سردی کا شہنشاہ چلہ کلاںایک بار پھر تخت نشین ہو چکاہے۔ کڑاکے کی سردی نے اس کا شاندار استقبال کیا۔تشریف آوری سے قبل ہی اس نےکشمیر اور گرد ونواح کے عوام کو سردی سے نڈھال کر دیا۔وادی ٔ کشمیر کے آر پارسرینگر،مظفر آباد، لہیہ لداخ ،راولاکوٹ ، باغ سمیت کشمیر کے بالائی علاقوں، گلمرگ،سونہ مرگ،بانہال، مری، گلیات، کوئٹہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ میں شدید سردی ہے۔ کشمیری میں شدید سردی کے موسم کو چلہ کلاںکہا جا تا ہے۔ جس کے لغوی معنی'' 40بڑے ''ہے۔یعنی شدت کی سردی کے چالیس ایام۔ایسی ٹھنڈ جو خون کو بھی جما دے،ہڈیوں کو گلا دے۔چلہ کلاں کی وادی کشمیر میںصدیوں سے انفرادیت رہی ہے۔ اس موسم میں خوب برفباری ہوتی ہے۔ برف جم جاتی ہے، شبنم بھی جم جاتی ہے۔ چھتوں اور آبشاروں کا پانی جم کر معلق ہو جاتا ہے۔ کشمیری میں اس کو’’ ششرگانٹھ ‘‘ کہتے ہیں۔ شدید سردی کے 70دن 21دسمبر یا7پوہ سے شروع ہوتے ہیں۔ کڑاکے کی سردی۔ پھر چلہ خورد ہے۔ پھر چلہ بچہ۔ چلہ کا فارسی میں مطلب چالیس ہے۔ یوں چلہ خورد کا مطلب کم سردی کے دن ہو سکتا ہے۔تا ہم چلہ خورد چلہ کلاں کے بعد 20دن کو کہتے ہیں۔ چلہ خوردکے بعد کے 10 ایام کوچلہ بچہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح21دسمبر سے 30جنوری تک چلہ کلاں، 31جنوری سے 19فروری تک چلہ خورد(چھوٹے)، 20فروری سے یکم مارچ تک چلہ بچہ ہوتا ہے۔
چلہ انگریزی لفظ chillکا ہم ردیف و قافیہ ہو سکتا ہے۔ جس کے معنی شدید ٹھنڈ اور سردی کے ہیں۔چلہ کلاں دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ دونوں فارسی کے جملے ہیں۔اس مناسبت سے ان کا فارس یا ایران سے ایک خاص تعلق جوڑا گیا ہے۔ ویسے بھی کشمیر کو ایران صغیر کہا جاتا ہے۔ کشمیر میںشاید'' کانگڑی'' اور'' فیرن'' اسی وجہ سے ایجاد ہوئے تا کہ شدت کی سردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔کشمیری ثقافت و تہذیب کا اہم حصہ فیرن ہے۔چلہ کلاں سے قبل ہی وادی بجلی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہونا اب روایت بن چکی ہے جس کے نتیجے میںوادی اور جموں کے بیشتر علاقے گپ اندھیرے میں رہتے ہیں۔ بھارت کشمیر میں ہزاروں میگاواٹ پن بجلی پیدا کرتا ہے اور اس سے بھارتی شہر روشن کئے جاتے ہیں۔چلہ کلاں میںمنفی ڈگری درجہ حرارت میں پانی کے نلکے جم کر پھٹ بھی جاتے ہیں۔چلہ پرانے زمانے میں اولیائے کرام کی جانب سے دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور دور کسی صاف و پاک جگہ، پہاڑ ، بیاباںیا جنگل میں اللہ کو یاد کرنے کی مناسبت سے بھی جانا جاتا رہا ہے۔ چلہ یعنی چالیس دن اللہ تعالیٰ کی عبادت۔ رہبانیت اگر چہ اسلام میں منع ہے،یعنی انسان کو دنیا ترک کرنے اور جنگل اور بیابانوںکی راہ لینے کی ہر گز اجازت نہیں۔ ہمیںحقوق اللہ اورحقوق العباد دونوں کی ہدایت ہے۔ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق لازمی ہی نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں،بلکہ اللہ کے بندوں کے حقوق پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور تاکید ہے۔یہ بھی کہانیوں میں درج ہے کہ چلہ کے دوران لوگ غائب بھی ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ جنات، بھوت پریت پر غلبہ پانے کے لئے بھی چلے کاٹتے تھے۔ لیکن زیادہ تر چلوں کا تعلق عبادت سے جوڑا گیا ہے۔ آج کے دور میں دین کی تبلیغ پر جانے والے چالیس ایام تبلیغ کے لئے لگائیں تو وہ اسے بھی چلہ قرار دیتے ہیں۔ زیر بحث چلہ کلاں، موسم سرما سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا کشمیر کی ثقافت اور تہذیب سے گہرا تعلق ہے۔
