مینڈھر//پی ڈی پی زون مینڈھر کی ماہانہ میٹنگ زیر صدارت محمد اعظم ساگر زونل صدر منعقد ہوئی جس میں پورے حلقہ انتخاب مینڈھر سے ڈیلی گیٹ اورورکروں نے شمولیت کی۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق میٹنگ میں مقررین نے کہا کہ علاقہ مینڈھر میں ایک طرف پانی کی سخت قلت ہے تودوسری جانب محکمانہ لاپرواہی اور غفلت شعاری نے حالات کو بد سے بدتر کر دیا ہے۔ علاقے میں محکمہ بجلی کی جانب سے غیر اعلانیہ کٹوتی،محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے ایم جی نریگا کی مزدوری کی ادائیگی میں تا خیر پر بھی ورکروں نے برہمی کا اظہار کیا۔انہوںنے ڈنہ شا ہستار میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کی منظوری کو پی ڈی پی حکومت کا ایک تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس کیلئے وزیر اعلیٰ کے شکر گزار ہیں۔انہوںنے کہاکہ خطہ پیر پنچال پر مرحو م مفتی محمد سعید اور موجودہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی شفیق نظریں ہیںاور یہاں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ پی ڈی پی کی دین ہے نہیںتوکچھ لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور نام پلیٹ اور ڈھول لیکر کر پہنچ جاتے ہیں۔اپنے خطاب میں ایڈووکیٹ محمد معروف خان نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ سال سے نیشنل کانفرنس نے ریاست جموں کشمیرمیں حکومت کی اوربڑے بڑے دعوے کرنے والے بتائیں کہ ساٹھ سال کے دوران این سی نے کون سے تاریخی فیصلے جات ،منصوبے اور عوامی مفاد کے امور کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔خان نے کہا کہ پی ڈی پی کی حکومت نے باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، مغل روڈ، آرپار تجارت،کالجوں کا قیام عمل میں لایا۔ان کاکہناتھاکہ جو لوگ ساٹھ سال میں بجلی کے کھمبے مہیا نہیں کرسکے ،وہ آج بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں جو محض سیاسی شعبدہ بازی ہے ۔انہوںنے ممبراسمبلی مینڈھر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یونیورسٹی حکومت وقت کی دین ہے جو ضلع بھر کے لوگوں کے مفاد میں ہے، یونیورسٹی کو لے کر بحث میں پڑنے کے بجائے بحیثیت سیاست کار سب کو اس علاقہ کی مزید ضروریات پر دھیان دینا چاہئے اور حکومت کے اچھے فیصلوں کی سراہنا کرکے پھر اگلا قدم مزید مشکلات کے حل کی طرف بڑھانا چاہیے۔اس موقعہ پر چار قراردادیں منظور کی گئیں۔