھی۔ پھر پوچھا ،اگرایک ہوں تو فرمایا، وہ بھی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بھی کہا کہ والدین کا فرماں بردار جنتی ہے، جو اچھے ڈھنگ سے نماز کے لئے وضو بنائے وہ جنتی ہے یہاں تک کہ جو مسلمان دوسرے مسلمان سے خلوص کے ساتھ ملے، سلام کرے اور مصافحہ کرے ،وہ جنتی ہے۔ اور یہ صاحب ذات برادری کی بنیاد پر جنت کا ٹکٹ بانٹ رہے ہیں اور ایسا بیان کرتے ہیں جیسے پہلے ہی جاکر تالا بند کردیں گے۔ چاہے کوئی کچھ بھی کہے حقیقت یہی ہے کہ رنگ و نسل، حسب نسب، ذات برادری کے اعتبار سے کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ صرف تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر بلندی حاصل ہے، چاہے وہ کسی بھی برادری کا ہو۔
�����