کوئٹہ بلوچستان میں بھی سردیوں کے چلے اسی حساب سے گنے جاتے ہیں۔ ناموں میں کچھ فرق ہے۔ ''چلہ کلاں '' ایک بار پھر آ گیا ہے۔جسے آج کشمیری خوش آمدید کہنے میں کتراتے ہیں۔دھند یا کہر، چلہ کلاںکا ایک حصہ ہے۔جس کا اسی موسم میں راج رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے شمالی بر صغیر، پنجا ب اور سرحدمیں نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ہائی ویز پر گاڑیاں چلانا مشکل ہو جاتاہے۔ جہازوں اور ٹرینوں کے شیڈولز میں خلل پڑتا ہے۔
ایران اور کشمیر میںچلہ کلاں ایک اہم جشن کا نام بھی ہے۔ جشن بہاراںکی طرح شدید سردی کی آمد کا جشن۔ چلہ کلاں گو کہ کشمیر میں زبان زد عام ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد، لاہور،جموں،امرتسر اور دہلی تک اس کا چرچاپہنچتا ہے۔دھند اس کی مشترکہ روایت ہے۔ کشمیر کے لداخ ریجن میں دراس ایسا علاقہ ہے جس کا درجہ حرارت منفی 40ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کی دوسری طرف یہ علاقہ سائیبیریا کے بعد دوسرا سرد ترین علاقہ ہے۔ سائیبیریا میں جب شدید سردی ہوتی ہے تو وہاں کے پرندے فرار ہو کر وادی کشمیر اور پنجاب کے میدانوں میں بھی آ جاتے ہیں۔ وادی میں ''ہوکر سر''، جھیل ڈل،نگین جھیل، جھیل ولراور دیگر جھیلیں ان مہمان پرندوں کی چہک سے گونج اٹھتی ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی ان مہمان پرندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ان پرندوں کے ساتھ دلفریب داستانیں وابستہ ہیں۔ سائیبیریا اور کشمیر کا تعلق قدیم لگتا ہے۔کبھی کڑاکے کی اس سردی کو کشمیری خوب انجوائے کیا کرتے تھے۔ برفباری۔ ہاتھ میں کانگڑی(دہکتے کوئلوں سے بھری مخصوص انگیٹھی)، فرن(چوغہ) زیب تن، سماوار(کشمیری تھرماس جس میں کوئلے دہکتے ہیں) کی چائے۔ سردیوں میں وادی میں تعلیمی اداروں کو اڑھائی ماہ کی تعطیل ہوتی ہے۔ یہاںکبھی چلہ کلاں کے جشن کا اہتمام ہوتا تھا۔ ایران میں آج بھی جشن بہاراں کی طرح چلہ کلاں منایا جاتا ہے۔ جشن کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں۔کشمیر میں چلہ کے ڈر سے'' دربار مو'' بھی کافی معروف ہے۔حکمرانوں کے دربار اور درباری سرینگر میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی اپنے دفاتر سمیت جموںفرار ہو جاتے ہیں۔ دہائیوں بعد بھی یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ سول سکریٹریٹ سے وابستہ دفاتر سرینگر سے 300کلو میٹر دور جموں میں جاتے ہیں۔ گرمیوںکے 6ماہ سرینگر میں اور سرما کے 6ماہ جموں میں۔ راجوں مہاراجوں کا مزاج اور روایات آج بھی کشمیر پر مسلط ہے۔ مگر موسم کی انگڑائی کے بعداب چلہ کلاں نے جموں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ جموں ، سیالکوٹ کا کبھی جڑواں شہر تھا۔ اب چلہ کلاں نے دربار مو کا جواز بھی ختم کر دیا ہے۔بھارت نے کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے بعد دربار مو کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ چلہ کلاں اب جموں ہی نہیں بلکہ دہلی، لاہور تک پہنچ گیاہے۔ پنجا ب بھی اس کی زد میں ہے۔انسان قدرت کے نظام میں خلل ڈالتا ہے۔موسم بدل رہے ہیں۔کیا پتہ،حضرت انسان اپنی حالت کب بدلے گا۔